(Transcribed by TurboScribe.ai - Go Unlimited to remove this watermark)
کیا آپ جانتے ہیں کہ آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل حمید گل مولانا عاظم تارک کو اسلام کا جرنیل کیوں کہتے تھے؟ میہولی جیل کی کالکوٹری میں قید عاظم تارک نے کیسے علامہ تاہل القادری کو الیکشن میں شکست دی؟ جیل کی سلاخوں میں قید مولانا عاظم تارک جب ایم این نے بنے تو انہوں نے عمران خان کی طرح مولانا فضل الرحمان کو وزیراعظم کا ووٹ کیوں نہ دیا؟ کس مشہور شیعہ رحمان نے برکہ پہن کر مولانا عاظم تارک پر قاتلانہ حملہ کیا تھا لیکن وہ بچ نکلے؟ اور ہاں اپنی زندگی کے برس ہے برس، حوالات، جیلوں، عقوبت خانوں اور کالکوٹریوں میں گزارنے والے عاظم تارک کے بعد ان کی سیاست کو کون لے کر چل رہا ہے؟ آج کی ویڈیو میں اڑھائی مرلے کے گھر میں رہنے والے سابق ایم این مولانا محمد عاظم تارک کے ایسے ہی بیس فیکٹس شیئر کیے جائیں گے جو ان کے ساتھ دفن ہو گئے آپ دیکھ رہی ہیں الیکشن باکس اور میں ہوں کنزہ فرمان میرے انسٹا اکاؤنڈ کا لنک آپ کو دے دیتا ہے سو لیٹس بیگن مولانا عاظم تارک پاکستان کی چوہتر سالہ سیاسی ہسٹری کے وہ اکلوتے سیاست دان تھے جنہوں نے جیل میں رہتے ہوئے اپنے نومینیشن پیپرز جمع کروائے وہ انتخابی مہم کے دوران جیل میں قائد رہے اور وہ جیل میں بیٹھ کر ایم این نے منتخب ہوئے مولانا عاظم تارک پر کئی مرتبہ جان لیوہ حملے بھی ہوئے کبھی لاہور سیشن کورٹ میں ریمارڈ کنٹرول بم دھماکے کبھی گولیاں تو کبھی روکیٹ لانچرز اور ہینڈ گرنیڈ سے ان پر وار کیے گئے ان پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کی تعداد 22 کے قریب بنتی ہے وہ بعض حملوں میں شدید زخمی بھی ہوئے لیکن ہر بات ان کی جان بچ جاتی تھی مولانا عاظم تارک پر 65 کے قریب مقدمات قائم تھے جن میں سے نصف مقدمات دہشت گردی سے متعلق تھے وہ اپنے زندگی میں جھنگ، فیصلہ باد، بہاولپور، اٹک، ولتان، چونک سنٹر لاہور، راولپنڈی، کورٹ لکپت لاہور اور میانوالی کی جیلوں میں قائد رہے مولانا عاظم تارک کے سپورٹرز کی جانب سے بارہا ان کی فیصلہ باد تقریر کا ذکر کیا جاتا ہے مولانا عاظم تارک نے فیصلہ باد کے دھوپی گھاٹ گراؤنڈ میں ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا ان کی مخالفین نے جلسے پر گولیوں کی بوچھار کر دیں، گولیاں بھی چلتی رہیں اور مولانا صاحب اپنی تقریر بھی کرتے رہے یہ تقریر آج بھی یوٹیوب پر موجود ہے مولانا عاظم تارک خود بتایا کرتے تھے کہ جب میں میانوالی کی کالکوٹری میں بند تھا جہاں ہمیں معلوم نہیں ہوتا تھا کہ باہر دن ہے یا رات، تب ہم جیل کی عملے سے پوچھا کرتے کہ یہ تو بتا دو کہ اس وقت کون سی نماز کا ٹائم ہوا ہے مولانا عاظم تارک کو سپاہِ صحابہ کی جماعتِ اسلامِ جرنیل کہا جاتا تھا 1993 میں علامہ مرید عباس یزدانی اور غلام رزا لقوی نے مل کر سپاہِ محمد کے نام سے ایک ملٹنٹ آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی تو انہوں نے غازی عباس کے علم پر ہاتھ رکھ کر اور امام زامن باندھ کر قسم اٹھائی کہ ہم گستاخِ امام زمانہ عاظم تارک کو قتل کر کے دم لیں گے نامور صحافی جواد فیضی بتاتے ہیں کہ میں نے ایک روز مولانا عاظم تارک کو فون کیا تو مولانا انہوں نے بتایا کہ ابھی ابھی مجھ پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے اور میرے ایک ساتھی کو گولی لگی ہے ہم پر حملہ کرنے والی برکہ پوش خواتین تھی غلام رزا نقویوی برکہ پہن کر انہی خواتین میں شامل تھا جوابی کاروائی پر اس کی ٹانگ میں گولی لگی جس کے بعد تمام حملہ آور بھاگ نکلے مولانا عاظم تارک کراچی ناغن جورنگی پر واقعہ جامع مسجد صدیقی اکبر میں خطابت و امامت کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے پنجاب کے شہر جھنگ کی ایمین نے مولانا محمد عثار القاسمی کی قتل کے بعد مولانا عاظم تارک کو ان کا جانشین مقرر کیا گیا اور وہ کراچی سے جھنگ شفٹ ہو گئے یہاں انہیں اڑھائی مرنے کا مکان دیا گیا جہاں آج بھی ان کی فیملی رہتی ہے مولانا عاظم تارک کو ان کی جماعت نے 1992 کے زمنی الیکشن میں اتارا ان کا مقابلہ حکومتی امیدوار شیخ محمد یوسف سے تھا حکومت مشنری کے برپور استعمال کے باوجود بھی مولانا عاظم تارک نے اپنے مخالف کو سات ہزار ووڈوں کے فرق سے شکست دی اور یوں مولانا پہلی بار قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے مولانا عاظم تارک 1993 کے جنرل الیکشن میں دوسری مرتبہ انتخابی اکھارے میں اترے اب کی بار ان کا مقابلہ سابق ایمن نے نواب امان علی اللہ خان سیعال اور شیخ محمد اقبال سے تھا متحدہ دینی محاذ کے مولانا عاظم تارک نے اپنے مخالفین کے چوبیس اور چھتیس ہزار ووٹوں کے بدلے میں پچپن ہزار ووٹ حاصل کی اور مسلسل دوسری بار اسلام آباد کے پارلیمان تک پہنچے مولانا عاظم تارک گرجدار آواز رکھتے تھے وہ جب اسمبلی میں بولدے تھے تو آواز میں اتنی گرج ہوتی تھی کہ پارلیمنٹ کا شون بھی سناٹا لگتا تھا 1997 کے جنرل الیکشن میں ہر طرف مسلم نیگ نواز کی فضاء بن چکی تھی ایسے میں مولانا عاظم تارک نون لیگ کے امان علی اللہ خان سیعال سے چودہ ہزار ووٹوں کے مارجن سے شکست کھا گئے اور پارلیمنٹ تک نہ پہنچ پائے لیکن انہیں صبائی اسمبلی کی سیٹ سے کوئی شکست نہ دے سکا اور وہ امپیہ بننے میں کامیاب ہو گئے مولانا عاظم تارک نے 2002 میں جب اپنی زندگی کا آخری الیکشن لڑا تب وہ میاوالی جیل میں قید تھے پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ قومی اسمبلی کی امیدوار نے جیل سے ہی اپنے نومینیشن پیپرز فائل کیے اور الیکشن بھی جیل کی سلاکوں کے پیچھے رہ کر لڑے اس الیکشن کی کیمپین کے لیے مولانا عاظم تارک نے جیل سے اپنے حلقے کی عوام کے نام اوپن لیٹر یعنی کھلا خطر تحریر کیا تھا مولانا صاحب کے سپورٹرز نے اس خط کی فوٹو کاپیاں اور پرنٹنگ کروا کر اسے گلی گلی پہنچایا مولانا عاظم تارک کے مدد مقابل پاکستان عوام تحریک کے سروراد ڈاکٹر علامہ تاہر القادری اور نیشنل الائنز کے شیخ وقا سکرم تھے مخالفین کے بل ترتیب چونتیس اور اکتیس ہزار ووٹوں کے بدلے میں مولانا صاحب کے بیلٹ بوکس میں اکتالیس ہزار چار سو پچیس ووٹ پڑے اور وہ تیسری مرتبہ ایمن نے بن کر پارلیمنٹ کی رہ داریوں تک پہنچے دو ہزار دو کے عام انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی میں وزیراعظم کی الیکشن میں میر زفر اللہ خان جمانی اور مولانا فضل الرحمان عامنے سامنے تھے تب مولانا عزم تاریخ نے مذہبی شخصیت مولانا فضل الرحمان کی بجائے میر زفر اللہ خان جمانی کو وٹ دیا اور انہیں کے ایک لوٹے ووٹ کی وجہ سے میر زفر اللہ خان جمانی وزیراعظم پاکستان بن پائے یاد رہے کے تب پہلی بار ایمن نے بننے والے عمران خان نے وزیراعظم کا ووٹ مولانا فضل الرحمان کو دیا تھا مولانا عظم تاریخ کے جانب سے مولانا فضل الرحمان کو ووٹ نہ دیا جانے کی وجہ یہ بتائی گئی مولانا صاحب نے مذہب کے نام پر بنائے سیاسی اتحاد متحدہ مجلسِ عمل میں شیعہ رہنما ساجد علی نقوی کو شامل کیا ہوا ہے جنرل حمید گل پاکستان میں دیندار حلقوں میں ہمیشہ ہی فیورٹ تھے دیوبندی برینوی یا اہلِ حدیث ہر ایک مسلک کے لوگ ان کی تکریم کرتے حمید گل کے صاحب جادے عبداللہ حمید گل ایک واقعہ سناتے ہیں کہ میرے بچپن میں راجہ بازار راولپنڈی سے مولانا عاظم تارک کا کافلہ گزر رہا تھا میں اپنے والد سے پوچھنے لگا کہ یہ کون ہے تو انہوں نے بتایا بیٹا جیسے تمہارا باپ فوج کا جنرل حمید گل ہے ویسے ہی یہ اسلام کا جنرل عاظم تارک ہے مولانا عاظم تارک کے قریبی ذاتیوں کے مطابق مسجد نبوئی کے امام الشیخ عبدالرحمن الہزیفی نے ان کے جسم پر زخموں کے نشانات کی وجہ سے ان سے فرمایا انتا کمسلو خالد بن ولید یعنی آپ تو خالد بن ولید کی طرح ہیں کیونکہ خالد بن ولید کے جسم پر بھی سو سے زائد زخم تھے تین مرتبہ ایمن نے بننے والے مولانا عاظم تارک کے کالیگز میں نواز شریف بنظیر بھٹو عمران خان شیخ رشید احمد نواب زادہ نسل اللہ خان مخدوم جاوید ہاشمی چودر شجاد میر زفر اللہ خان جمالی اجاز الحق مولانا عبدالسطار خان نیازی اور چودر نصار علی خان سمیت کئی سیاسی لوگ شامل تھے مولانا عاظم تارک کی عابدہ حسین صید فخر امام فیصل صالح حیات اور ریاض حسین پیرزادہ سے مخالفت چلتی رہتی تھی یاد رہے کہ مولانا عاظم تارک ریاض پیرزادہ کے والد ڈبا پیر کے ختل میں ملزن نامزد کیے گئے اور انہیں کورٹ لکپت جیل میں کڑا وقت جھیلنا پڑا انہوں نے اپنی زیادہ تر کتابیں جیل میں بیٹھ کر نکھی جن میں خطبات جیل میرا جرم کیا ہے اور ٹوٹ گئی زنجیر زیادہ مشہور ہے مولانا عاظم تارک نے اپنی دینی تعلیم کراچی کے مدارس سے حاصل کی انہوں نے سال انیس سو چارہسی میں بنوری ٹاؤن کے مشہور جامعہ سے درس نظام میں مکمل کی وہ یونیورسٹی کی امتحانات میں پرائیویٹ امیدوار اپیئر ہوئے اور انہوں نے عربی اور اسلامیات میں ماسٹرز کے نگریہاں حاصل کی اٹھائیس مارچ انیس سو اکسٹھ کے روز شیشہ وطنی کی راج پتہ منج برادری میں پیدا ہونے والے مولانا محمد عاظم تارک چھہ اکتوبر دوہزار تین بروز پیر خومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جھنک سے اسلام آباد آ رہے تھے کہ گولڑا ٹول پلازا کے نزدیک چند شرپ پسندوں کی جانب سے ان پر فائرنگ شروع کر دی گئی اوٹومیٹک اصلی سے ان لے سفراد نے دو سو کے قریب گولیاں چلائیں جن میں سے چالنس گولیاں مولانا عاظم تارک کو لگیں اور وہ اپنے تین محافظوں سمیت اس دنیا سے چل بسے وفاد کے وقت ان کی عمر ایک تالیس برس تھی نماز جنازہ اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے سامنے پڑھائے گئے جس میں قومی اسمبلی کے سپیکر اور عراقین اسمبلی کے علاوہ عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی پھر ان کی معید کو خصوصی ہیلیکوپٹن کے ذریعے جھنک لائے گیا تب شہر میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات لی گئی اور کئی روز تک پاک آرمی کے دستے گشت کرتے رہے جھنک میں مولانا عاظم تاریخ کی نماز جنازہ اسلامیہ ہائی سکول میں عدا کی گئی جس کے بعد انہیں سٹیلائٹ ٹاؤن جھنک میں واقعہ جامعہ محمودیہ میں سپردے خاک کر دیا گیا ان کے بڑے بیٹے مولانا محمد معاویہ عاظم جھنک سے رکنے پنجاب اسمبلی منتخب ہو چکے ہیں چھوٹے بیٹے مولانا انیس عاظم بھی سیاسی و سماجی شخصیت ہے مولانا عاظم تاریخ کے چھوٹے بھائی مولانا عالم تاریخ بھی قومی سمبلی کا الیکشن لڑ چکے ہیں یاد رہے کہ مولانا عالم تاریخ گزشتا کئی سالوں سے لا پتہ ہے آئی اوپ آپ ہماری آج کی ویڈیو کو پسند کرتے ہوئے اپنے دوست احباب اور ہم خیال لوگوں تک شیئر کریں گے جنگ کی سیاسی و مذہبی شخصیت مولانا حق نواز پر ایکسکلوسیو دوکیمنٹری دیکھنے کے لیے آپ یہاں اوپر کلک کر سکتے ہیں مولانا عزارالقاسمی کے بائیوگرافی کے لیے یہاں نیچے اور علامہ احسان الہی زہیر کے فیب صاحب کو یہاں ملیں گے الیکشن بوکس سبسکرائب کرنے ملتے ہیں کسی نئے اپیسوٹ میں اپنا خیال اور مجھے دعاوں میں یاد رکھے اللہ حافظ و ناصر
(Transcribed by TurboScribe.ai - Go Unlimited to remove this watermark)

0 Comments