یہ لو تمہارے ابو کا فون ہے۔اور خبر دار جو ہاسپٹل کا کوئی ذکر کیا تو ۔ مرتضیٰ ماہ رخ کو موبائل پکڑاتے ہوئے بولا۔ اسلام و علیکم بابا جانی! ماہ رخ خوشی سے سب بھول گئی تھی کیونکہ اسے اپنے بابا سے بات کر کے دنیا کے سب غم بھول جاتے تھے۔ وعلیکم السلام میری جان کیسی ہو؟ بابا اسکی خوشی سے سمجھے سب ٹھیک ہی ہے تو وہ خوش ہے ۔ مرتضیٰ نے اسے آنکھیں گھورتے ہوئے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو کہ بولو ٹھیک ہے سب۔ جی بابا جانی سب ٹھیک ہی ہے آپ کیسے ہیں؟ امی جان ،آیات اور طیب سب ٹھیک ہیں نا؟ جی بیٹا سب ٹھیک ہیں بس تمھاری امی جان کا دل کہہ رہا تھا کہ ماہ رخ کسی مشکل میں ہےٹھیک تو کہہ رہا ہے انکا دل میں کب خوش ہوں؟ ماہ رخ آنکھوں سے بہتے آنسوں کو صاف کرتے ہوئے دل میں بولی۔ چلو بند کرو اب آئسکریم پارلر آگیا ہے۔ مرتضیٰ کار کو بریک دیتے ہوئے بولا۔ جی ابو جی ھم باہر کھانا کھانے آئے ہیں تو گھر جا کر بات ہو گی۔ ماہ رخ نے کال کاٹ کر موبائل مرتضیٰ کی طرف بڑھایا۔ مرتضیٰ کار سے کر باہر نکل آیا مگر ماہ رخ ابھی بھی اندر ہی بیٹھی تھی۔ اوووہ مائی ڈارلنگ یو آر سو مچ ویک۔ مرتضیٰ نے جب دیکھا کہ لاک کو کھول نہیں پا رہی تو اس نے ماہ رخ کو باہر آنے میں مدد دی مرتضیٰ ماہ رخ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں ایسے تھام کے چل رہا تھا جیسے اس جیسا کوئی عاشق آج تک نہیں پیدا ہوا۔ آئسکریم پارلر پہنچ کر وہ اسکو چئیر پر بیٹھا رہا تھا تبھی وہاں پر موجود لوگوں نے اس کی طرف مشکوک نگاہوں سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ۔ماہ رخ سب کو اپنی اور مرتضیٰ کی طرف اس طرح دیکھتے ہوئے سمجھ گئی کہ مرتضیٰ پھر سے غصے میں نہ آجاے روکیں مرتضیٰ! ماہ رخ اپنی چئیر سے اٹھ کر ( یعنی اسکے سامنے سے اٹھ کر) اسکے ساتھ آکر بیٹھ گئی ۔ اور اب ماہ رخ نے مرتضیٰ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اسکی آنکھوں میں دیکھا۔ وہ یہ سب کرنا تو نہیں چاہتی تھی مگر لوگوں کے اس انداز کی وجہ سے اس نے مرتضیٰ کو لوگوں کی طرف دھیان نہیں جانے دیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مرتضیٰ کسی کو کچھ نہیں بولے گا بلکہ گھر جا کر اس پر درندے کی طرح برس پڑے گا۔ مائی ڈارلنگ! میں جانتا تھا تمھیں ایک نہ ایک دن مجھ سے محبت ہو جائے گی۔ مرتضیٰ نے ماہ رخ کا سر اپنے سینے پر رکھ کر اسکی گال پر انگلیاں پھیرتے ہوئے بولا۔ آخر نکاح میں ہوں آپکے کیسے ممکن ہے کہ محبت نا ہو آپ سے؟ وہ اسکے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کر بولی۔ ویٹر دو کپ آئسکریم کے مرتضیٰ نے پاس سے گزرتے ویٹر کو دیکھ کر بولا۔ جی صاحب جی یہ لیں ویٹر نے ٹرے مرتضیٰ کی ٹیبل پر لا کر رکھ دیا۔ چلو ڈارلنگ اٹھ جاؤ اب۔ وہ ماہ رخ کو خود سے دور کرتے ہوئے بولا۔ مرتضیٰ نے آئسکریم کھانی شروع بھی کردی مگر ماہ رخ منہ پھلا کر بیٹھ گئی۔ ارے ڈارلنگ کیا ہوا تم کیوں نہیں کھا رہی؟ مرتضیٰ نے اسکے کپ کی طرف دیکھ کر بولا ۔ آپ صرف باتوں کی محبت کرتے ہیں مجھ سے اور کچھ نہیں ماہ رخ طنزیہ انداز میں بولی۔ نہیں جان من ایسا کس نے کہا؟ تو آپ نے مجھے کیوں نہیں کھلایا پہلے اپنے ہاتھ سے؟ خود کیوں کھایا؟ وہ مرتضیٰ سے شکایت کر رہی تھی۔ سوری ڈارلنگ!بہت بھوک لگی تھی اس لیے بھول گیا چلو آؤ اب کھلا دیتا ہوں۔ نہیں اب مجھے نہیں کھانی ماہ رخ ہنسی کو دباتے ہوئے بولی۔ افففف جان من آؤ میں کھلاؤں مرتضیٰ نے اسے ساری آئسکریم اپنے ہاتھ سے کھلائی۔ گھر میں داخل ہوتے ہی راحیلہ نے ماہ رخ سے پوچھا بی بی جی اب طبیعت کیسی ہے؟کمرے میں بلکل اندھیرا اور سکون تھا۔شاید مرتضیٰ بھی سو چکے ہیں۔ ماہ رخ سیدھی لیٹ کر پنکھے کی طرف دیکھ کر سوچ رہی تھی ۔ چاروں طرف سکون ہی سکون تھا پھر بھی اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ ماہ رخ سو جاؤ اس سے پہلے کے میرے جذبات جاگ جائیں۔ مرتضیٰ ماہ رخ کے سینے پر اپنا بازو رکھ کر بولا۔ ماہ رخ ابھی اس کے بازوں کی شدت محسوس کر رہی تھی۔ کے مرتضیٰ نے اپنی ٹانگیں اسکی ٹانگوں پر رکھ دی ۔ پلیز پیچھے ہٹیں ماہ رخ دبی آواز میں بولی۔ جان من پیار کر رہا ہوں ڈرتی کیوں ہو؟ میرا ارادہ ہے کہ ہم دو جسم مل کر ایک نیا وجود اس دنیا میں لائیں ماہ رخ کے لبوں کو چومتے ہوئے مرتضیٰ بولا۔ اسکے نیک ارادے جانتے ہوئے ماہ رخ نے آہ بھری۔ کیا ہوا ڈارلنگ؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟ مرتضیٰ آپ مجھے اپنے وجود سے دور کریں پہلے میرا سر درد کر رہا ہے پھر کبھی پیار کر لینا ابھی مجھے آرام کی طلب ہے ۔نا کے پیار کی ارسلان یہ دیکھو میں تمھارے پسند کے شوز لایا ہوں ۔ ارسلان کہاں ہو تم؟ رافع اسکے کمرے میں اسے تلاش کرتے ہوئے بولا ارسلان کہا ہو تم؟ ابھی وہ کمرے سے باہر آہی رہا تھا کہ ارسلان سیڑھیاں چڑھتے ہوئے دیکھائی دیا۔ کیا ہوا بے عقل بھینس ارسلان رافع کی طرف دیکھ کر بولا۔ پہلے تو میں تمہیں یہ بتا دوں کے یہ میرا گھر ہے تو زرا احترام سے پیش آیا کرو مجھ سے رافع اپنے کالر کو سیدھا کرتے ہوئے بولا۔ آپکی اس دو روپے کی بکواس نے دل جیت لیا میرا ارسلان نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ ارے یار تم تو ناراض ہو رہے ہو ۔ نہیں ہم کون ہوتے آپ سے ناراض ہونے والے ارسلان history کی کتاب منہ پر رکھ کر بولا۔ لگ تو رہا ہے کہ تم ناراض ہو ۔ نہیں تم کام بتاؤ یہ شوز کیوں لائے ہو؟ اب کس کے ساتھ date پر جانا ہے تم نے۔ جو مجھے لالچ دینے آئے ہو؟ اوووہ تو اب تمہیں میرے ارادے اچھے سے معلوم ہیں۔ رافع اپنے چہرے کو اپنے ہاتھ میں لے کر بولا۔ تو بات یہ ہے کہ میری انسٹاگرام والی دوست کل آرہی ہے مجھ سے ملنے تو مجھے تمہاری مدد چاہیے پلیز انکار نہیں کرنا ۔ رافع ارسلان کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔راحیلہ ناشتے میں پراٹھے اور آملیٹ بنا دو آج۔ میں جب تک واک پر جا رہا ہوں۔ اور ہاں گرین ٹی مت بھول جانا۔ سورج کی کرنوں نے ماہ رخ کو جگا دیا تھا۔ وہ فریش ہو کر نیچے آئی۔ مگر یہ کیا مرتضیٰ آج ناشتے کے بغیر کیسے چلے گیے راحیلہ خالہ مرتضیٰ آفس چلے گیے کیا؟ وہ فریج سے پانی کی بوتل نکالتے ہوئے بولی نہیں بی بی جی وہ واک پر گئے ہیں بس آتے ہی ہونگے۔ تو کیا مرتضیٰ شادی سے پہلے بھی واک پر جاتے تھے؟ وہ کچن میں پڑی کرسی کو گھسیٹتے ہوئے اس پر بیٹھ کر راحیلہ سے پوچھ رہی تھی۔ ہاں بی بی جی صاحب پہلے روز واک پر جاتے تھے مگر شادی کے بعد پتہ نہیں کیوں جانا چھوڑ دیا۔ کیسے جائیں گے وہ واک ابھی ماہ رخ سوچ ہی رہی تھی کہ مرتضیٰ کی آواز آگئی۔ راحیلہ ناشتہ لے آؤ اور ماہ رخ کو بھی جگا آؤ۔ ماہ رخ کو ناشتے کی ٹرے لاتے دیکھ کر مرتضیٰ مصنوئی مسکرایاآج اتنی جلدی کیسے اٹھ گی ڈارلنگ؟ وہ پہلا لقمہ منہ میں ڈالتے ہوئے ماہ رخ کو دیکھ کر بولامرتضیٰ مجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔ ماہ رخ نے شادی کے بعد پہلی بار مرتضیٰ سے خود کچھ کہنا چاہ تھا ۔ بولو جان کیا ہوا؟ اگر آپ نے انکار کردیا تو؟ ماہ رخ سنجیدہ ہوتی بولی۔ تم بولو کیا چاہیے؟ میں یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتی ہوں۔ پلیز انکار نہیں کرنا پلیز بہت امید سے آئی ہوں مرتضیٰ میں جانتی ہوں کہ آپکے لیے یہ مشکل ہے مگر میری امید کو نہیں توڑنا پلیز وہ اسکے ہاتھ کو پکڑ کر بولی مجھے کچھ وقت دو سوچنے کا۔ مرتضیٰ اس میں سوچنا کیسا؟ مرتضیٰ نے ناشتے کو ادھورا چھوڑا اور اٹھ کر ماہ رخ کے بالوں کو مضبوطی سے جکڑ لیا۔ تم اس لائق نہیں ہو کے تم سے پیار سے بات کی جائے۔ مرتضیٰ چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے۔ ماہ رخ کو چئیر سے نیچے پھینک کر مرتضیٰ خود آفس کے لیے باہر نکل آیا تھا خالی شوز ووز سے کام نہیں چلے گا مسٹر رافع عدیل ۔ ارسلان نے طنزیہ انداز میں رافع سے کہا۔ تو اور کیا چاہیے تمہیں؟ بھائی ہوں تمہارا مشکل میں ایسا کرو گے رافع اداس ہوتا ہوا بولا ۔ ہم نے جو کہنا تھا کہہ چکے ہیں اب آگے آپکی مرضی ہیں جناب۔ اچھا تو بولو کیا چاہیے اور تمہیں؟ یہ جو تمھارے ہاتھ میں ارسلان نے جملہ ابھی مکمل نہیں کیا تھا کہ رافع نے اسکا گریبان پکڑ لیا۔ ارے چھوڑو مجھے پاگل ہو گئے ہو کیا ۔ تمہیں معلوم ہے نا کہ میں کسی کی تحفے میں دی ہوئی چیز تمہیں نہیں دے سکتا۔ تو مسٹر رافع آپ بھی کان کھول کر سن لیں میں بھی کسی کے پیچھے اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کرتا۔ وہ رہا باہر جانے کا راستہ آپ جا سکتے ہیں ۔ ارسلان نے رافع کو ہاتھ کے اشارے سے دروازا دیکھایا۔مشکل میں گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے رافع بیٹا ابھی گھڑی اسے دے دے بعد میں واپس لینا تو تیرا چٹکی کا کام ہے رافع دل ہی دل میں خود سے باتیں کرتے ہوئے بولا۔ ارسلان نے رافع کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے کہا ۔ کیا ہوا بھئی جاؤ نا باہر۔ لے یار کیا یاد کرے تو بھی کسی رافع سے واسطہ پڑا تھا۔ رافع نے گھڑی اتار کر ارسلان کی طرف بڑھا دی ۔ یہ ہوئی نا بات ارسلان نے جھٹ سے گھڑی اس سے لے کر اپنے ہاتھ میں پہن لی ۔ اور ہاں یاد رہے ہمیں ہمیں pick and drop دونوں تم کرو گے۔ جو حکم میرے آقا ارسلان نے اپنا بایاں ہاتھ کمر پر اور سیدھا ہاتھ سینے پر رکھ کر اپنے سر کو جھکا کر رافع کو بولا۔ بی بی جی دروازا کھولیں نا۔ رات ہوگئی ہے اور دیکھیں ابھی تک صاحب جی بھی نہیں آئے۔ بی بی جی راحیلہ مسلسل دروازے پر شور کر رہی تھی۔ مگر اتنے شور کے باوجود بھی اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ مجھے معاف کرنا ماہ رخ مگر میں تمہیں یونیورسٹی کے لیے اجازت نہیں دے سکتا مرتضیٰ کار میں ڈرائیونگ کرتے ہوئے خود سے مخاطب ہو رہا تھا۔ ایک دم اس کی نظر گجروں کی دکان پہ پڑی ماہ رخ کو پسند ہی ہونگے چلو میں یہ دے کر اسے منا لوں نگا ۔ مرتضیٰ نے جلدی سے گجرے لے کر ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی ۔ کیا ہوا راحیلہ خالہ؟ آپ اس طرح کیوں پریشاں بیٹھی ہیں؟ اور ابھی تک سوئی کیوں نہیں مرتضیٰ نے راحیلہ کو ہال میں ٹہلتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔ کچھ نہیں صاحب بس بی بی جی سو رہی تھی اور آپ کو بھی آج دیر ہو گئی ہے ۔ ہاں خالہ آج کام بہت تھا اس لیے تھوڑا وقت لگا۔ وہ گجروں کے پیکٹ لے کر اپنے کمرے کی طرف بڑھا مگر دروازا بند تھا اور یہ شادی کے بعد پہلی مرتبہ ہوا کہ ماہ رخ نے روم لاک کیا ہو ۔ ماہ رخ دروازا کھولوں مرتضیٰ غصے سے بولا ماہ رخ میں کہتا ہوں دروازا کھولوں۔ یہ یہ تو مرتضیٰ کی آواز ہے ماہ رخ ایک دم اٹھ کر بیٹھ گئی ۔ اور کمرے کے چاروں طرف نظر دوڑائی اچانک اسے یاد آیا کہ روم لاک ہے ۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر دروازا کھولا۔ مرتضیٰ کا غصے سے برا حال تھا مگر ماہ رخ کو دیکھ کر خاموش ہو گیا ۔ اندر بیڈ پر لیٹ گیا آتے ہی شاید دن بھر کی تھکان سے۔ ماہ رخ بھی مرتضیٰ کی طرف کمرکر کے بیڈ کے دوسرے کونے پر لیٹ گئی۔ کیا ہوا ابھی تک ناراض ہو مرتضیٰ ماہ رخ کی گردن پہ اپنے ہونٹ رکھ کر بولا۔ مگر ماہ رخ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ مرتضیٰ نے اپنے سینے کو ماہ رخ کی کمر پر کسا اور ساتھ ہی اسکے سینے پر اپنا بایاں ہاتھ کسا ۔ آہ مرتضیٰ چھوڑیں درد ہو رہا ہے۔ یہ سن کر مرتضیٰ نے اپنی بازو کی گرفت اور کس لی ۔ آآہ چھوڑیں مجھے درد ہو رہا ہے۔ ابھی تو تمہیں بہت درد سہنے ہونگے جان من ۔جواب دو ورنہ اسی طرح پوری رات آہ بھرتی رہو گی ۔ مرتضیٰ شیطانی مسکراہٹ سے بولا۔ نہیں ہوں میں آپ سے ناراض آپ میرے مزاجی خدا ہیں ۔ یہ ہوئی نا بات اٹھ کر بیٹھو میں تمھارے لیے کچھ لایا ہوں ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور مرتضیٰ اسے گجرے پہنانے لگا تبھی اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ماہ رخ؟ وہ چلایا۔ میں یہ گجرے ایک شرط پر پہنوں گی۔ مگر یہ بھول جاؤ کے میں تمہیں یونیورسٹی جانے دونگا اگلے ہی پل مرتضیٰ نے اسکی شرط سنے بنا اپنا فیصلہ سنا دیا۔ مگر میں جاؤں گی مرتضیٰ ورنہ یہ گجرے نہیں پہنوں گی۔ گاڑی چلانے کو بولا ہے نا کہ اڑانے کو ۔ رافع کار کی اتنی تیز سپیڈ سے کبھی اپنا سر آگے کی طرف ٹکراتا اور کبھی سیٹ کے پیچھے۔ تو دیر ہو جائے گی اگر سپیڈ کم رکھی تو ارسلان مزید سپیڈ دے کر بولا۔مجھے دیر ہو یا نہ ہو مگر تم مجھے آج زخمی کر کے چھوڑوں گے ۔ ابھی رافع بول ہی رہا تھا ایک زور دار بریک سے پھر اسکا سر سامنے ٹکرایا ۔ what the hell ۔ افف جان تمھاری آنکھیں کب سے خراب ہوئیں؟ یہ hell نہیں وہی ریسٹورنٹ ہے جہاں کا پتہ رات تم نے دیا تھا۔ رافع کار سے نیچے اتر کر ٹھیک سے قدم بھی نہیں اٹھا پا رہا تھا۔ بدتمیزی کی کوئی حد ہوتی ہے۔ رافع ریسٹورنٹ کے دروازے پر پہنچ کر خود سے بولا۔ماہ رخ اٹھو فریش ہو لو۔ یونیورسٹی نہیں جانا تم نے؟ ماہ رخ یونیورسٹی کے نام پر فوراً اٹھ کر باتھ روم کی طرف باتھ لینے چلی گئی ۔ ناشتے کی ٹیبل پر پہنچ کر اس نے آج خوش دلی سے ناشتہ کیا تھا۔ راحیلہ خالہ شاید کچن بھی تھیں یا پھر باہر گارڈن میں۔ جب مرتضیٰ نے ناشتے سے فارغ ہو کر ماہ رخ کی جانب دیکھ کر کہا آج ناشتے میں مزا نہیں تھا۔ نہیں تو ویسا ہی ہے جیسا روز ہوتا ہے اب دونوں ٹیشو سے ہاتھ صاف کرتے کھڑے ہوئے تھے۔ نہیں جان من جو مزا یہاں ہے وہ کہیں اور نہیں وہ اس کے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بولا۔ اور ماہ رخ جلدی سے پیچھے ہٹ گئی اور شرما کر منہ نیچے کر گئی۔ ارے ڈارلنگ پیار کرنا تو شرم کیسی؟ ارسلان رافع کو ریسٹورنٹ چھوڑ کر یونیورسٹی آیا ہوا تھا۔ جب ہی اچانک اس کی نظر اسی کار پر رک گئی جو شاید پہلے بھی اس نے دیکھی تھی۔ کار رکتے ہی ماہ رخ نیچے اتر کر آگے بڑھنے لگی تبھی مرتضیٰ نے اسکا ہاتھ تھام کر اسے وارن کیا ایسا نہیں چلے گا ڈارلنگ ماہ رخ نے اپنے قدموں کو ساکن کیا اور ارسلان یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔مرتضیٰ ہاتھ چھوڑیں میرا پلیز۔ اس سے پہلے کہ لوگ ہماری طرف متوجہ ہو ۔ تم اندر بیٹھو چپ کر کے نہیں لینا کوئی ایڈمیشن وہ اس کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے بولا۔ ماہ رخ خاموشی سے کار میں جا بیٹھی اور ساتھ ہی مرتضیٰ بھی فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ مرتضیٰ میری بات سنیں پلیز وہ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولی۔ دیکھو ماہ رخ تم اچھے سے جانتی ہو کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی تمہاری جھلک تک دیکھے اس لئے بہتر ہے کہ گھر میں آرام سے رہو۔ مرتضیٰ آپکو مجھ پہ یقین نہیں میں یہ بھی اچھے سے جانتی ہوں اگر آپکو مجھ پہ یقین ہوتا تو آپ اتنی چھوٹی بات لے کر مجھ سے نا الجھتے ماہ رخ اسکا ہاتھ چھوڑ کر اب ونڈو سے باہر دیکھ رہی تھی۔ ڈارلنگ ایسی بات نہیں ہے میں بس تمھیں کھونے سے ڈرتا ہوں وہ اسکی ٹانگ پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ پلیز اپنے ہاتھ کو کنٹرول کریں یہ کوئی گھر نہیں ہے ماہ رخ نے اسکا ہاتھ پیچھے کرتے ہوئے بولا۔ دیکھیں مرتضیٰ پلیز ایک بار میرا یقین کریں میں کبھی آپکو دھوکا نہیں دونگی ماہ رخ نے اسکے چہرے کو خود کی طرف کرتے ہوئے بولی۔ نہیں ماہ رخ مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم مجھ سے دور نہ چلی جاؤ۔ مرتضیٰ صرف ایک موقع دیں میں آپکو کبھی شکایت نہیں دونگی پلیز ٹرسٹ می مرتضیٰ وہ اس کے آگے رو ہی دی آخر۔ ارے ارے جان من تم رو کیوں رہی ہو؟ تمہیں پتہ ہے ان جھیل سی آنکھوں میں مجھے آنسو بالکل نہیں پسندمرتضیٰ میں اس لیے نہیں رو رہی کہ آپ مجھ پہ اتنی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔بلکہ اس لئے رو رہی ہو کہ میں اب تک آپکو اعتماد میں نہ لے سکی غلطی آپکی نہیں میری ہے جو مجھ میں کچھ کمی ہے جسکی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔ اب اسکے آنسو ہچکیوں میں بدل رہے تھے۔ اچھا جان من چپ کرو دیکھ لیتے ہیں ایک موقع آپکو دے کر مگر ماہ رخ یاد رکھنا دھوکے کی سزا بہت بری ہوگی ۔ آپ ایک موقع دیں میں کبھی آپکو شکایت نہیں دونگی۔ارسلان کافی دیر سے کینٹین میں بیٹھا اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ نا جانے کون ہے وہ ادھیڑ عمر آدمی اور اتنا ظلم کیوں کرتا ہے اس پر آج یہ دوسری مرتبہ میرے سامنے ایسا ہوا ۔ کیا وہ اس کا سوتیلا باپ ہے؟ یا کوئی لاوارث بچی ہے ؟ اسے کینٹین میں آئے کافی دیر ہو چکی تھی مگر اب تک اسکا دماغ اس پھول جیسی لڑکی پہ رکا ہوا تھا۔ ارے ارسلان کیا سوچ رہے؟ حمزہ کینٹین میں داخل ہونے کے بعد ارسلان کو زمین پر بڑے غور سے دیکھتے ہوئے پوچھ رہا تھا۔ مگر ارسلان شاید کسی اور دنیا میں گھوم تھا۔ ارسلان حمزہ نے اسکے کندھے کو ہلاتے ہوئے اسے ایک بار پھر بلایا۔تب ہی ارسلان حقیقی دنیا میں واپس آیا۔ کیا ہوا بھئی کن سوچوں میں گم ہو؟ آج سے پہلے کبھی ایسا تمھارے ساتھ نہیں ہوا۔ کوئی پسند تو نہیں آگئی کیا ۔حمزہ اسے چھیڑتے ہوئے بولا۔ نہیں یار ایسا کچھ نہیں ہے آؤ کچھ کھاتے ہیں ارسلان نے حمزہ کو fries کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔ اب وہ دونوں کینٹین سے باہر coldrink or fries لے کر گراؤنڈ میں باتیں کرتے ہوئے چہل قدمی کر رہے تھےمگر ارسلان کا دھیان بلکل بھی حمزہ کی طرف نہیں تھا۔ اور حمزہ بھی پھر خاموش ہو گیا کیونکہ اسے بھی ارسلان آج کچھ بہتر نہیں لگ رہا تھا۔ ارے آپ مرتضیٰ بیٹھیں کیسے آنا ہوا؟ واجد جاؤ کولڈرنک لے کر آؤ ساتھ میں سموسے بھی۔ نہیں نہیں دلاور شیخ کچھ نہیں منگواو۔ ھم بس کچھ وقت لیں گے تمھارا اور اس کے لیے بھی معزرت خواہ ہوں میں نہیں مرتضیٰ کیسی باتیں کر رہے ہو دوستوں میں کب سے معذرت کا رواج آگیا تمھارا جب دل کرے آجایا کرو ہم سے ملنے۔ سر! واجد سموسے اور کولڈرنک دلاور کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا۔ لاؤ دو ادھر دلاور نے ٹرے مرتضیٰ کے سامنے رکھ دی۔ یار کام یہ تھا کہ میں اپنی بیوی کے داخلے کے لئے یہاں آیا تھا۔ یار یہ تو اچھی بات ہے۔ دلاور نے چند ڈاکومنٹ نکال کر ماہ رخ کے سامنے رکھ دیئے۔ آپ انکو بھر کر مجھے دے دیجئے ابھی اور کل سے ہی کلاسز جوائن کر لیں۔ اور عدیل سے ملاقات ہوتی ہے؟ مرتضیٰ نے دلاور سے پوچھا۔ ہاں یار اسکا بیٹا یہیں پڑھتا ہے۔ اچھا مطلب ہم چاروں اب بھی ایک ساتھ ہیں۔ وہ زور دار قہقہہ لگاتے ہوئے بولا۔ مرتضیٰ ماہ رخ دھیمی آواز میں مرتضیٰ کو بلا رہا تھی۔ یہ لیجیے بھر لیے وہ ڈاکومنٹ مرتضیٰ کی طرف بڑھاتے ہوئے بولی۔ بہت خوشی ہوتی ہے یار تم سب سے مل کر دلاور مرتضیٰ سے کہہ رہا تھا۔ چلو یار پھر کبھی ملاقات ہوگی مرتضیٰ دلاور کو گلے لگا کر آفس سے باہر ماہ رخ کا ہاتھ پکڑ کر آرہا تھا۔
ارے اندھے ہوگئے ہو کیا؟ کہاں ہے آج تمھارا دھیان؟ حمزہ نے اسے مرتضیٰ سے ٹکراتے ہوئے تھام کر پوچھا۔ نہیں کچھ نہیں سوری سر ارسلان نے ایک دم مرتضیٰ کی طرف دیکھ کر سوری بول دیا۔ کوئی بات نہیں مگر دیکھ کر چلو بیٹا مرتضیٰ نے اسکے سوری پر اسے جواب دیا۔ رافع کی کال پر ارسلان کو یاد آیا کہ اس نے رافع کو ریسٹورنٹ سے پک کرنا ہے۔ اچھا حمزہ اب میں چلتا ہوں۔ وہ حمزہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے بولا۔ ارے کال تو پک کرلوں ادھر رافع کالز پہ کالز کر رہا تھا مگر ارسلان نے کوئی ریسپانس نہیں دیا۔ کیا آپ ان سر کو جانتے ہیں؟ ماہ رخ نے دلاور کے بارے میں مرتضیٰ سے پوچھا۔ ہاں جانتا ہوں ہم چار دوست تھے دلاور۔عدیل ۔ میں اور فاحد ۔ اچھا تو اب تو آپکی ٹینشن کم ہو گئی ہو گی کہ آپکے دوست ہونگے میری احتیاط کے لیے وہاں۔ ہاہاہا زبردست مگر پھر بھی میں تمہیں الرٹ کر رہا ہوں کوئی شکایت نہ ملے۔مرتضیٰ ٹرسٹ می۔ کار بالکل ریسٹورنٹ کے سامنے کھڑی تھی۔ رافع جلدی سے کار میں بیٹھ گیا۔ ارسلان کیا ہوا۔ تم کال کیوں نہیں پک کر رہے تھے؟ آگیا ہوں یار اب زیادہ سوال نہیں کرو مجھ سے۔ اچھا کیسا رہا تمھارا ملاقات کا وقت؟ بہت زبردست یار کیا لڑکی تھی کمال تم بھی فدا ہو جاتے۔ ہاہاہا حد ہے یار مجھے کوئی دلچسپی نہیں ایسے کاموں میں اچھا تو تم بتاؤ سارا دن کینٹین میں گزارا یا پھر اور بھی کہیں؟ رافع کی اس بات پر ارسلان کا دماغ پھر سے اس پھول جیسی لڑکی پر رک گیا۔اسے کچھ دیکھائی نہیں دے رہا تھا ہر جگہ وہی لڑکی نظر آرہی تھی۔ ارسلان یہ کیا کر رہے ہو؟ ارسلان کار کو بریک دو مگر ارسلان حقیقی دنیا میں نہیں تھا تبھی اسکی کار سامنے آتی کار کے ساتھ ٹکرا گئی۔

0 Comments