qad e ahzam

 (Transcribed by TurboScribe.ai - Go Unlimited to remove this watermark)


کیا آپ جانتے ہیں کہ قائد آزم کتنے امیر تھے اور ان کی نیٹ ورث کتنی تھی؟ آزادی کے ایک برس بعد جب بانی پاکستان کا جنازہ اٹھا تو اس کی فوری بعد ان کی تمام پروپرٹیز کو نیلان کرتے ہوئے پیسہ انڈیا کیوں بھی جوایا گیا تھا؟ قائد آزم نے اکلوتی بیٹی کو اپنی تمام تر جائدات سے بے دخل کر دیا تھا، تو پھر قائد آزم کی وسیعت کے مطابق ان کی جائدات کا حق دار کون ٹھیرا؟ جنوبی ایشیا کے دسویں امیر ترین انسان قائد آزم محمد علی جنہ نے اپنی آخری وسیعت میں کیا لکھا تھا؟ اور ہاں قائد آزم کے اکلوتی بیٹی کی اولاد میں اس وقت کون کون زندہ ہے؟ تو دوستو آج کی ویڈیو میں ہم قائد آزم محمد علی جنہ کی پروپرٹشنل اور پرائیوٹ لائف کے چند ایسے واقعات آپ کے ساتھ شیئر کریں گے جو شاید ہی آپ پہلے جانتے ہوں آپ دیکھ رہے ہیں الیکشن باکس اور میں ہوں کنزہ فرمان میرے انسٹا ایک آنک کا لنک آپ کو ڈسکرپشن میں مل جائے گا سو لیٹس پکن قائد آزم کا بنایا ہوا ملک پاکستان اپنے دور کے بدترین اکنومک کرائسس سے گزرا ہے اور یہ ابھی کی بات ہے کہ ہمارے سابق وزیراعظم شہباز شریف غیر ملکی امداد کے لیے ملکوں ملکوں کٹورا نے کر گھومتے رہے ہیں دوست ملکوں کی مانگے تانگے کی رکوں کو ملا کر اس وقت پاکستان کے زر مبادلہ کے زخائل کموں بیش چار ارب ڈالرز ہیں میری اگری بات سے شاید آپ کو چار سو چالیس والڈ کا جھٹکا لگنے کو ہے کیونکہ تائیس چوبیس کروڑ آبادی والے ملک کے پاس چار ارب ڈالرز کے ریزارز ہیں جبکہ اس کے برقس نسلی وادیہ نام کا یہ ایک شخص چار ارب ڈالرز سے زیادہ کے اساس جات رکھتا ہے نسلی وادیہ کا تارف یہ ہے کہ یہ معصوف بانی پاکستان قائدعظم محمد علی جناح کا سگا نواسہ ہے ہمارے ولک کی بدکسمتی دیکھئے کہ نسلی وادیہ پاکستانی نہیں بلکہ ہندوستانی شہری ہے قائدعظم کے والد پولڈا جناح لیدر کے بڑے وزنس مین اور مالدار انسان تھے یہی وجہ تھی کہ آج سے ایک سو سال پہلے جب نینانویں فیضت ہندوستانیوں کو اچھی تعلیم تو کیا گھروں میں روشنی وافر خوراک اور عام سہولیات تک میسر نہ تھی اس وقت قائدعظم تعلیم حاصل کرنے انگلینڈ گئے تھے وقاعت کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب قائدعظم انڈیا واپس آئے تو ان کا شمار بڑے وکلا میں ہونے لگا وہ ممبئی شہر کی بزنس کلاس کمیونٹی اور انیٹ کلاس فیملیز کے لیگل کنسلٹنٹ تھے قائدعظم محمد علی جناح کے سسر سرڈینشاہ پیٹٹ انڈیا کے امیر تریز انسان تھے بھارت میں ٹکسٹائل انڈسٹری کی بنیاد رکھنے والی پیٹٹ فیملی ہی تھی قائدعظم کی اہنیہ رتی جناح کی بھاوی رتن جی دادہ بھائی ٹاٹا کی بیٹی تھی اسی ٹاٹا گروپ کی مالحت آج بھی پورے پاکستان کے سالانہ بجٹ کے تین گناہ سے بھی زیادہ ہے قائدعظم ممبئی میں پریکٹس کیا کرتے تھے اور وہ اپنے دور کے مہنگے لائر تھے یہاں میں آپ کو بتاتے چلوں کہ انیس سو چھبس میں قائدعظم کا شمار جنوبی ایشہ کے دس امیر ترین افراد میں ہونے لگا تھا میں اپنے ایک ویڈیو میں قائدعظم اور رتی کی لف سٹوری سنا چکی ہوں کہ شادی کے بعد سر دینشاہ پیٹٹ نے عدالت سے رجوع کیا کہ مسٹر جناح نے بہلا پھوسلا پر ان کی معصوم بیٹی کو اغواہ کیا ہے اور میری بیٹی کی دورت کے حصول کے لیے اس سے شادی بھی کر لی عدالت میں جن جج صاحب نے قائدعظم سے پوچھا کہ کیا انہوں نے رتی پیٹٹ کو ان کے گھر سے اغواہ کیا ہے اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتے رتی اپنے شوگر کے دفاع میں کھڑی ہو گئی اور وہ پرجوش ہوکر بولی جناح نے مجھے اغواہ نہیں کیا بلکہ میں نے انہیں اغواہ کیا ہے قائدعظم نے اپنی وفات سے نو سال پہلے 1949 میں اپنے آخری وسیعت نامے کو مرتب کیا یہاں یہ بات اہم ہے کہ اس سے پہلے بھی قائدعظم اپنی وسیعت لکھ چکے تھے جس کی تمام کنڈیشنز کو آخری وسیعت نے مسترد کر دیا 1949 میں جب قائدعظم نے اپنی وسیعت لکھی تو ان کی عمر اس وقت 63 برس تھی قائدعظم نے اپنی بہن فاطمہ جناح اپنے جانسار ساتھی نیاکت علی خان اور ممبئی کے ایک وکیل کو عاملی نے وسیعت بنایا وسیعت کے مطابق قائدعظم نے ممبئی کے علاقے مالا بارہل میں واقع اپنا گھر بہن فاطمہ جناح کے نام کر دیا صرف گھر ہی نہیں موجود تمام فرنیچر چاندی کی برطن باقی تمام درسامان اور گاریاں بھی فاطمہ جناح کو دی گئی ہر مہینے دو ہزار روپے کی رقم محترم فاطمہ جناح کے لئے مختص کی گئی لیکن قائدعظم نے اپنے دو بہنوں اور ایک بھائی احمد علی جناح کے لئے ایک سو روپے مہانہ مقرر کیا قائدعظم نے اس وقت دو لاکھ روپے کی بڑی رقم اپنی اکلوتی بیٹی مختص کی جو ہر مہینے ایک ہزار روپے ان کو دی جاتی رہی لیکن قائدعظم کی پروپٹی کا کوئی بھی حصہ ان کی بیٹی کو نہ دیا گیا پچھلے کئی سالوں سے بھارتی میڈیا سے اکثر یہ خبریں سننے میں آتی رہتی ہیں کہ ہندو انتہا پسند جماعت شیف سنا کے گنڈو نے ممبئی میں واقع قائدعظم کے گھر کے باہر مظاہرہ کیا اور گھر میں گھسنے کی کوشش کی اور بٹوارے کی علامہ سمجھے جانے والے گھر کو نقصان کی کوشش کی جسے پولیس نے لا کام بنایا قائدعظم نے وسیعت میں یہ بھی نکا تھا کہ انیس سو انتالیس کے بعد جو بھی جائیدات بنے اس کے تین برابر حصہ کر کے انہیں تین مختلف تعلیمی داروں میں تقسیم کیا جائے انیس سو انتالیس میں جب قائدعظم محمد علی جلال کی وفات ہوئی تو پاکستان میں موجود ان کی تمام جائیدات کی مالیت لگائی گئی قائدعظم کی کل جائیدات کی مالیت نوے لاکھ روپے بنی جو کہ ایک بہت بڑی رقم تھی اگر ہم اس وقت سولے کی فی طولہ قیمت کا جائزہ لیں تو پچاس سے پشپن روپے میں ایک طولہ سولہ آ جاتا تھا تو اس حساب سے نوے لاکھ روپے کموں بیش ایک لاکھ اسی ہزار طولہ سولے کے برابر تھے جس کا معازنہ آج کی ریٹ سے کیا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ قائدعظم کی جائیدات کی قیمت آج کی حساب سے چالیس ارب روپے کے لگبک تھی قائدعظم کی وسیعت کی مطابق ان کی جائیدات کے تین حصے کیے گئے پہلا حصہ کراچی میں واقعہ سندھ مدرست الاسلام کو دیا گیا سندھ مدرست الاسلام ایشیا کی قدیم ترین درسگاہ ہے جس میں خود قائدعظم محمد علی جناہ کئی سال تک پڑھتے رہے واضح ہے کہ سندھ مدرست الاسلام کے بانی کا رام حسن علی آفندی تھا اسی حسن علی آفندی کی نوازی آصفہ علی زیداری کی والدہ تھی اٹھارہ سو پچاسی میں قائم ہونے والا سندھ مدرست الاسلام اس وقت ایک آلشان یونیورسٹی ہے اور ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے قائدعظم کے جائیدات کے تین حصوں میں سے دوسرا حصہ اسلامیہ کالج پشاور کو دیا گیا انیس سو تیرہ میں صاحب زادہ عبدالقیم خان نے اسلامیہ کالج پشاور کی بنیاد رکھی ہے اور یہ کالج اس وقت اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے نام سے جان آ جاتا ہے لیکن قائدعظم کی جائیدات کے تیسرا حصہ بھارتی ریاست ادھر پردیش میں واقعہ علی گر مسلم یونیورسٹی کو دیا گیا اٹھارہ سو پچاسی میں بننے والے محمد انگلو اورینٹل کالج کو انیس سو بیس میں علی گر مسلم یونیورسٹی کا نام دیا گیا سر سید احمد خان کی قائم کردہ علی گر مسلم یونیورسٹی اس وقت انڈیا کی ٹاپ یونیورسٹیوں میں شمار ہوتی ہے قائدعظم کے خاندان کے ساتھ انڈیا میں کتنا برا سلوک ہوتا رہا اس بات کا اندازہ آپ یوں لگانے کہ فاطمہ جناہ کے وفات کے بعد ان کا ممبئی میں واقعہ بنگلہ دینا جناہ کو نہیں دیا گیا بلکہ بھارتی سرکار اس پر قابض ہو گئی دینا جناہ نے سابق بھارتی رضی عظیر اعظم من موغن سنگھ سے درخواست کی تھی کہ میرے والد کی انتقال کو ساٹھ برس کا عرصہ بیٹھ چکا ہے اور میں اب تک اس گھر سے محروم ہوں جہاں میں پھلے بڑی اور اپنی شادی تک اپنے والد کے ساتھ وقت ہزاراں لہٰذا یہ گھر مجھے لوٹا دیا جائے تاہم دینا کے زندگی میں یہ گھر نہ ہو رہ سکا خائد کی اکلوتی بیٹی دینا جناہ سال اور دو ہزارہ سترہ میں اٹھانویں برس کے عمر میں نیویرک امریکہ میں فوت ہوئی کہا جاتا ہے کہ خائد اعظم کے مالا بار ہل ممبئی والے گھر میں اس بات دی ان کے نام سے وسول ہوتے ہیں خائد اعظم محمد علی جناہ کے ممبئی والے گھر کے علاوہ دلی میں بھی ان کا گھر موجود ہے جو وہ دس اور اگزے بروڈ پر واقع ہے یہ گھر اس وقت بھی زیر استعمال ہے اور غیر ملکی سفارتی عملاء اس گھر میں رہتا ہے کتابوں میں یہ تحریر ہے کہ دینا وادیہ کی ایک بیٹی اور دو بیٹے پیدا ہوئے بیٹوں کے نام نسلی وادیہ اور جمشید وادیہ رکھے گئے یاد رہے کہ جمشید وادیہ کو فیملی کی لوگ آن نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ آپ نے سنا ہوگا کہ خائد اعظم کا ایک ہی سگاہ نواسہ نسلی وادیہ ہے نسلی وادیہ نے ایک ایئر ہوسٹس ماروین سے شادی کی جو ماضی میں مس انڈیا کے مقابلوں میں حصہ لے چکی ہے خائد اعظم کی اکروت نواسہ نسلی وادیہ اسیس سال کے ہونے والے ہیں ان کا شمار ممبئی شہر کے بڑے انڈسٹریلسٹ میں ہوتا ہے ان کے دو بیٹے ہیں بڑے بیٹے کا نام جہانگیر وادیہ جبکہ چھوٹے بیٹے کا نام نیس وادیہ ہے جہانگیر وادیہ ممبئی کی بڑی کاروباری شخصیت ہیں جو وادیہ گروپ آف کمپنیز چلاتے ہیں پوری انڈیا میں ان کی کئی ٹیکسٹائل ملز ہیں اور ممبئی ڈائنگ کے نام سے ان کی ایک کمپنی ہے جہانگیر وادیہ گو ائر کے نام سے ایک پرائیوٹ ائر لائن چلاتے ہیں جس میں سو سے زیادہ ائر بسز ہیں انہوں نے ایک ہوسٹرس سیلینا وادیہ سے شادی کی ہے جہانگیر وادیہ کے چھوٹے بھائی اور قائدعظم کے پڑ نواز سے نیس وادیہ بھی بلینئر ہے مارک کی مشہور کرکٹ سیریز آئی پیل سے تو آپ سب واقع ہوں گے نیس وادیہ آئی پیل کی ٹیم کنگز 11 پنجاب کے مارک ہیں جبکہ بالی گوڑ کی مشہور ادھکارہ پریتی زندہ ان کی پارٹنر ہے گزشتہ کئی سالوں سے پریتی زندہ اور نیس وادیہ کے درمیان محبت اور کیمسٹری انڈین ٹی وی جنرلز پر دکھائی جاتی رہی ہے نیس وادیہ کی والدہ کی جانب سے دونوں کے شادی کی خواہش کا بھی اظہار کیا گیا دونوں میں شادی تو نہ ہو سکی بہرحال دونوں ایک دوسرے کے بزنس پارٹنر ہے قائدعظم کے دادہ پونجا بھائی کے تین بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی سب سے بڑی بیٹی اور اکلوتی بیٹی مان بھی بڑے بیٹے وال جی منجلے بیٹے ناثو بھائی اور چھوٹے بیٹے کا نام جنہ پونجا تھا قائدعظم کے والدہ مزرگوار کا نام جنہ پونجا تھا جنہ خوجہ نسل کے آگہ خانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو ملتان سے حیجت کرکے کاثیہ وار میں آکر رہنے لگے جنہ پونجا کی شادی شیرین بیبی سے اٹھارہ سو چوہتر میں ہوئی شیرین بیبی اپنے گھرانے میں میٹھی بائی کے نام سے پکاری جاتی تھی ان کے ہاں سات بچوں کی پیدائش ہوئی جن کے نام محمد علی، رحمت علی، مریم، احمد علی، شیرین، فاطمہ اور بند علی رکھے گئے قائدعظم کے بڑی بہن رحمت بائی جن کی کلکتہ شادی کرائی گئی تھی اس کے بعد مریم بائی اور ان کے بعد احمد جنہ تھے جن کا ممبئی میں انتقال ہوا ان کی شادی ایک فرس خاتون احمی سے ہوئی تھی ان کی ایک ہی بیٹی فاطمہ پیدا ہوئی قائدعظم کی تیسری بہن شیرین بائی کی شادی ایک اسماعیت ہو جا جعفر بھائی سے تیپ آئی شیرین بائی کا اکلوتا بیٹا اکبر جعفر کراچی مہتا پیلس میں رہا کرتا تھا قائدعظم کے بھانجے اکبر جعفر کی کوئی اولاد نہ ہوئی قائدعظم کی سب سے چھوٹی بہن فاطمہ جنہ نے بھی شادی نہیں کی تھی میں امید کرتی ہوں کہ آج کے ویڈیو آپ کو پسند آئی ہوگی اگر آپ صابق وزیراعظم شہباز شریف کی پانچ شادیوں اور بچوں کے حوالے سے مکمل ڈاکیومنٹری دیکھنا چاہتے ہیں تو یہاں اوپر کلک کریں جنرل آسیم منیل کی کہانی کے لیے یہاں نیچے اور بشرا مانیکا کی بائیو گرافی آپ کو یہاں ملے گی ویڈیو کو لائک اور شیئر کریں لکشن بوکس سبسکرائب کریں اور ہماری ویڈیوز دیکھتے رہیں اللہ حافظ و ناصر


(Transcribed by TurboScribe.ai - Go Unlimited to remove this watermark)

Post a Comment

0 Comments