تمہارا نام لیکر تڑپنا کیسا سلگنا کیسا
ہم کیا سوچ رہے ہوتے ہیں قمست ہمارے ساتھ کیا کھیل رہی ہوتی ہے ہم نہیں جانتے
سوچ میں کیا ہوتا ہے اور حقیقت کیا ہوتی ہے کوئی نہیں جانتا آنے والا وقت ہمارے لیے کیسا ہو گا ہم چاہتے تو ہیں محبت پیار اور پرسکون زندگی لیکن کوئی ہم کو جینے نہیں دیتا کسی کو ہم قسمت ایک تماشہ ہے جسے ہم۔کو نہ چاہتے ہوئے بھی دیکھنا پڑتا ہے سہنا پڑتا ہے جھیلنا پڑتا ہے مہوش بی ایس سی کر رہی تھی پڑھائی میں کافی اچھی تھی ماں نے چارپائی پہ بیٹھے آواز دی مہوش پتر اٹھ جا کھانا بنا لو تمہارے ابا اور بھائی کے آنے کا وقت ہو گیا ہے مہوش پڑھائی کر رہی تھی کتاب سائیڈ پہ رکھی اچھا امی میں برتن دھو لوں پہلے پھر کھانا بنا دیتی ہوں مہوش کے بابا سکول ٹیچر تھے بھائی کی موبائل کی شاپ تھی ایک بھائی اور اکیلی بہن تھی مہوش بولی امی جائیں مجھے دکان سے چکن لا دیں میں بریانی بنا دیتی ہوں ماں بولی ہر روز بریانی بنا لیتی ہو تمہارے بابا نہیں کھاتے پھر ان کے لیئے الگ سے کھانا بنانا پڑتا ہے مہوش بولی میں بنا دوں گئ آپ جائیں امی ل دیں چکن مجھے مہوش کھانا بنایا رات ہو چکی تھی وہ ٹی وی کے سامنے بیٹھی اپنا ٹی وی سیریل دیکھ رہی تھی اسے کوکنگ کرنے کا بہت شوق تھا وہ طرح طرح کے کھانے بناتی رہی تھی تجربات کرتی رہی دروازے پہ دستک ہوئی ماں نے بولا یہ کون آ گیا اس وقت ٹائم دیکھا رات کے 11 بج رہے ہیں بھائی نے دروازہ کھولا دیکھنا سامنے چاچا اور چاچی ہیں مہوش کے چاچا چاچی سلام کیا پھر مہوش کے بابا کے پاس بیٹھ گئے مہوش اٹھی اہنے کمرے میں چلی گئی وہ سٹڈی کرنے لگی مہوش کے بابا نے پوچھا بھائی اس ٹائم انا ہوا اللہ خیر کرے سب ٹھیک تو ہے نا چاچا بولا دیکھ بھائی بہت ضروری کام سے آیا ہوں میری بیٹی کا رشتہ آیا لڑکا دبئی یے میں چاہتا ہوں لڑکی کے ساتھ اپنے بیٹے عاصم کا وقت پاس کر دوں مہوش کے بابا بولے اچھی بات ہے ہمارے لیئے کیا حکم ہے چاچا کہنے لگے مہوش اور عاصم کی شادی کی بات کر رہا ہوں یہ سننا تھا کے مہوش کے بابا بولے دیکھ بھائی مہوش ابھی پڑھ رہی ہے میں اپنی بیٹی کی شادی ابھی نہیں کروانا چاہتا چاچا غصے میں بولے مہوش تم۔نے میرے عاصم کو دی ہوئی ہے بچپن سے مجھے کیوں لگ رہا ہے کے تم۔بہانے بناتے ہو اب رشتہ نہ دینے کے مہوش کے بابا نے کہا بھائی تیرا بیٹا نشہ کرتا ہے بات صاف سی ہے میں گھما پھرا کر بات نہیں کروں گا اور میں اپنی بیٹی کسی نشئی کو نہیں دوں گا چاچی چلا کر بولی شادی کے بعد اللہ نے چاہا سدھر جائے گا بیوی آئے گئ تو سدھار لے گی مہوش کے بابا نے انکار کر دیا میں ہرگز اپنی بیٹی کی زندگی برباد نہیں کروں گا مہوش دروازے کے پاس کھڑی سن رہی تھی دل گھبرا رہا تھا جسم کانپ رہا تھا بیٹیاں ڈر جاتی ہیں اہنے نصیب سے وہ کب بھلا منہ بھر کے کہہ سکتی ہیں مجھے اس سے نہیں شادی کرنی ماں باپ جس کے پلو سے باندھ دیں خاموشی سے چل پڑتی ہیں اور پھر کبھی یوں بھی ہوتا ہے ایک پڑھی لکھی لڑکی جب کسی بےقدرے کے ساتھ بیاہی جاتی ہے تورسواہوتے وقت کہاں لگتا ہے مہوش کا جسم کانپ رہا تھا اس کے سامنے کزن عاصم کا چہرہ تھا جو شرابی تھا اور ایک دو بار اس پہ چوری کا پرچہ بھی کٹ چکا تھا مہوش دعا مانگ رہی تھی دل ہی دل میں چاچا غصے سے اٹھے قسم اٹھا کر کہنے لگے مہوش میرے عاصم کی منگ ہے اور میں آنے بیٹے عاصم کے لیئے لے کر جاوں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے مہوش کے بابا بھی غصے سے بولے میری بیٹی ہے میں وہی اس کی شادی کروں بس یہاں مجھے اچھا لگا چاچا غصے سے چلے گئے مہوش رونے لگی ماں نے محسوس کیا مہوش رو رہی ہے مہوش کو اہنے پاس بلایا مہوش کی پلکیں بھیگی ہوئی تھیں امی مجھے عاصم سے شادی نہیں کرنی ماں نے سر پہ ہاتھ رکھا میری بچی نہ کرنا کون کروا رہا بھلا تمہاری شادی اس شرابی سے توں نہ اداس ہو مہوش کالج جانے لگی بی ایس سی مکمل ہوئی رزلٹ آنے والا تھا کاش تیرے دل میں فارس کی یہ داستاں اتر جائے بابا نے ایک رشتہ دیکھا لڑکا وکیل تھا وہ با اخلاق تھا سمجھدار تھا اسے حرام حلال اچھے برے کی پہچان تھی کسی دوست نے وہ رشتہ بتایا تھا باپ گھر آیا کی ماں سے مشورہ کرنے لگا ایک رشتہ آیا ہے مہوش کے لیئے لڑکا وکیل ہے اچھا ہے تم.بتاو کیا کہتی ہو میری طبعیت اب خراب رہتی ہے خدا جانے کب زندگی ساتھ چھوڑ جائے چاہتا ہوں اپنی زندگی میں اپنی بیٹی کا گھر بسا دوں لڑکے کے گھر گئے گھر دیکھا بہت پیارا گھر تھا سب لوگ بااخلاق اور مہمان نواز تھے مہوش کی ماں کو رشتہ بہت پسند آیا لڑکا جس کا نام توحید تھا وہ دیکھنے میں بہت پیارا تھا اس نے جھک کر سلام کیا اس کا بات کرنے کا انداز بہت ہی خوبصورت تھا رشتہ پسند آ گیا مہوش کی ماں نے توحید کی ماں سےکہا بہن آپ بھی اس جانا ہمارا گھر بوہا دیکھ لینا توحید کے ماں بھی گئے مہوش کو دیکھ بات پکی ہو گئی رشتہ طے پا گیا ادھر چاچا لوگوں کو جب پتہ چلا مہوش کا رشتہ کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا اگر ہم کو نہ دی تو گھر اس کا بھی آباد نہ ہونے دیں گے ہم اپنے ہی تو قاتل ہوتے ہیں ہماری چاہتوں کے ہماری خوشیوں کے ہمارے خوابوں کے ہماری روح کے توحید نے اپنی آپی سے کہا آپی جان مجھے مہوش کا نمبر دو لے دیں شادی سے پہلے کچھ باتیں کر لوں اس سے توحید کی بڑی بہن جو شادی شدہ تھی توحید سے بولی تم وکیل ہو اسے سوال کر کر کے تھکا دو گے بہت پیاری اور معصوم سی ہے ہماری ہونےوالی بھابھی توحید بولا آپی دیں نا نمبر اس کا آپی مسکرانے لگی صبر صبر دیتی ہوں توحید نے نمبر لیا مہوش کو میسج کیا ہیلو کیسی ہیں آپ مہوش نے رانگ نمبر دیکھا نمبر بلاک کر دیا توحید مسکرایا پھر کال کی دوسرے نمبر سے مہوش نت فون اٹھا کر کان سے لگا کر خاموش ہو گئی دوسری طرف سے توحید بولا مہوش میں بول رہا ہوں توحید آپ کا ہونے والا ہمسفر مہوش کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں پہلی بار وہ توحید سے بات کر رہی توحید نے حال پوچھا آہستہ سے بولی میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں توحید نے مسکرا کر کہا مہوش آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی مہوش نے آہستہ سے پوچھا ایسی کون سی ضروری بات ہے توحید پیار س کہنے لگا مہوش مجھ غلط نہ سمجھنا نہ ہی میرا کوئی غلط ارادہ ہے ہر کسی کی زندگی ہےاور ہر کسی کو حق ہے اپنی زندگی کا فیصلہ خود کرنے کا آپ میرے رشتے سے خوش تو ہیں نا مہوش بولی توحید ہم لڑکیاں نا خوش کب ہوتی ہیں بھلا بابا نے اگر آپ کو میرے لیئے پسند کیا ہے تو میں بابا کہ خوشی میں خوش ہوں توحید بولا مہوش وہ بات تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ کے دل میں کوئی اور ہے میرا مطلب آپ کسی سے محبت کرتی ہیں مہوش مسکرائی نہیں توحید صاحب ایسا کچھ نہیں ہے اور یقین رکھیں ہماری پاکدامنی کاشادی کے دن قریب آ رہے تھے مہوش خواب دیکھنے لگی ایک نئی زندگی کے توحید سے چند دن بات کر کے ہی توحید سے محبت ہو گئی تھی توحید دل میں بس گیا تھا چند دن میں ہی عادت ہو گئی تھی مہوش کو توحید کی اور توحید کو مہوش کی ایک دن توحید کام سے شہر سے باہر گیا تھامہوش سارا دن انتظار کرتی رہی توحید کی کال کا لیکن توحید نے نہ کوئی میسج کیا نہ ہی کوئی کال مہوش اداس ہو گئی رات گیارہ بجے کال آئی مہوش بے جلدی سے فون کان کے ساتھ لگایا توحید آپ کہاں تھے میری جان نکل رہی تھی کہاں چلے گئےتھے آپ توحید مسکرایا میری جان نہیں رہا جاتا نا اب مہوش کی آنکھ سے آنسو گرا توحید اب آپ کے بنا زندگی کا تصور بھی نہیں کر سکتی میں توحید پیار سے بولا بس چند دن میری جان پھر ہم ایک ہو جائیں گے ہمیشہ کے لیئے ایک دوسرے کی بانہوں میں آج شادی تھی ڈھول شہنائی بجائی جا رہی تھی ہر طرف خوشیوں کا سماں تھا دلہن بنی بیٹھی ہوئی تھی مہوش بلکل حور لگ رہی تھی بارات پہنچی مہوش بہت خوش تھی نکاح کا وقت ہوا دونوں نے ایک دوسرے کو قبول کر لیا نکاح ہو گیا وہ دونوں ایک دوسرے کے ہمسفر بن گئے لیکن یہاں ابھی قسمت کا کھیل باقی تھا ۔یہاں ایک قیامت باقی تھی یہاں آئی طوفاں آنا تھا یہاں ایک قیامت گزرنی تھی نکاح ہوا ہی تھا کے چاچو کا بیٹا عاصم شراب پی کر نشے میں دھت ہاتھ میں گن پکڑے ہوئے شادی ہال میں داخل ہوا توحید کی طرف فائرنگ شروع کر دی توحید کے بابا کو گولیاں لگی جو وہی پہ دم توڑ گئے ایک گولی توحید کو بھی لگی تھی کچھ باراتی بھی زخمی ہوئی عاصم نشے میں تھا چلا کر بولا سب کو مار دوں گا جو میری مہوش کو لینے آئے گا وہ میری ہے میں اس کو اہنا بنا کر رہوں گا توحید کے کندھے پہ گولی لگی تھی خون بہہ رہا تھا لوگ اکٹھے ہو گئے عاصم کو پکڑ لیا پولیس آ گئی عاصم کو گرفتار کر کے لے گئی دنیا بدل چکی تھی وہ دلہن کو لینے آیا تھا بابا کا قتل آنکھوں کے سامنے ہو گیا تھا ہر طرف خوف ہراس پھیل گیا تھا زندگی کیسے کایا پلٹتی ہے پل بھر میں مہوش کو جب پتہ وہ بے ہوش ہو گئی جلدی سے توحید کو ہسپتال منتقل کیا اپنے کمرے میں بیٹھی دلہن بنی بیٹھی رہی مہوش توحید کے گھر والے یہ کہہ کر مہوش کو چھوڑ گئے کے یہ منحوس ہے اس کے یار نے قیامت گرا دی ہے اپنی بیٹی کی رسوائی دیکھ کر ایک جنازہ اور اٹھ گیا مہوش کے بابا دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے یہ زندگی جب درد دیتی ہے تو جینا سزا کر دیتی ہے مہوش ہاتھوں پہ مہندی لگی لال جوڑا پہنے ہوئے نہ جانے کتنے ارمان تھے کتنے خواب تھے کتنی خوشیاں تھیں وہ ایک لاش بنی دیوار کے ساتھ لگی بیٹھی تھی توحید کا نمبر ملا رہی تھی لیکن نمبر بند آ رہا تھا بابا کا جنازہ ہوا وہ چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی اسے یقین نہیں ہو رہا تھا پل بھر میں یہ سب کیسے ہو گیا توحید ہسپتال میں تھا گولی اس کےکندھے کو چھو کر گزر گئی تھی بابا کی موت کا صدمہ تھا دن گزرنے لگے توحید گھر تھا سب نے کہا مہوش کو طلاق دے دو وہ لڑکی اچھی نہیں ہےمنحوس ہے بد چلن ہے توحید خاموش تھا کہنے لگا ہاں دے دوں گا طلاق کچھ دن صبر کر لیں مہوش اہنے کمر ے میں بیٹھی موبائل کہ طرف دیکھ رہی تھی شاید انتظار کر رہی تھی توحید کے فون کا توحید ابھی کوئی میسج کرے گا لیکن توحید دو مہینے گزر گئے تھے کوئی میسج کوئی کال نہ کی تھی مہوش نے میسج کیا توحید آپ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتے مجھ سے بات کریں توحید توحید میسج دیکھ لیتا لیکن ریپلائی نہ کرتا دن میں 50 بار کال کرتی مہوش توحید میں گنہگار ہوں نا آپ کی میری وجہ سے سب کچھ ہوا ہے نا آپ مجھے ڈانٹ لیں مجھے جو دل چاہے کہہ لیں لیکن اللہ کے لیے بات کریں مجھ سے اہنے ہاتھوں کی چوڑیاں توڑنے لگی پھر تصویر بنائی نازک کلائیوں سے خون بہہ رہا تھا توحید مجھے یوں سزا دیں ناکچھ تو کہیں توحید بیوی ہوں آپ کی توحید نے میسج بیجھا مہوش مجھے اب میسج نہ کرنا بس ایک دو دن تک طلاق کے پیپرز بیجھ دوں گا مہوش نے جب یہ پڑھا بے حال ہو گئی سب خواب خاک ہو گئے خوشیوں کو آ گ لگ گئی چیخ چیخ کر رونے لگی امی کو آوازیں دینے لگی ماں دوڑتےہوئے آئی مہوش خو سینے سے لگایا میری بچی حوصلہ کرو امی میں منحوس ہوں نا اہنے بابا کی جان لے لی توحید کے بابا کی بھی جان لے لی ماں نے بہت سمجھایا بیٹی اللہ کے لکھے پہ راضی ہو جا صبر سے کام۔لو اللہ سب بہتر کرے گا انشاللہ مہوش خاموش ہو گئی کھانا چھوڑ دیا جیسے ایک غم ایک دکھ اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا اسےجہیز کا سامان توحید کے گھر بیجھا ہوا تھا توحید کی بہن کی کال آئی اہنا سامان لے جائیں اٹھا کر مہوش نے فون کیا توحید کو توحید فون بند نہ کرنا بس ایک بار بات کر لو مجھ سے پھر چاہے طلاق دے دینا توحید غصے سے بولا ہاں سن رہا ہوں بولو مہوش تھکن بھری آواز میں بولی توحید میرا کیا قصور ہے مجھے کو گناہ کی سزا مل رہی ہے میں نے کیا کیا ہے توحید آپ طلاق دے کر چھوڑ جائیں گے میں تو مر جاوں گی نا میری بات سنیں بیوی ہوں آپ کی آپ کے ہاتھ میں ہے میرا جینا بھی میرا مرنا بھی بہت سے خواب تھےمیرے آپ کے ساتھ بہت ارمان تھےمیرے سب ختم۔ہو گئے اب کچھ بچا ہی نہیں میری زندگی میں توحید بہت سارا خیال رکھنا اپنا ایک بات کہوں سب کچھ واپس لے جانا مجھ سے اہنا لیکن منگنی کی انگھوٹی جو آپ نے خود پہنائی تھی وہ میرے پاس رہنے دینا چلو ہم پاس رکھ لیں گے تیری باتیں تیری یادیں محبت تیرے صدقے میں یہی ملتی ہیں سوغاتیں توحید بہت بہت بہت سارا خیال رکھنا اپنا اور ہاں معاف کر دینا مجھے میں پاگل سی ہوں کچھ بھی کہتی رہتی ہوں توحید سن رہے ہو نا توحید خاموش تھا ٹھیک ہے مہوش سو جاو رات کا ایک بج رہا ہے مسکرانے لگی نیند آتی میں نہیں اب بھلا سزائے موت کے قیدی کو جب خبر ہو جائے صبح اس کو سولی چڑھانا ہے تو وہ کب سو پاتا ہے کل مجھے طلاق دینی ہے آپ نے توحید میری جان کیسے سو سکتی ہوں لیکن آپ کہتے ہیں تو کوشش کروں گی سونے کی ہو سکتا ہمیشہ کے لیئے آنکھ لگ جائے مجھے سکون مل جائے توحید نے فون بند کر دیا آنکھیں بند کر کے لیٹ گئی آنکھوں سے نہ جانے کیوں آنسو بہہ رہے تھے صبح ہوئی سب گھر والے بیٹھے تھے ماں بہن بھائی بھابی چاچا چاچی کہنے لگے توحید آج طلاق دے کر جان چھڑوا لو اس سے منحوس کہیں کی توحید اٹھا بولا امی جان میں مہوش کو طلاق نہیں دوں گا امی اس بیچاری کا کیا قصور ہے اس کو کس جرم کی سزا دے رہے ہیں ہم امی ہم کسی اور کے گناہ کی سزا اس بے گناہ پہ کیوں ظلم کریں وہ پچھلے 3 مہینے سے میرے واسطے کر رہی ہے مجھ سے اہنا قصور پوچھ رہی ہے بھائی آپ ہی بتائیں کیا کہوں اس سے کے میں مرد ہوں اور تم عورت ہو بس تمہارا گناہ عورت ہونا ہے بھائی بابا ہمارے فوت ہوئے ہیں تو اہنا باپ اس نے بھی کھویا ہے ہم غصے انا میں اس کی زندگی کیوں برباد کریں چاچی جان آپ کہتی ہیں وہ منحوس ہے آپ کیسے کسی کو گنہگار ٹھرا سکتی ہیں امی کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گیا امی وہ اس گھر کی عزت ہے میری بیوی ہے میں اس کو طلاق نہیں دوں گا مجھے معاف کر دینا امی جان میں مہوش کو لینے جا رہا ہوں ماں نے مسکرا کر کہا بیٹا سوری ہم۔غصے کی آگ میں اس بیچاری کو گنہگار بنا بیٹھے تھے توحید مہوش کے گھر آیا مہوش بے حال سی ہال میں بیٹھی ہوئی تھی توحید گھر داخل ہوا مہوش کی ماں نے سر پہ ہاتھ پھیرا بیٹاطلاق کے پیپر مجھے دے دو مہوش کو رہنے دو توحید بولا خالہ جان مہوش کو بلائیں ذرا مہوش اتنے میں سامنے آئی وہ بے حال تھی توحید کی آنکھوں میں دیکھنے لگی پھر بولی آپ بیٹھیں میں آپ کے لیئے پانی لاتی ہوں توحید نے کہا ہاں پانی بھی لیکر آو اور اہنے ہاتھ کا کھانا بھی بنا کر کھلاو وہ ہاری ہوئی نہ جانے کیوں دل چاہ رہا تھا توحید کے سینے سے لگ جائےکھانا کھا لیا تو توحید بولا مہوش اہنا سامان پیک کرو اور میرے ساتھ اہنے گھر چلو مہوش چونک گئی اپنے گھر توحید مسکرایا ہاں میری جان اہنے گھر توحید آپ مجھے طلاق نہیں دے رہے توحید نے نہ میں سر ہلایا جلدی سے گھنٹے کے بل توحید کے سامنے بیٹھ گئی مجھے طلاق نہیں دے رہے آپ ماں رو رہی تھی توحید نے مسکرا کا ماتھے پہ بوسہ کیا نہیں میری جان کوئی طلاق نہیں دے رہا چلو اب جلدی سے تیار ہو جاو کانپتے ہاتھوں سے کبھی بیگ میں کپڑے رکھتی کبھی آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر خود کو سنوارتی آنکھوں میں آنسو تھے پلکیں بھیگی ہوئی تھیں بہت خوش تھی جیسے دونوں جہاں مل گئے ہوں اسے توحید کا ہاتھ پکڑا توحید چلیں توحید ہاتھ تھامے مہوش کو اپنی ہمسفر بنا کر گھر لے آیا مہوش بہت خوش تھی بہت خوش تیرے ہاتھ میں تھا میرا کھلنا بھی مرجھانا بھیایک صیح قدم ایک سمجھداری کا فیصلہ تھوڑی سی ہمت کسی کو برباد ہونے سے بچا سکتی ہے دو بیٹے دیئے اللہ نے مہوش ان کو پڑھا رہی تھی توحید گھر آیا مہوش نے پوچھا توحید آج پھربھول گئے نا دودھ کا ڈبہ لانا توحید بڑے بیٹے کی طرف دیکھتے ہوئے بولا قسم سے بہت ظالم ہو کورٹ میں وکیل میں ہوں گھر میں میری جج تم ہو لیکر آیا ہوں کار میں پڑا ہے اب مجھے کھانا دو جلدی سے مہوش ٹینڈے کی سبزی سامنے رکھ کر بولی یہ لو جان کھا لو بیٹا مسکرانے لگا پاپا میں نے تو برگر کھا لیا آپ کھائیں ٹینڈے توحید مہوش کی طرف دیکھ کر بولا جان دنیا میں یہی سبزی رہ گئی بس کیا ان کی محبت بھری زندگی کا سفر یوں جاری رہا صرف ایک سمجھداری کے فیصلے نے زندگی میں خوشیاں بھر دیں ملتے ہیں ایک نئی کہانی کے ساتھ اپنا بہت سارا خیال رکھیں

0 Comments