اس کے نرم و نازک گلاب کی پنکھڑی جیسے نچلے ہونٹ کو انگوٹھے سے سہلاتے ہوئے انہوں نے اپنا نچلا ہونٹ بے دردی سے کاٹا تھا۔وجہ اس کے ہونٹ کے کنارے پہ لگا ہوا وہ زخم تھا جو ان ہی کی مرہون منت تھا

آئی ایم سوری میری جان اب اٹھو آنکھیں کھولوں  بس بہت ہوگیا ہے یار  اب اٹھو ۔ میرا دل بوجھل ہو رہا ہے تم میری ہو میری ہو اور بس میری ہو  اسکا نازک سا وجود جھنجھوڑتے ہوئے بولا ماہ رخ ڈر تھوڑی سی آنکھ کھول کے گھبرا اٹھی ۔ شکر ہے تم اٹھ گئی ورنہ تو آج میں تمہیں جان سے مار ڈالتا اور خود بھی مر جاتا یہ یہ نشان میری وجہ سے بنے نا تمھارے جسم پہ بولو ؟؟  ماہ رخ سہم سی گئی کیونکہ وہ ان کو اس حال میں دیکھ کے گھبرا جاتی تھی ماہ رخ میں کچھ پوچھ رہا ہوں جواب دو وہ ایک بار پھر زور سے چلایا ماہ رخ کچھ سن رہی ہو؟؟؟؟؟؟ جی جی آپ نے ہی مارا اور بہت زور سے مارا وہ اپنے حواس میں نہیں تھی ۔ تم صرف ایک بار بولو کہ تمھیں سچ میں نہیں پتہ تھا کہ لان میں بولو تمھیں سچ میں نہیں پتہ تھا نہ کہ لان میں میرے business partnerاور office worker بیٹھے ہیں؟ بولو ماہ رخ چپ کیوں ہو؟ ڈرتے ڈرتے ماہ رخ نے نفی میں گردن ہلائی۔ شاباش مجھے تم سے یہی امید تھی۔چلو آئندہ اس بات کا خیال رہے کیونکہ مجھے یہ ذرا برابر گوارا نہیں کہ تمھیں میرے علاوہ کوئی اور دیکھے وہ جبڑے چبا کہ بولا اور ساتھ ہی اسکے بالوں کو اپنی مٹھی کی گرفت میں کر کے ڈریسنگ ٹیبل پر لے گیا  یہ مکھڑا صرف اور صرف میرا ہے آئندہ مجھے کسی کے سامنے دیکھائی مت دینا ورنہ وہ حال کرو گا کہ تمھیں پیدا کرنے والی ماں اور تمھارا امیر ترین باپ بھی تمہیں نہیں پہچان سکے گا۔ اور اسے زور سے دھکا دے کر بیڈ پر پھینک کر روم سے لاؤنچ میں آ گیا۔ ماہ رخ تکئے میں منہ چھپا کے مسلسل رو رہی تھی کیونکہ کہ وہ اپنا درد چیخ کر بیان کرنا چاہتی تھی مگر اس انسانی شکل میں درندے کی وجہ سے وہ حلق سے بھی آواز باہر نہیں نکال سکیں ۔ آیت آج میرا دل کچھ ڈوب سا رہا ہے نا جانے کیوں؟ ایسا لگتا کہ ماہ رخ تکلیف میں ہے اماں کیا ہوگیا ہے آپ کو آیت جو اپنے بالوں میں پونی لگا رہی تھی پلٹ کے اپنی ماں سے بولی امی کیوں اتنا پریشان ہو رہی ہے آپ آپا تو ہر حالات کا سامنا کر سکتی ہے اماں آپ نہیں پریشان ہوں۔ ارسلان تمھیں اپنے چچا زاد بھائی کا خیال رکھنا ہے میں جانتا ہوں کہ وہ نا سمجھ ہے مگر جب تک اسے تم جیسے دوست کا ساتھ ہے میں بے فکر ہوں۔ چچا جان آپ فکر نہیں کریں وہ مجھے خود سے بھی زیادہ عزیز ہے جو بھی ہو خون تو ہے نا ۔ ویلڈن میرے بھتیجے جب تک تم ہو مجھے واقعی ڈر نہیں ہے ۔ ادھر ماہ رخ نماز پڑھتے پڑھتے بے ہوش ہو گئی ۔ مرتضیٰ صاحب مرتضیٰ صاحب بیگم صاحبہ بے ہوش ہو گئی ہیں راحیلہ اپنے گیلے ہاتھ اپنے دوپٹے سے صاف کرتی ہوئی اسے سیدھا لیٹا کر بولی۔ مرتضیٰ چائے کی پیالیوں کو خود سے دور کرتے ہوئے کمرے کی جانب دوڑ گیا ۔فاحد میرا دل گھبرا رہا ہے مجھے ایسا کیوں لگ رہا کہ ماہ رخ کسی پریشانی میں ہے؟ تم اسے فون کرو نا  فاطمہ گھبرا کر فاحد سے بولی۔وہ فاحد کی سب سے لاڈلی بیٹی تھی۔یوں تو فاحد کے 3 بچے تھے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا۔ ماہ رخ سے انہیں بے حد محبت تھی مگر اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ حسین تھی ۔ بلکہ اس لئے تھی کہ ماہ رخ نے کبھی انہیں کسی کام کے لیے انکار نہیں کیا تھا نا ہی بے جا خواہشات کا اظہار کیا تھا۔ اس کے انداز سے کبھی یہ نہیں ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ایک رایئس باپ کی بیٹی ہے۔ اگر انہیں جیل کی سزا اور اپنی فیکٹریوں کا خاتمے کا ڈر نہ ہوتا تو وہ کبھی بھی ماہ رخ کی شادی اس کی عمر کے دوگنے آدمی سے نا کرتے۔جب انھوں نے ماہ رخ کے سامنے اپنے پہ قتل ایکسیڈنٹ کا کیس رکھ کے یہ کہا کہ بیٹا مجھ سے کار ایکسیڈنٹ میں دو لوگ قتل ہو گئے ہیں ۔ اور ایسے میں مرحوم کے بھائی نے مجھ پہ قتل کا الزام عائد کردیا ہے ۔ میں نے بہت وکیلوں سے بات کی مگر مرحوم کے بھائی ہار نہیں مان رہے وہ مجھے بدنامی کے پہاڑ میں اتار کر چھوڑے گا میرا کاروبار ختم ہو جائے گا میں جیل میں رہ کر قاتل کے نام سے مشہور ہوجاوں گا ۔ ماہ رخ آخر بیٹی تھی اور باپ کی آنکھ میں کب دیکھ سکتی تھی وہ نا امیدی۔اس نے باپ کے سینے سے سر لگا کر کہا جب تک میں ہوں آپ نہیں ہار سکتے آپ مجھ سے کیا مدد چاہتے ہے بولیں؟ فاطمہ آنکھوں میں آنسوں لیے بیٹی سے جا لپٹی اور اس کی ہمت پہ حیراں ہو رہی تھی ۔ فاحد آپ ایسا نہیں کریں گے میری بچی ابھی ہے ہی کتنی جو آپ اس پر اتنا بڑا ظلم کر رہے ہیں۔بھاڑ میں گیا آپکا نام ہمیں نہیں چاہیئے ایسی عیش و عشرت جس میں میری بیٹی سکون میں نا ہو اور رہی جیل کی سزا زیادہ سے زیادہ 3,4 سال اور کمزکم 6 مہینے ہی ہوگی اللہ پہ توکل رکھیں فاحد اگر آپ بے قصور ہیں تو سزا بہت جلد ختم ہو جائے گی مگر اس کی زندگی بار بار نہیں ملے گی آپکا نام کاروبار پھر سے بن سکتا ہے مگر میری کم عمر بچی یہ ظلم نہیں برداشت کر سکے گی۔ اماں ماہ رخ نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ماں کو دیکھا پھر باپ کی طرف دیکھ کر بولی ابو جی میں آپکی بہادر بیٹی ہوں اور اگر آپ نے میرے لئے یہ فیصلہ لے لیا ہے تو مجھے کوئی اعتراز نہیں ہے۔ مگر ماہ رخ میرا جگر کا ٹکڑا وہ تجھ سے دوگنی عمر کا انسان ہے ۔فاطمہ ماہ رخ کی بات کاٹتے ہوئے بولی جب میری بیٹی کو مسئلہ نہیں تو تم کیوں اسکو ورغلانے پہ اتری ہوئی ہو؟ فاحد چیڑتے ہوئے بولا ۔ آخر کس چیز کی کمی ہے تمھیں میرے گھر میں؟ اور پھر مرتضیٰ کا سٹیٹس بھی ایسا ہی ہے جیسا ہمارا ہے خوش رہے گی ماہ رخ وہاں۔ وہ مرتضیٰ میری گواہی دے کر مجھے یہ کیس جیتنے میں ساتھ دے رہا ہے مگر وہ تم سے شادی کرنے کا کہتا ہے اور اسکے بعد مجھ پہ لگا ہوا قتل کا الزام مٹ جائے گا کیا تم راضی ہو مرتضیٰ سے شادی کے لیے؟ ابو جی میں نے کہا نا مجھے آپکا ہر فیصلہ منظور ہے ڈاکٹر سلیم کیا میری بیوی کو ہوش آیا؟ کیا کہا آپ نے ایک بار پھر سے بولیں بیوی؟ ڈاکٹر سلیم نے بیوی پہ زور ڈالتے ہوئے بولا ۔ مرتضیٰ سمجھ گیا کہ ڈاکٹر اس پہ طنز کر رہا ہے مگر یہ وقت لڑنے کا نہیں تھا اس لیے وہ خاموش ہو گیا اور پھر پوچھنے لگا کہ ڈاکٹر صاحب میری بیوی کی حالت کیسی ہے؟ پہلے تو ڈاکٹر کو کچھ شک ہوا مگر انہوں نے یہ کہہ کر خاموشی اختیار کر لی کہ مجھے کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت کا شوق نہیں جی مرتضیٰ آپکی مسز بلکل ٹھیک ہے مگر آپ ان سے ابھی نہیں مل سکتے کیونکہ وہ آرام انکے لئے ضروری ہے جیسے وہ ہوش میں آئے گی آپکو بتا دیا جائے گامرتضیٰ ایک بینچ پر آرام سے بیٹھ گیا اور سوچ میں مگن تھا کہ اسکے موبائل کی رنگ بجنے لگی اب  کیا بولوں انھیں؟ وہ فاحد کا نمبر موبائل پر دیکھ کر تھوڑا سوچ میں ڈوب گیا ۔ میں ماں ہوں میرا شک ٹھیک تھا ماہ رخ مشکل میں ہے اگر ایسا نہیں ہے تو مرتضیٰ کال کیوں نہیں اٹھا رہا؟ تم میں صبر نہیں ہے کیا؟ اٹھا لے گا ۔ اسلام و علیکم! خیریت؟ اتنا وقت کیوں لگا دیا؟ اور ماہ رخ کہا ہے؟ فاحد ایک سانس میں کئی سوال کر رہا تھا ۔ یار وہ تو راحیلہ کے ساتھ مارکیٹ گئی ہے مرتضیٰ نے خود کو سنبھالتے ہوئے بولا۔ مگر وہ راحیلہ کے ساتھ کیوں تمھارے ساتھ کیوں نہیں؟ فاحد حد ہو گئی میں تھکا ہوا تھا اسے کچھ سامان لینا تھا اس لیے وہ راحیلہ کے ساتھ چلی گئی فاطمہ بے دلی سے اٹھ کے کچن میں چلی گئی مگر اسکا دل کہہ رہا تھا کہ بات کچھ اور ہے۔ڈیڈی آپ ارسلان کو کیوں اتنا سر پر چڑھا رہے ہیں؟ رافع چائے کا کپ ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا۔عدیل صاحب نے رافع کو گھورا کہ زبان قابو میں رکھو جو بھی ہو وہ تمھارے چچا زاد بھائی ہے اور اس سے کچھ سیکھو نہ کہ مجھے سیکھاو کہ مجھے کیا کرنا ہے ۔ڈاکٹر مس ماہ رخ کو ہوش آگیا ہے ایک نرس انکے قریب آ کر بولی۔ مبارک ہو مسٹر مرتضیٰ آپکی مسز کو ہوش آگیا ہے آپ ان سے اب مل سکتے ہیں ڈاکٹر سلیم نے مرتضیٰ کو گڈ نیوز دی۔ مرتضیٰ کار کی چابی اور موبائل ہاتھ میں لیے ماہ رخ کے بیڈ کے پاس کھڑے اسے دیکھ رہےتھے۔ کیسی ہے اب طبیعت؟ وہ شرمندہ سے لہجے میں ماہ رخ سے پوچھ رہے تھے۔جی  بہتر ہوں بس چکر آرہے تھے اب بہترمحسوس کر رہی ہوں۔ چلو شکر ہے اللہ کا تم ٹھیک ہو بس اب تمہیں گھر کے لیے چھٹی مل گئی ہے نرس آتی ہوگی تمہاری دوائیاں لے کر مرتضیٰ اسے قدرے دھیمے لہجے میں بول رہا تھا۔تبھی کمرے میں نرس داخل ہوئی اور اس نےدوائیاں مرتضیٰ کو پکڑا کر ماہ رخ کا بی پی اوکے کر کے اسے بیڈ سے اترنے میں مدد دی ۔ ابھی وہ دو قدم چلی ہی تھی کہ لڑکھڑا گئی مرتضیٰ نے حالات کو سمجھتے ہوئے اسے اپنا ہاتھ تھامنے کو کہا ۔ مگر اس میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ وہ چل سکے تبھی مرتضیٰ نے اسے اپنی آغوش میں اٹھا لیا۔ جان من تم اتنی نازک ہو ؟ وہ اسے اپنی آغوش میں لیے کار میں بیٹھا رہے تھے۔اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ کے بیٹھ گئے۔ اچھا بتاؤ کیا کھائے گی میری جان؟ وہ اسے دیوانوں کی طرح دیکھتے ہوئے بولے ۔ نہیں کچھ نہیں کھانے کو دل میرا۔ ماہ رخ سنجیدہ ہوتی بولی ۔ مگر کیوں جان ؟ مرتضیٰ اسکے چہرے کو اپنی طرف کرتے ہوئے بولے۔ نہیں نہ پلیز آپ گھر چلیں ماہ رخ گھبرا کر بولی کیونکہ اسے معلوم تھا کے جہاں بھی وہ اسکے ساتھ جائے گی لوگ حیران کن نظروں سے اسے دیکھیں گے اور یہ کم ظرف آدمی گھر جا کر سارا غصہ اس پر نکالے گا ۔ کیا ہوا ؟ چلو میرا موڈ آئسکریم کھانے کو ہو رہا ہے مرتضیٰ نے کار سٹارٹ کرتے ہوئے بولا ۔ ماہ رخ خاموش بیٹھی کار سے باہر کا نظارہ دیکھ رہی تھی جبھی ایک جگہ ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے کار کچھ دیر روک گئی۔ اور ایک بوسیدہ کپڑے پہنے لڑکا ماہ رخ کی window کے پاس آ کر رکا۔ اور اس سے پیسے مانگنے لگا ٹریفک کافی دیر سے جام تھا تو مرتضیٰ نے سوچا کہ فقیر کو خالی ہاتھ نہ بھیجے اس لئے اس 100 کا نوٹ نکالا اور لڑکے کی طرف بڑھانے لگا مگر ایک دم رک گیا۔ اور یہ سارا منظر برابر میں کھڑی کار میں دو لڑکے بھی دیکھ رہے تھے۔ صاحب دو نہ نہیں دینا تو مزاق تو نہیں بناؤ فقیر بچہ معصومیت سے بولا۔ مرتضیٰ بچہ ٹھیک ہی تو کہہ رہا ہے آپ نے نہیں دینے تو مزاق تو نہیں بنائیں۔ماہ رخ خفا سے لہجے میں بولی نہیں جان من میں اسے ایسے نہیں دونگا پیسے پہلے تمھارے لئے دعا کرواؤں گا ماہ رخ شرما کے بولی تو بولیں اسے ٹریفک نا چل جائےہاں تو بچے بی بی کو ڈھیر ساری دعائیں دے گا تب دونگا یہ پیسے۔ یار بڑا ہی عجیب انسان ہے پہلے ٹریفک جام اوپر سے یہ ڈرامے کر رہا ہے بیچارے بچے کے ساتھ۔ رافع سے کنٹرول نا ہوا تو وہ برابر والی کار کے منظر کو دیکھ کر بولا۔ ابے او بھنس کی عقل والے چپ ہو کر سین دیکھ ارسلان نے اسے چپ کرواتے ہوئے بولا۔ کیوں نہیں صاحب بی بی کو میں ضرور دعا دونگا ۔ بی بی اللہ تمہیں خوش رکھے ، آباد رکھے، اور تمھارے ابو کو بھی صحت دے ، اور جلد از جلد تمھاری شادی کسی اچھے لڑکے سے ہو۔ ماہ رخ نے جب یہ سنا اسکے ہوش گم ہوگئے اس نے آنکھ کے اشارے سے بچے کو بھاگنے کو کہا اور مرتضیٰ ایسی بکواس سن کر خود پر کنٹرول نا کر سکا تبھی وہ کار سے نکل کر دوسری طرف بڑھنے لگا ۔ فقیر بچہ اس کے ارادے جان کر بھاگنے لگا ۔ تبھی ٹریفک کا رش کم ہوا اور وہ اپنی برابر کی کار سے ٹکراتے بچ گیا ۔ سالا کمینہ بچ گیا ورنہ آج اسے یہیں دفن کر دیتا مرتضیٰ کار میں واپس بیٹھتے ہوئے غصے سے بولا ۔ اور ماہ رخ سوچ میں پڑ گئی کہ اب گھر جا کے اسکا کیا ہوگا؟ یار ارسلان اس بچے نے کچھ غلط دعا تو نہیں دی تھی پھر وہ انکل اس طرح اسے مارنے کو کیوں دوڑے؟ رافع ارسلان سے پوچھ رہا تھا اور ساتھ ہی انکل کے اس طرح بھاگنے پر زور سے ہنسنا ۔ بھاگنے والے سین کو سوچ کر ارسلان بھی خود پر قابو نہیں کر سکا اور ہنس دیا۔ نا جانے کیا حقیقت تھی مگر اس انکل کو اس طرح نہیں کرنا چاہیے تھا ارسلان کچھ سوچتے ہوئے بولا۔ 

ماہ رخ مرتضیٰ کو اتنے غصے میں دیکھ کر بولی کہ مر  .   چھوڑیں ہم گھر چلتے ہیں۔ تب ہی مرتضیٰ کے موبائل پر فاحد کا نمبر چمکتا دیکھ کر ماہ رخ سے رہا نہیں گیا اور وہ موبائل کی طرف ہاتھ بڑھانے لگی تبھی مرتضیٰ نے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے 


بولا۔ اچھی بیوی ایسی حرکت کرتے ہوئے اچھی نہیں لگتی۔



Post a Comment

0 Comments