Ashiq Awara urdu romantic novel episode 1 عاشق آوارہ

یار، ویسے یہ بہت غلط بات ھے، کہ تمھاری معشوقہ کے فرمائشی کاموں میں تو ھم دونوں برابر کے حصّہ دار بنیں، اور جب آم چوسنے کی بات آئے، تو تم ھمیں پوچھے بنا اکیلے اکیلے ھی مزے لوٹ کر آ جاؤ۔یہ بات اکرم نے کی تھی، جو اس وقت دلشاد پر اچھّا خاصا جلا بھنا بیٹھا تھا۔ بیچارے کی انگلی زخمی ھو چکی تھی، اور وہ اس پر پٹّی باندھے، اوپر پانی ڈالنے میں مصروف تھا۔ میں اس کی اس بات پر مسکرایا، اور دلشاد کی بغل میں کہنی ماری اس کے منہ سے اوغ کی آواز نکلی، اور وہ ھنستے ھوئے دوھرا ھو گیا۔ھم تین دوست اس وقت دلشاد کی معشوقہ کے باپ کی زمین پر موجود تھے، اورگندم کی کٹائی کر رھے تھے۔ ویسے تو ھمارے گاؤں میں گندم مزدوری پر ھی کاٹی جاتی ھے، مگر ھم ایسے مزدور تھے، کہ جنہوں نے محنت تو برابر کرنی تھی، مگر اس کی مزدوری اکیلے دلشاد نے ھی وصول کرنا تھی۔ ، ، ، اسی کمینے کی محبوبہ کی ایک فرمائش پر ھم دونوں ایک بار پھر سے اس گرمی میں گدھے کی طرح کام کر رھے تھے۔ جب بھی میں نے کٹائی ختم کر کے گھر جانے کی بات کی، دلشاد نے منّت سماجت کر کے ھمیں روک لیا۔ اور اسی دوران اکرم کا ھاتھ درانتی سے زخمی ھو گیا تھا۔دلشاد، میں اور اکرم بچپن کے کلاس فیلو تھے۔ اکرم تو میری طرح تعلیم اور کام کاج کے سلسلے میں شہر (میں اسلام آباد آ گیا تھا،جبکہ اکرم فیصل آباد چلا گیا تھا۔) ، مگر دلشاد اسی گاؤں میں رہ کر کھیتی باڑی کرتا رھا۔ اس کے مطابق ،اس کے لئے میٹرک بھی بہت تھی ویسے اس کی بات ٹھیک بھی تھی۔ اس کے باپ کی اچھّی خاصی زمین تھی، جس کا وہ اکلوتا وارث تھا۔ اس کی والدہ اس کے پیدا ھوتے ھی مر گئی تھی، اورر اس کے باپ نے اس کے بعد دوسری شادی نہیں کی تھی شائد بیچارے کو کسی نے رشتہ ھی نہیں دیا تھا،ورنہ تو اس نے کوشش کی ھو گی۔ بہر حال، یوں وہ آج ایک پکّا زمین دار تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے ایک معاشقہ بھی پال رکھّا تھا۔گاؤں کے سب سے بڑے چوھدری کی سب سے چھوٹی بیٹی، جس کا نام عارفہ تھا،اس کے ساتھ دلشاد کا چکّر چل رھا تھا میری معلومات کے مطابق پچھلے دو سال سے وہ دونوں ایک دوسرے سے محبّت کر رھے تھے۔ دلشاد کے مطابق، عارفہ کے ساتھ اس چکّر میں ابتدائی پیش قدمی مکمّل طور پر عارفہ کی طرف سے کی گئی تھی۔ دلشاد تو ھر وقت اپنے کھیتوں میں کام میں مصروف رھتا۔عارفہ ان دنوں نئی نئی جوان ھوئی تھی۔ وہ کبھی کبھی اپنے رقبے پر جایا کرتی تھی۔ ان کی زمینیں مالٹے اور آم کے باغات سے بھری ھوئی تھیں۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ساتھ گرمیوں میں آم، تو سردیوں میں مالٹے کھانے جاتی رھتی تھی۔ دلشاد کا رقبہ راستے میں پڑتا تھا ، جہاں دلشاد تندہی سے کام کاج میں مصروف رھتا۔ اسی دوران عارفہ نے دلشاد کو کام کرتے ھوئے دیکھا تھا۔دلشاد ایک خوبصورت جوان تھا۔ اس کے باپ نے اس کو اچھّی خوراک کھلائی تھی، جس کے نتیجے میں وہ ایک گبھرو مرد لگتا تھا۔ رنگ روپ بھی قدرت نے دے رکھّا تھا۔ پھر کام کرتے ھوئے وہ ایسے مگن ھوتا، جیسے اسے اس کے علاوہ اسے اس دنیا میں اور کوئی کام ھے ھی نہیں۔اس کی مردانہ وجاھت عارفہ کو پہلی ھی نظر میں بھا گئی تھی۔پہلے تو عارفہ کبھی کبھی کھیتوں پر جاتی تھی، مگر دلشاد کو دیکھنے کے بعد سے، وہ اکثر کھیتوں پر جانے لگی تھی۔ اس کے گھر میں موجود افراد میں اس کی ایک والدہ تھی، جو کبھی باھر کے کاموں میں دخل دینے کی مجاز نہیں تھیں۔ عارفہ کی دو بڑی بہنیں شادی کے بعد اپنے اپنے گھروں کی ھو چکی تھیں۔ عارفہ کا باپ چوھدری خادم ، ایک انتہائی مصروف انسان تھا۔ وہ اکثر گھر سے باھر ھی رھتا تھا۔ ویسے بھی عارفہ ان سب کی لاڈلی تھی۔ اس کے باپ کا حکم تھا، کہ عارفہ کی ھر خواھش پوری کی جانی چاھئے، اسی وجہ سے حویلی میں کسی کی بھی جرّاٴت نہیں تھی، کہ وہ اس کے کھیتوں پر جانے پر کسی قسم کی قدغن لگا سکے۔عارفہ کی اس آزادی کا نتیجہ یہ ھوا، کہ اس کے دلشاد تک پہنچنے میں کوئی بھی رکاوٹ پیدا نہ ھوئی، اور آخر ایک دن عارفہ نے اس کے سامنے اظہار محبّت کر دیا دلشاد اس لڑکی کی جرّاٴت پر حیران کھڑا تھاوہ اس وقت کھیتوں میں پانی لگا رھا تھا، جب عارفہ اپنی ایک سہیلی کے ساتھ اس کے پاس چلی آئی تھی دلشاد نے اس کے کھنکارنے کی آواز سن کر سر اٹھا کر دیکھا تھا۔یہ دوپہر کا وقت تھا، جب اس نے اپنے سامنے عارفہ اور کچھ قدم پر اس کی ایک سھیلی کو کھڑے پایا ۔ وہ کچھ حیران تو ھوا،لیکن ابھی تک اس کے دماغ میں کوئی منفی خیال پیدا نہیں ھوا تھا۔وہ سمجھ رھا تھا، کہ شائد چوھدری کی بیٹی کو پیاس لگی ھے، اور وہ اس سے پانی مانگنے آئی ھے ،کیونکہ اس نے اکثر عارفہ کو اپنی سہیلیوں کے ھمراہ پگڈنڈی سے گزر کر اپنی زمینوں کی طرف جاتے ھوئے دیکھا تھاگرمی کے موسم میں کھیتوں کی طرف جاتے ھوئے،یا واپس آتے ھوئے پیاس لگنا کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی گرمی کے موسم میں پیاس لگ ھی جاتی ھے، لیکن عارفہ کی سھیلی ان سے چند قدم کے فاصلے پر ھی رک گئی تھی۔ یہ معاملہ دلشاد کی سمجھ سے باھر تھا اور جب عارفہ نے اس سے اپنی حالت بیان کی تھی، تو دلشاد جہاں اس کی بات سن کر حیران ھوا تھا، وہیں وہ اس لڑکی کی بے باکی اور ھمّت پر دل ھی دل میں عش عش کر اٹھّا تھا ۔ اس نے کئی لڑکوں سے سن رکھّا تھا،کہ چوھدری کی سب سے چھوٹی بیٹی بہت دلیر اور اتّھری ھے۔ اس نے اس کی دلیری کے اکّا دکّا واقعات بھی سن رکھّے تھے، لیکن آج اس نے عارفہ کی دلیری کا ایک حیرت انگیز عملی مظاہرہ دیکھ لیا تھا۔لیکن دلشاد ، عارفہ کے باپ، چوھدری خادم کو اور اس کے غصّے کو بھی جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا، کہ چوھدری کی بیٹی سے عشق لڑانا اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر ھو گااس نے چند ایک بار چوھدری کو غیض و غضب کی حالت میں دیکھ رکھّا تھا۔دلشاد نے عارفہ کے اظہار محبّت کے جواب میں اس سے معذرت کر لی تھی، اور اس کو وجہ بھی بتا دی تھی۔ اس نے عارفہ سے صاف صاف کہ دیا تھا، کہ اگر وہ عارفہ کی بات کا مثبت جواب دیتا ھے، تو اس کو عارفہ کے باپ کے قہر سے کوئی نہیں بچا سکے گااس دن پہلی بار عارفہ نے دلشاد سے اپنے دل کی بات کا اظہار کیا تھا، اس لئے وہ اس موقعے کو گنوانا نہیں چاھتی تھی۔ اس نے بڑی کوشش کی، کہ دلشاد مان جائے، مگر دلشاد نے بنا کوئی سخت بات کئے، عارفہ کو ٹال دیا۔ عارفہ سخت مایوس ھوئی تھی۔ اس نے واپس جانے سے پہلے اسے آخری بار پوچھا، تو بھی دلشاد نے اس کو انکار کر دی

عارفہ دلشاد کی اس بات کو سن کر رو پڑی شائد اس نے اس بات مین اپنی تذلیل محسوس کی تھی۔ لیکن جاتے جاتے اس نے دلشاد کو آخری بار سوچنے کو کہا، اور یہ کہ وہ کل پھر آئے گی، اور دلشاد سے اس کا آخری فیصلہ معلوم کرے گی۔دلشاد عارفہ کے جانے کے بعد، کتنی ھی دیر تک گم صم کھڑا رھا۔ اسے جہاں عارفہ کے اس سے اظہار محبّت پر ایک احساس تفاخّر محسوس ھوا تھا، وھیں اس کی فطری بزدلی کے باعث اس کی جانب سے کئے جانے والے انکار نے اس کو احساس شرمندگی اور افسوس میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ ایک عجیب سوچ کے گرداب میں پھنس گیا تھا۔ ، ، دل چاھتا تھا،کہ وہ عارفہ کی محبّت کی پیش کش کو بنا سوچے سمجھے قبول کر لے، مگر اسی وقت اس کی آنکھوں کےسامنے وہ منظر آ جاتا، جب اس کے باپ نے ایک لڑکے کو صرف اس گناہ کی پاداش میں دو گھنٹے تک الٹا لٹکائے رکھّا تھا، کہ اس نے چوھدری کے باغ سے دو مالٹے توڑ کر کھا لئے تھے۔ جو انسان ایک کھانے والی عام سی چیز پر اس قدر سیخ پا ھو سکتا ھے، وہ اپنی بیٹی کے ساتھ عشق کرنے والے کے ساتھ کیا سلوک کرے گایہی وہ منظر تھا جو اس کی آنکھوں کے سامنے لہرایا تھا، جب عارفہ اس کے سامنے اظہار محبّت کر رھی تھی۔ چوھدری کا خوف اس کے اور عارفہ کے درمیان ایک گہرے سمندر کی مانند حائل ھو گیا تھا ، جسے عبور کرنا کم از کم دلشاد کے لئے تو ممکن نہیں تھا۔اپنے دماغ کو خیالات کی دنیا سے کھینچ کر واپس لاتے ھوئے اس نے اس طرف دیکھا،جہاں عارفہ کھڑی تھی۔ وہ حیران رہ گیا، کہ عارفہ اب کہیں نظر نہیں آ رھی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا، کہ وہ کافی دیر تک اپنی سوچوں میں غلطاں کھڑا رھا تھا۔دلشاد کے لئے اس کے بعد ممکن ھی نہیں رھا، کہ وہ کھیتوں میں دلجمعی کے ساتھ کام کر سکے۔ نتیجتاْ وہ گھر آ گیا۔گھر آ کر بھی اس کے خیالات نے اس کا پیچھا نہ چھورا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے بار بار عارفہ کا معصوم چہرہ آ رھا تھا۔ دو موٹی موٹی سیاہ آنکھیں، جن میں پانی بھرا تھا۔جوں جوں اس کے پردہٴ تصوّر پر یہ منظرابھرتا،توں توں اسے اپنے سینے سے ایک درد بھری ٹیس سی اٹھتی ھوئی محسوس ھوتی۔ وہ بے چین ھو کر ادھر ادھر ٹہلنے لگ جاتا۔ جب بے چینی حد سے بڑی، تو وہ گھر سے نکل آیادلشاد نے محسوس کیا، کہ اسے عارفہ پر پہلے سے بھی زیادہ پیار آ رھا تھا۔دلشاد جتنا سوچ رھا تھا،اتنا ھی وہ اپنے انکار کی پوزیشن سے دور ھو رھا تھا۔ اب اس کے اندر ایک سوچ چل پڑی تھی، کہ اگر عارفہ خود مجھ سے پیار کر رھی ھے، تو اس میں میرا کیا قصور ھے۔ میں نے کون سا جا کر عارفہ کو مجبور کیا ھے۔اس کے اندر کا مرد دلیلیں گھڑ کر اس کو مطمئن کرنے کی کوششیں شروع کر چکا تھا، کہ اس نایاب موقع کو گنوانا کسی طرح سے بھی مناسب نہیں ھے۔ جس لڑکی کو دیکھ کر تم آھیں بھرا کرتے تھے، وہ خود بھی تمھیں ھی چاھتی ھے۔ اگر مرد ھو، تو اس کی محبّت کی صدا کا جواب تم بھی محبّت سے دو۔ وہ ایک لڑکی ھو کر اتنی جرّاٴت کر گئی ھے، تو تم ایک مرد ھو کر بھی ڈر رھے ھو۔ ، ،، یہ وہ خیالات تھے، جن کی بناٴ پر دلشاد نے ایک ارادہ باندھا، اور گھر آ کر سو گیا۔ اسے معلوم تھا، کہ کل عارفہ ضرور اس سے آخری جواب معلوم کرنے کے لئے آئے گی۔ اسے اب کل کا انتظار تھا۔ ایک فیصلے پر پہنچ جانے کے بعد اسے بڑی پر سکون نیند آئی تھی دوسرے دن عارفہ آئی، تو دلشاد حسب معمول اپنے کام میں مصروف تھا۔ وہ کماد کی فصل کو پانی لگا رھا تھا۔ عارفہ نے آتے ھی اس سے سیدھا سوال کیا۔ بتاؤ ، تم نے کیا سوچا ؟ دلشاد ، جو اپنے تئیں بڑی بڑی باتیں سوچے بیٹھا تھا، عارفہ کو سامنے دیکھ کر سب کچھ بھول گیا۔ اسے سمجھ ھی نہیں آ رھی تھی،کہ کیا کہے، اور اپنا جواب کن الفاظ میں عارفہ کو بتائے۔ آخر اس نے بے ربط جملوں میں عارفہ کو سمجھا دیا، کہ وہ بھی اس کی محبّت کا طالب ھے۔ اس کے باپ کے ڈر سے اس نے کل جو اس کو انکار کیا تھا، اس وجہ سے وہ بھی ساری رات سو نہیں سکا تھااس نے یہ باتیں کرتے ھوئے جب عارفہ کی آنکھوں میں جھانکا، تو اسے محسوس ھوا،کہ عارفہ کی آنکھیں بے حد سرخ تھیں۔ شائد وہ ساری رات روتی رہی تھی۔ لیکن دلشاد کا جواب سن کر عارفہ کے حسین چہرے پر پھول سے کھل اٹھّے تھے۔ عارفہ مسکرائی، تو دلشاد کو ایسا لگا، کہ ھر طرف بہار آ گئی ھو۔ عارفہ سرخ آنکھوں اور مسکراتے چہرے کے ساتھ آج پہلے سے بھی زیادہ حسین لگ رھی تھی۔ دلشاد کو اس وقت نہ جانے کیا ھوا، کہ اس نے آگے بڑھ کر پہلے تو اس کا ایک ھاتھ تھاما، اور پھر بالکل اچانک، اس نے عارفہ کو اپنی بانھوں میں بھر لیا۔ اس وقت اس کے اندر نہ جانے کہاں سے اتنی ھمّت آ گئی تھی۔ عارفہ اس کی اس بے باکی پر گھبرا گئی۔ مگر دلشاد نے اس کو اس وقت چھوڑا، جب اس نے اس کے ھونٹوں کو چوم ڈالا عارفہ شرمندہ ھو کر پیچھے کو ھٹی، تو دلشاد نے عارفہ سے کہا۔میں شرمندہ ھوں عارفہ،کہ میری وجہ سے تم ساری رات روتی رھی ھو۔ اگر مجھے پتہ ھوتا، کہ میرا ایک انکار میری جان کو اتنی تکلیف پہنچائے گا، تو میں کل ھی اقرار کر ڈالتا۔دلشاد کی اس بات سے عارفہ کا چہرہ گلنار ھو گیا۔ 

Post a Comment

0 Comments