ہارا ساتھ کافی ہے
دلشاد اپنی جگہ پر بیٹھا رہ گیا ۔ جب اس نے محسوس کیا، کہ عارفہ اور شکیلہ واپس نہیں مڑ رھیں ، تو اس نے عارفہ کو آواز دی، اور کھڑا ھو گیا ۔
" عارفہ ، جاتے جاتے میری آخری بات سنتی جاؤ ۔ میں جانتا ھوں ،کہ تم بھی مجھ سے محبّت کرتی ھو ۔ لیکن میں یہ بات تمھارے منہ سے سننا چاھتا ھوں عارفہ ۔ کل دوپہر دو بجے تک، اگر تم یہیں اسی جگہ پر آ کر مجھ سے نہ ملیں ، تو میں سمجھوں گا، کہ تم مجھ سے محبّت نہیں کرتیں، اور میں اسی درخت سے لٹک کر اپنی جان دے دوں گا۔" اور عارفہ نے ایک دم سے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ شکیلہ نے اسے اپنی طرف کھینچا ۔ وہ جیسے دو پاٹوں میں پس کر رہ گئی تھی ۔ آخر اس نے دور سے ھی آواز لگائی ۔
" تم نے جان دینی ھے ، تو کل کی ابھی دے دو ، لیکن میری طرف سے کوئی امّید مت رکھنا ، سمجھے ۔ میں تم سے نفرت کرتی ھوں، اورت نفرت ھی کرتی رھوں گی ۔ صرف نفرت۔ "
" نہیں عارفہ ، گھر جا کر تسلّی سے اس بات پر سوچنا ۔ کل دو بجے تک وقت تمھارے ھاتھ میں ھے ۔ اگر تو تم نے آ کر ھاں کر دی، تو میں زندہ رہوں گا ، لیکن اگر تم نہ آئیں، تو تین بجے تک گاؤں میں میری موت کا اعلان بے شک خود ھی کروا دینا ۔ یہ میرا وعدہ ھے تم سے ۔ " عارفہ نے اس کے آخری الفاظ سنے، اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا ۔ شکیلہ سمجھی، کہ عارفہ نے بد ظن ھو کر دلشاد کو انکار کر دیا ھے ۔ اسے کیا معلوم تھا، کہ اس وقت عارفہ کے دل پر کیا بیت رھی تھی ۔
شکیلہ اور عارفہ چلتی ھوئی کافی دور نکل آئی تھیں ۔ دلشاد اب دور کھڑا نظر آ رھا تھا ۔
شکیلہ نے اسے حوصلہ دیا، اور دلشاد کو انکار کرنے پر اس کا منہ چوم لیا ۔ عارفہ پھیکے انداز سے مسکرائی ۔ شکیلہ اس وقت اس کی کیفیّت کا اندازہ لگانے میں ناکام ھو گئی تھی ۔ بظاھر دلشاد کو آخری لمحات میں انکار کر کے عارفہ دلشاد کے ھاتھوں دل کی بازی ایک بار پھر سے ھار آئی تھی ۔ اسے رہ رہ کر دلشاد کی باتیں یاد آ رھی تھیں ۔ اس کا دل چاھتا تھا، کہ ابھی جا کر دلشاد کے سینے سے لگ جائے، اور اس سے اقرار محبّت کر لے، لیکن شکیلہ سے کیا ھوا وعدہ اس کے پاؤں کی زنجیر بن کر رہ گیا تھا ۔ کھیتوں میں کھڑے ھو کر بھی جب شکیلہ اسے ایک طرف لے کر گئی تھی، تو اس وقت بھی اس نے اس کو یہی بات یاد کروائی تھی ۔ اور اسی وعدے کی بنیاد پر اس نے دلشاد کو مجبوراْ انکار کر دیا تھا ۔
اس کا گھر نزدیک آ چکا تھا ۔ اس نے شکیلہ کو خدا حافظ کہا، اور اپنے گھر میں داخل ھو گئی ۔ شکیلہ نے بھی اب اپنے گھر کا رخ کیا ۔ جانے سے پہلے اس نے دلشاد کی باتوں پر سوچنے سے روکنا ضروری سمجھا تھا ۔ عارفہ نے بھی سر ھلا دیا، جیسے اس کی ھدائت پر عمل کرنے کا وعدہ کر رھی ھو ۔ اسے کیا معلوم تھا ، کہ عارفہ تو کب کی ان باتوں کے گھیرے میں آ چکی تھی ۔
شام کو شکیلہ پھر سے عارفہ کے گھر میں پہنچ گئی ۔ اس کی ماں نے اسے بتایا، کہ عارفہ دوپہر سے سو رھی ھے ۔ شکیلہ نے عارفہ کے کمرے پر ھلکا سا دباؤ ڈالا، تو پتہ چلا ، کہ دروازہ اندر سے بند ھے ۔ اس نے دستک دی ۔ تیسری دستک پر عارفہ کی آواز سنائی دی ۔ شکیلہ نے دروازہ کھولنے کے لئے کہا، لیکن عارفہ نے کہا، کہ فی الحال وہ آرام کر رھی ھے ۔ شکیلہ بعد میں آ جائے ۔ شکیلہ نے اصرار جاری رکھّا، آخر عارفہ نے کافی دیر کے بعد دروازہ کھول ھی دیا ۔
شکیلہ اندر آئی ، تو اس نے دیکھا، کہ رو رو کر عارفہ کی آنکھیں سرخ ھو چکی تھیں ۔ گو کہ اس کی آنکھیں صاف تھیں، لیکن صاف پتہ چلتا تھا، کہ ابھی ابھی صاف کی گئی تھیں، اور تھوڑی دیر قبل تک ان سے خوب بادل برسے تھے ۔
شکیلہ نے کنڈی لگائی، اور عارفہ کے پاس آ کر بیٹھ گئی ۔
عارفہ اس سے نظریں چرا رھی تھی ۔
شکیلہ نے اس کو مخاطب کیا ۔
" میں نے کہا تھا ناں عارفہ، کہ آج کے بعد تم اکیلے میں بیٹھ کر بلا وجہ کسی بات پر بھی نہیں روؤ گی ۔ کہا تھا ناں میں نے ، اور تم نے بھی وعدہ کیا تھا۔ لیکن آج تمہارا سامنا دلشاد سے ھوا ھے،اور تم پھر سے رو رھی ھو ۔ اس کا مطلب ھے، کہ تم آج بھی اس سے محبّت کرتی ھو ۔ ھے ناں ؟ "
عارفہ نے انکار میں سر ھلا دیا ۔ اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکلے، اور اس کے گالوں کی طرف بہ گئے ۔ شکیلہ نے بھی ان آنسوؤں کو دیکھ لیا تھا ۔
" جھوٹ مت بولو عارفہ ۔ اگر تم اس سے محبّت نہیں کرتی ھو، تو پھر رو کیوں رھی ھو ۔ چلو اٹھّو، شاباش ۔ منہ ھاتھ دھوؤ ۔ پھر ھم دونوں تمھارے رقبے پر چلتے ھیں ۔ آج کل ویسے بھی آم بہت میٹھے ھیں تمھارے کھیتوں میں ۔اٹھّو ناں ۔ "
اور شکیلہ نے اسے باقاعدہ کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ عارفہ نے اس کا ھاتھ ایک طرف کر دیا ۔ شکیلہ نے اسے کہا، کہ چلو وہ اٹھنا نہیں چاھتی ، نہ اٹھّے، لیکن ایک بار مسکرا تو دے ۔ جواب میں عارفہ نے منہ پھیر لیا ۔ آخر شکیلہ نے اسے گدگدی کرنی چاھی، تو عارفہ جیسے ایک دم پھٹ پڑی ۔
" شکیلہ ۔ خدا کے لئے ، وہاں دلشاد خود کشی کرنے جا رھا ھے ، اور تم کو ھنسنے کی پڑی ھے ۔ کتنی سنگدل ھو تم ۔ "
اور شکیلہ نے اسے دیکھا۔ " اس کا مطلب ھے کیہ محبّت کا جنّ ابھی بھی سوار ھے تمھارے سر پر ۔
"نہیں ۔ "
" اگر نہیں، تو پھر مرنے دو اسے ۔
"لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ ؟"
" لیکن کیا ؟ اگر اس سے محبّت نہیں ھے، تو اس کا درد کیوں محسوس کر رھی ھو ؟ مرنے دو ، ویسے بھی وہ تمھاری بربادی کا ذمّہ دار ھے، سزا تو ملنی ھی چاھئے ناں ۔ "
" لیکن شکیلہ ، "
نہیں عارفہ ، مرنے دو اسے ۔ ویسے میں جانتی ھوں ، کہ وہ نہیں مرے گا ۔ یہ اس نے خالی دھمکی دی ھے ۔ تمھیں ڈرانے کے لئے ۔ وہ اتنا بہادر نہیں ھے عارفہ۔ تم ٹینشن مت لو ۔ "
" وہ کتنا بہادر ھے، وہ میں نے کل دیکھ لیا ھے شکیلہ ۔ " کچھ بھی ھے، لیکن اس کے مرنے میں ھمیں کوئی نقصان نہیں ھے ۔ کم از کم مجھے تو نہیں ھے ۔ "
عارفہ کافی دیر سے ضبط کر رھی تھی ۔ اس نے یہی کوشش کی تھی ، کہہ شکیلہ سے اپنے دل ی بات حتّی الامکان حد تک چھپا کر رکھّے، لیکن شکیلہ مسلسل دلشاد کی موت کی باتیں کر کے جیسے اس کے دل پر آراٴ چلا رھی تھی ۔ آخر عارفہ سے رہا نہ گیا، اور وہ چلّا اٹھّی ۔
" تمھیں فرق نہیں پڑتا تو نہ پڑے ، لیکن مجھے تو فرق پڑتا ھے شکیلہ بی بی ۔ ھاں ، مجھے فرق پڑتا ھے ۔ "
شکیلہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ، " اس کا مطلب ھے، کہ تم تسلیم کرتی ھو، کہ تمھیں آج بھی اس سے محبّت ھے ۔ "
ھاں، ھاں، میں مانتی ھوں ، کہ میں دلشاد سے محبّت کرتی ھوں ۔ شکیلہ میں جتنا صبر کر سکتی تھی، میں نے کر کے دیکھ لیا، لیکن میں آج کے دن تک بھی اس جگہ پر نہیں پہنچ پائی ھوں، جہاں سے میں دلشاد سے نفرت کے سفر کا آغاز کر سکوں ۔ تم ھی بتاؤ شکیلہ ، کہ اس میں میرا کیا قصور ھے ، میں نے ھر طرح سے کوشش کر کے دیکھ لیا، ھر دفعہ ھی میں دلشاد سے ، اس کی سوچوں سے ، اس کے خیالوں سے جان چھڑانے کا سوچ کر ایک نیا عزم باندھتی ھوں ، لیکن ھر دفعہ ھی میں ناکام ھو جاتی ھوں ۔ ان چھے مہینوں میں، کون سا دن ھے شکیلہ ، جب میں نے دلشاد کو یاد نہ کیا ھو ۔ تم ھی بتاؤ شکیلہ ،۔ کیا زبردستی بھی میں اس سے محبّت کر سکتی ھوں ۔ نہیں شکیلہ ، یہ دوھری کیفیّت کی اداکاری میں اب مزید نہیں کر سکتی ۔ خدا کے لئے ، مجھے دلشاد کے پاس لے چلو ، میں اس کو بتانا چاھتی ھوں، کہ اس کی عارفہ اس سے کتنا پیار کرتی ھے ۔ خدا کے لئے شکیلہ، خدا کے لئے ۔ کہیں ایسا نہ ھو ، کہ وہ اپنی جان دے دے ۔ یاد رکھنا شکیلہ ، اگر دلشاد کو کچھ ھوا، تو عارفہ بھی نہیں بچے گی ھاں ۔ یاد رکھنا ۔ "
اور شکیلہ اس کی بات سن کر دم بخود رہ گئی ۔ اس کے وھم و گمان میں بھی نہیں تھا، کہ عارفہ اس قدر جلدا س کے سامنے اعتراف کر لے گی ۔ شک تو اسے پہلے سے ھو رھا تھا، لیکن عارفہ کی جانب سے اسے اتنی جلد بازی کی ھر گز توقّع نہیں تھی ۔
شکیلہ نے عارفہ کو سمجھانا چاھا، لیکن عارفہ نے اس کی کسی بھی بات کو سننے سے انکار کر دیا ۔ وہ صرف دلشاد کی حمایت میں بات سننا چاھتی تھی ۔
شکیلہ ٹھنڈی سانس لے کر رہ گئی ۔ عارفہ یقیناْ پرانی سٹیج پر پہنچ چکی تھی، جہاں اسے دلشاد کے علاوہ کوئی دوسرا نظر ھی نہیں آتا تھا ۔ جدائی نے اسے دلشاد سے بظاھر تو دور کیا تھا، لیکن اندرونی طور پر وہ کھنچ کر دلشاد کے قریب
چلی گئی تھی ۔
آخر شکیلہ نے ھار مان لی ۔ اسے عارفہ کی حالت کا اندازہ ھو گیا تھا ۔ وہ سمجھ گئی تھی ، کہ اب اس نے عارفہ سے ضد کی، تو وہ پھر بھی دلشاد سے ضرور ملے گی ۔ لیکن شکیلہ کی مدد کے بغیر وہ اکیلی ھی دلشاد کو ملنے چل پڑتی، تو اس صورت میں وہ کسی مصیبت میں بھی پھنس سکتی تھی ۔
شکیلہ نے ٹھنڈے دماغ سے سوچا ، کہ اگر وہ عارفہ کا ساتھ دیتی ھے ، تو کم از کم عارفہ کے حوالے سے اسے ایک اطمینان تو رھےگا ۔
شکیلہ کو رضا مند دیکھ کر عارفہ کے مرجھائے چہرے پر پھول سے کھل اٹھّے تھے ۔ وہ ایک دم سے کھلی کھلی سی نظر آنے لگی تھی ۔ اب اس نے اپنی آنکھیں بھی صاف کر لی تھیں ۔
شکیلہ نے وعدہ کیا، کہ وہ اسے کل ھی دلشاد سے ملوا کر لائے گی ۔ عارفہ ابھی دلشاد سے ملنے پر بضد تھی ، لیکن شکیلہ نے اسے شام کی سرخی دکھائی ، اور کل تک صبر کا مشورہ دیا ۔ اس کے بعد اس نے اسے ایک ایسی بات کہی ، جسے سن کر عارفہ کا چہرہ شرم سے سرخ ھو گیا ۔
عارفہ اس کے گلے لگ گئی ۔ اسے اب کل کا انتظار تھا ۔ وہ نہیں جانتی تھی ، کہ کل کا دن اسے کتنی بڑی آزمائش سے دوچار کرنے والا تھا ۔شہزادی اپنے گھر میں لیٹی ھوئی گہری سوچوں میں ڈوبی ھوئی تھی ۔ اس نے آج عارفہ اور شکیلہ کو ایک ساتھ کھیتوں کی طرف جاتے ھوئے دیکھا تھا، اور اس کا ماتھا ٹھنکا تھا ۔ پھر جب اس نے ان دونوں کا پیچھا کیا، تو اسے پتہ چل گیا ، کہ دلشاد سے ان دونوں کی کم از کم آدھا گھنٹہ بات چیت ھوئی تھی ۔ یہ سب مناظر اس نے انتہائی احتیاط کے ساتھ دیکھے تھے ۔ دلشاد، شکیلہ اور عارفہ کو احساس تک نہیں ھو سکا تھا ، کہ کوئی ان کو دور سے کھڑا دیکھ رھا تھا ۔اب شہزادی کو یقین ھو چکا تھا ، کہ دلشاد اور عارفہ کی صلح ھوچکی ھے ۔ اور اگر ان کی صلح ھو چکی تھی ، تو وہ لازماْ ملیں گے بھی ،۔ اور یہی تو شہزادی بھی چاھتی تھی ۔ دلشاد سے انتقام لینے کا اس سے اچھّا موقع اور کوئی نہیں ھو سکتا تھا ۔شہزادی سوچتی جا رھی تھی ، اور اس کے چہرے پر موجود مسکراھٹ مزید گہری ھوتی جا رھی تھی ۔ اس نے دلشاد اور عارفہ کی نگرانی کا فیصلہ کر لیا تھا۔ جونہی وہ ان دونون کو ملتے ھوئے دیکھتی ، تو چوھدری کو کسی طرح سے خبر کر دیتی ۔ اس کے بعد کا کام چوھدری خود ھی کر لیتا ۔ اس طرح سانپ بھی مر جاتا ، اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹتی ۔ اس کے دل کی بھڑاس چوھدری کے ذریعے سے پوری ھو جاتی ، اور کسی کو پتہ بھی نہ چلتا ، کہ یہ ساری پلاننگ در اصل شہزادی کی تھی ،
اور یہ کہ شہزادی نے ایک تیر سے کتنے شکار کئے ھیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
اس نے اٹھ کر موبائل فون پر ایک نمبر ملایا اور گاؤں کے ایک آدمی سے بات کی ۔ یہ آدمی اس کے جسم کا خواھش مند تھا ، اور شہزادی اس کی خواھش پوری کرنے کے معاوضے کے طور پر اس کو دلشاد کے خلاف استعمال کرنے والی تھی ۔ اس آدمی نے بھی اس سے مکمّل تعاون پر آمادگی ظاھر کر دی تھی ۔
اسے تو شہزادی کے جسم سے مطلب تھا ۔ اور وہ اسے جلد ھی ملنے والا تھی ۔ بس ایک بار اسے دلشاد کے بارے میں ایک خبر چوھدری تک پہنچانا تھی ۔ وہ خبر کیا تھی ، وہ تو اسے ابھی تک شہزادی نے نہیں بتائی تھی ، لیکن اس نے جلد ھی بتانے کا وعدہ بھی کیا تھا ۔ ھو سکتا ھے، ایک دو دنوں میں ھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
دوسرے دن شکیلہ اور عارفہ پھر سے کھیتوں کی طرف چل پڑیں ۔
شہزادی بھی اپنے گھر سے باھر کھڑی ھوئی تھی ۔ اس نے دونوں کو پھر سے کھیتوں کی طرف جاتے دیکھا ، تو فوراْ گھر میں چلی گئی ۔ اندر جا کر اس نے ایک نمبر ڈائل کیا تھا ۔
شہزادی نے اپنے طلبگار سے بات کر کے اسے چند ضروری ھدایات دیں جنہیں سن کر وہ آدمی گھبرا گیا، لیکن جب شہزادی نے اسے اپنے جسم کے سہانے خواب دکھائے، اور بات کرنے کے لئے کچھ گر سمجھائے، تو وہ نیم رضا مند ھو ھی گیا ۔ شہزادی نے اسے حوصلہ دیتے ھوئے مکمّل طور پر راضی کر ھی لیا تھا ۔ اس آدمی کا نام رفیق عرف فیکا تھا۔ گاؤں والوں کی نظروں میں وہ ایک سادہ آدمی تھا، لیکن در حقیقت وہ ایک مکمّل لچّا شخص تھا۔ عورتوں کا حد درجہ رسیا فیکا ھر کام چھپ کر کرنے کا عادی تھا۔ آج تک اسے کوئی بھی کسی واردات کے دوران پکڑ نہیں سکا تھا ۔
در اصل شہزادی نے اس سے یہ کہا تھا ، کہ وہ چوھدری کے کانوں تک کسی بھی طرح سے یہ خبر پہنچا دے ، کہ اس وقت اس کی لاڈلی بیٹی کھیتوں میں دلشاد کے ھمراہ حالت۔ غیر میں موجود ھے ، اور دلشاد سے اس کا چکّر کئی ماہ سے چل رھا ھے ۔اس آدمی نے حالت غیر کا لفظ ہٹا کر باقی کی بات چوھدری کے ایک ملازم سے کر دی ۔ اس ملازم نے پہلےتو اس کو گریبان سے پکڑ لیا، اور دو تین تھپّڑ اس کے چہرے پر رسید کر دئے۔ وہ ملازم شائد اس کا گلہ ھی دبا دیتا، لیکن اس آدمی نے جب قسمیں کھائیں کہ وہ تو چوھدری کی عزّت کو بچانے کی نیّت سے یہاں تک آیا ھے ، تو اس ملازم نے کچھ سوچتے ھوئے اس کو چھوڑ دیا ۔
" تم نے یہ بات کسی کو بتائی تو نہیں ناں ؟ " ملازم نے قہر آلود نظروں سے اسے گھورتے ھوئے پوچھا تھا، جس پر اس نے نفی میں سر ھلا دیا ۔ ملازم اسے گہری نظروں سے دیکھ رھا تھا ۔ اس کی نظروں سے گھبرا کر اس کا دھیان بٹانے کے لئے فیکے نے چوھدری کا پوچھا، تو اس ملازم نے اسے بتایا، کہ چوھدری صاحب ایک لمبے کام سے شہر گئے تھے، لیکن اچانک واپس گاؤں میں آ گئے ھیں، ابھی ابھی پہنچے ھیں اور اس وقت وہ اپنے گھر میں ھی موجود ھیں ۔ اس آدمی نے جب وہاں سے جانا چاھا، تو اس ملازم نے اسے پکڑ کر اندر ایک مخصوص کمرے میں بند کر دیا ۔ اتنی حسّاس خبر دینے والے آدمی کو اتنی آسانی سے نہیں چھوڑا جا سکتا تھا ، تا جب تک چوھدری خود اس بات کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کر دے ۔ اس کے بعد وہ ملازم وہاں سے چلا گیا۔ یقیناْ وہ چوھدری کو معاملے کی حسّاسیّت سے آگاہ کرنے گیا ھو گا ۔
فیکا ڈر گیا۔ اسے اپنی موت یقینی نظر آنے لگی ۔
کچھ دیر بعد جب اپنے اسی وفادار ملازم کے ھمراہ چوھدری اس کمرے میں داخل ھو کر اس کے سامنے بیٹھ گیا، اور اسے بھی سامنے زمین پر بٹھا لیا، تو اس کی رہی سہی ھمّت بھی جواب دے گئی ۔ ملازم نے آتے ھی اس پر گن تان لی تھی ۔ خوف سے فیکے کا پیشاب خارج ھو گیا۔ چوھدری نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا۔
" ھاں تو مسٹر فیکے ، تم نے ابھی ابھی میرے ملازم سے کیا بات کہی ھے ؟ ذرا مجھے بھی بتاؤ۔ "
فیکے کے منہ سے آواز ھی نہ نکل سکی ۔ چوھدری سمجھ گیا، اور ملازم کو اشارہ کیا۔ وہ ملازم پانی لے کر آ گیا۔ فیکا حد درجہ دہشت زدہ دکھائی دے رھا تھا۔
اس کو پانی پلایا گیا، کیونکہ خوف سے اس کے ھونٹ خشک ھو چکے تھے، اور اس سے بولا بھی نہیں جا رھا تھا۔ اس کے بعد، چوھدری نے اپنا سوال دھرایا، اور اس کو سختی سے تاکید کی، کہ اب وہ فر فر ساری بات بتا دے ۔
فیکے کی زبانی ساری بات سن کر چوھدری کے تن بدن میں آگ لگ گئی ۔ اس نے فیکے کا چہرہ اوپر کو اٹھایا اور کہا ،
" یاد رکھنا فیکے ، اگر تیری زبان سے نکلا ھوا ایک لفظ بھی جھوٹ نکلا ناں ، تو میں تجھ پر دھی ڈلوا کر تجھے اپنے کتّوں کے آگے پھینکوا دوں گا ۔ "
فیکے کے اوسان خطا ھو گئے ۔ اس نے اس لمحے کو کوسنا شروع کر دیا، جب وہ شہزادی جیسی کمینی عورت کے کہے میں آ کر، بناٴ دیکھے، بناٴ سمجھے، چوھدری کی بیٹی کے متعلّق ایسی بات کہنے کے لئے چوھدری کے گھر کی طرف چل پڑا تھا ۔ اور وہ بھی کس لالچ کی خاطر ؟ زیادہ سے زیادہ جسم ہی تھاجو شہزادی اسے دے سکتی تھی ۔ وہ تو اسے کسی اور لڑکی سے بھی مل سکتا تھا، لیکن اگر یہ بات جھوٹ ثابت ھو گئی ، تو ۔۔۔۔۔۔۔ ؟ " اس سے آگے وہ سوچ کر ھی کانپ گیا ۔ اسے اپنی زندگی چند لمحوں کی مہمان لگنے لگی تھی ۔ چوھدری نے اپنے ملازم کی طرف دیکھا، اور اس کو لے کر ایک الگ کمرے میں آ گیا ۔ فیکے کو انہوں نے دوبارہ سے اسی کمرے میں بند کر دیا تھا۔
دوسرے کمرے میں آ کر چوھدری نے اس ملازم کو سب سے پہلے تو یہ ھدایت دی، کہ وہ اس معاملے میں اپنی زبان ھمیشہ کے لئے بند ھی رکھّے، ورنہ اس کی زبان ھمیشہ کے لئے بند کر دی جائے گی ۔ اس ملازم نےچوھدری کو اپنی وفاداری کا دوبارہ سے یقین دلایا، کہ ملازم ھمیشہ سے اپنے دنیاوی آقاؤں کے ساتھ مکمّل وفاداری، اور ان کے ھر راز میں رازداری کے پابند رھے ھیں ۔
اس کے بعد چوھدری نے اس کو کچھ سمجھایا، اور روانہ کر دیا۔ ملازم حکم پا کر فوراْ وہاں سے چلا گیا۔ اس کے بعد چوھدری ایک طرف رکھّی کرسی پر جیسے ڈھے سا گیا ۔ اسے حیرت اس بات پر تھی ، کہ اس کی بیٹی ، گاؤں کے چوھدری کی بیٹی کے ساتھ بھی گاؤں کا کوئی لڑکا، اور وہ بھی دلشاد جیسا لڑکا ، عشق لڑا سکتا ھے ۔ کیا گاؤں کے لڑکوں میں واقعی اتنی جرّٴات آ گئی تھی ؟ جوں جوں وہ سوچ رھا تھا ، توں توں اس کے اندر کا درندہ وحشت کی طرف بڑھ رھا تھا ۔ چوھدری کے اعصاب چٹخنا شروع ھو رھے تھے ۔ اور بات بھی تو ایسی ھی تھی ۔ اس کی اپنی بیٹی کے بارے میں ۔ ۔ ۔ ۔ !
فیکے کی بات سن کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا تھا ۔ اس نے ملازم کو صرف گاڑی تیّار کرنے کے لئے بولا تھا ۔ اگلا کام کیا کرنا ھے، اور کب اور کیسے کرنا ھے ، اس کے متعلّق چوھدری نے خود ھی کارروائی کرنے کا سوچ لیا تھا ۔ وہ اپنی بیٹی کے معاملے میں ملازموں پر مکمّل انحصار نہیں کر سکتا تھا ۔جب سوچ سوچ کر اس کے سر میں درد ھو گیا، تو وہ دوبارہ سے فیکے کے پاس چلا گیا ۔ اتنے میں اس کے ملازم نے اسے آ کر اطّلاع دی، کہ گاڑی تیّار ھے ۔ چوھدری نے فیکے کی طرف دیکھا، اور کمرے سے نکل گیا ۔ فیکا اسے رحم طلب نظروں سے دیکھتا ھی رہ گیا ۔
عارفہ اور شکیلہ دو بجے سے ایک گھنٹہ پہلے ھی دلشاد کے پاس پہنچ چکی تھیں ۔
عارفہ کی آنکھوں میں سہانے سپنے تھے۔ وہ خود کو ھواؤں میں اڑتا ھوا محسوس کر رھی تھی ۔ اس کی محبّت، دلشاد دوبارہ سے اسے مل گیا تھا ۔ اسے ایسا لگ رھا تھا، جیسے اس کے ھاتھوں میں ھفت اقلیم کا خزانہ آ گیا ھو ۔ شکیلہ بھی اس کی اس کیفیّت کو دیکھ رھی تھی ۔ وہ جانتی تھی، کہ عارفہ دلشاد کے معاملے میں ھمیشہ سے ھی ایسی رھی تھی ۔ اس نے اپنی سہیلی کو اس دیوانگی سے نکالنے کے لئے بہت کوشش کی تھی، لیکن ناکام رھی تھی ۔ ایک وقت آیا تھا، کہ جب عارفہ اس کے کہنے میں آ گئی تھی، اور دلشاد کے اور اس کے درمیان میں دوری آ گئی تھی، لیکن وہ دوری بھی ان کو ھمیشہ کے لئے دور نہ رکھ سکی، بلکہ فلم کے ھاف ٹائم میں آنے والا انٹرول ثابت ھوئی تھی، اور آج وہ انٹرول ختم ھو چکا تھا ۔ انٹرول، جو ان کی محبّت کی کہانی کو اور بھی شدید کر گیا تھا، اور جس کے بعد ان کی محبّت اور بھی زور شور سے شروع ھونے والی تھی ۔
دلشاد اپنے کھیتوں میں کھڑا ان کا انتظار ھی کر رھا تھا۔ وہ آج بھی اسی مخصوص جگہ پر موجود تھا، جہاں کل اسے عارفہ چھوڑ کر گئی تھی ۔ اس نے اور عارفہ نے ایک دوسرے کو دیکھا، تو عارفہ اندر تک تڑپ گئی ۔دلشاد بولا ۔
" مجھے یقین تھا عارفہ، کہ تم ضرور آؤ گی ، لیکن اگر تم نہ آتیں ، تو تم ساری زندگی اپنے دلشاد کو دیکھنے کے لئے تڑپتی رھتیں ۔ " تو شکیلہ کو ایسے لگا، کہ جیسے عارفہ ابھی بھاگ کر دلشاد کے گلے سے لگ جائے گی ۔ اس نے مداخلت ضروری سمجھتے ھوئے ان دونوں کو کھیت کے مخصوص کونے میں جانے کا کہا ۔
عارفہ شرما گئی، اور دلشاد نے بھی مسکرا کر سر جھکا دیا ۔
کھیت کے اس کونے میں آ کر عارفہ دلشاد کے سینے سے لگ گئی۔ دلشاد نے بھی اسے ایسے لپٹا لیا، جیسے وہ صدیوں بعد ملے ھوں ۔ اور یہی حقیقت بھی تھی، کہ ان کو جدائی کے چند مہینے ھی صدیوں پر محیط لگ رھے تھے ۔
"آج، کتنے عرصے بعد ملے ھو ناں تم دلشاد ۔ "
یہ وہ جملہ تھا، جو عارفہ نے اس سے کہا تھا، اور دلشاد تڑپ کر رہ گیا تھا ۔ اس نے اور زور سے عارفہ کو اپنے ساتھ چمٹا لیا تھا۔ وہ اس سے معافی مانگے جا رھا تھا ۔ عارفہ نے اس سے خاموش ھو جانے کو کہا، دلشاد پھر بھی چپ نہ ھوا، تو عارفہ نے اس کے ھونٹوں پر اپنے ھونٹ رکھ دئے ۔ دلشاد کی آواز منہ میں ھی کہیں دب گئی ۔ اس کے بعد جذبات کا ایک طوفان سر اٹھانے لگا، لیکن دلشاد نے خود کو سنبھال لیا، او ر بولا،
" نہیں عارفہ ، میں اب یہ سب تمھارے ساتھ نہیں کروں گا ۔ "
عارفہ حیران رہ گئی ۔ اس نے دلشاد کی طرف دیکھا، جیسے اس کو اس کی بات سمجھ میں نہ آئی ھو ۔دلشاد نے کہا، " عارفہ ، میں ان تمام دنوں پر بہت شرمندہ ھوں، جب جب میں نے تمھارے ساتھ یہاں کچھ بھی غلط کیا، لیکن اب میں اس کہانی کو دھرانا نہیں چاھتا ۔ میں نے اس لئے تم سے معافی نہیں مانگی، کہ میں دوبارہ سے تم کو اس جگہ پر لا کر حاصل کر سکوں ، بلکہ میں تو اب اس محبّت کو ایک پاکیزہ روپ دینا چاھتا ھوں ۔ ایک سچّے رشتے کا روپ ۔ ۔ ۔ ۔اس کے بعد، اس نے عارفہ کا شرم سے گلنار ھوتا چہرہ اپنے دونوں ھاتھوں میں بھرتے ھوئے کہا۔
" مجھے معلوم ھے عارفہ، کہ میں تمھارے قابل نہیں ھوں ، میری اور تمھاری حیثیّت میں زمین آسمان کا فرق ھے ۔ لیکن پھر بھی میں اپنے باپ کو ایک بار تمھارے گھر ضرور بھیجوں گا، تا کہ وہ تمھارے باپ سے تمھارا ھاتھ مانگ سکے ۔ "
اس کی بات سن کر عارفہ خوش تو ھوئی، لیکن اس کی یہ خوشی لمحاتی تھی، جو اگلے ھی لمحے یاس، اور اس کے بعد خوف میں بدل گئی ۔ اس نے دلشاد کے منہ پر ھاتھ رکھتے ھوئے کہا۔،
" ایسا ظلم مت کرنا دلشاد، تم میرے باپ کو مکمّل طور پر نہیں جانتے ۔ وہ میرے سارے لاڈ اٹھا سکتا ھے ، لیکن میرا رشتہ تمھارے لئے وہ کبھی بھی نہیں دے گا دلشاد۔ بلکہ ایسا کرنے سے الٹا تم خود ھی مصیبت میں پڑ جاؤ گے ، اور ھو سکتا ھے تمھارے باپ کے ساتھ بھی کچھ اچھّا سلوک نہ ھو ھماری حویلی میں ۔ ۔ "
دلشاد اس کی باتیں سن رھا تھا ۔ اسے خود بھی اس ساری حقیقت کا علم تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اور عارفہ کے ملن کے سپنے بن رھا تھا ، امّیدیں باندھ رھا تھا ۔ سچّ کہتے ھیں ، محبّت کرنے والے دیوانے ھی ھوتے ھیں ۔ وہ بھی عارفہ کی محبّت میں دیوانہ ھو چکا تھا ۔ اسے چوھدری کی کرخت طبیعت کا علم بھی تھا، اور اپنی اور عارفہ کے درمیان موجود حیثیّت کے فرق کا اندازہ بھی تھا، لیکن ان سب باتوں کے باوجود وہ عارفہ کو خیالوں ھی خیالوں میں اپنی دلہن کے روپ میں دیکھ رھا تھا ۔
اس دن عارفہ اور وہ اسی طرح کی باتیں کر کے رخصت ھو گئے ۔ انہیں معلوم ھی نہیں ھو سکا تھا، کہ چوھدری کی گاڑی نہر کے کنارے والی سڑک پر چلتی ھوئی، دور، دلشاد کے کھیت کے برابر میں آ کر رک چکی تھی ۔ شکیلہ بھی اس گاڑی کو نہیں دیکھ سکی تھی ، کیونکہ وہ سڑک اطراف سے گھنے درختوں میں گھری ھوئی تھی ۔ دور سے بیٹھ کر اس سڑک پر ھونے والی نقل و حرکت کا صحیح اندازہ لگانا اتنا آسان نہیں تھا ۔
عارفہ آ گئی ، تو شکیلہ بھی کھڑی ھو گئی ۔ عارفہ نے اسے چلنے کا اشارہ کیا، تو وہ بھی اس کے ساتھ چل پڑی ۔ ان کا رخ گاؤں کی طرف تھا ۔
شکیلہ اور عارفہ کے جانے کے بعد، دلشاد بے حد خوش تھا ۔ وہ کچھ دیر تک اپنے کھیتوں میں ھی پھرتا رھا ۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آ رھا تھا ، کہ عارفہ ابھی ابھی اسے مل کر گئی ھے ۔ اتنا خوش تو وہ کسی عید پر بھی شائد ھی ھوا ھو، جتناخوش وہ آج ھو رھا تھا۔ اس کےانگ انگ سے خوشی چھلک رھی تھی ۔
کہتے ھیں ، کہ انسان کو ایک حد سے زیادہ خوش بھی نہیں ھونا چاھئے ، مبادا کسی کی نظر لگ جائے ۔ اور دلشاد کے ساتھ بھی یہی ھوا تھا ۔
اس کی خوشیوں کو شائد اس کی اپنی ھی نظر لگ گئی تھی ۔
تقدیر نے اس کو دکھوں اور تکلیفوں کی اتھاہ گہرائیوں میں پھینکنے کا قطعی فیصلہ صادر کر دیا تھا ۔
دلشاد اپنی ھی مستی میں ڈوبا ھوا اپنی زمین میں موجود تھا ۔ اسے اندازہ ھی نہیں تھا، کہ آج اس کے ساتھ کیا ھونے والا تھا ۔ وہ خوش خوش اپنے کھیت میں پھر رھا تھا ، جب اسے دور سڑک پر چوھدری کی جیپ نظر آئی، جو دھیرے دھیرے اس کے کھیت کی طرف ھی بڑھ رھی تھی ۔ وہ دم بخود رہ گیا ۔
" کیا چوھدری گاؤں میں موجود ھے ؟ "
اس نے سوچا ۔
لیکن اس کی یاد داشت کے مطابق تو چوھدری ایک انتہائی ضروری کام کے سلسلے میں مہینے کے لئے گاؤں سے باھر گیا ھوا تھا ۔ پھر وہ ایک مہینے سے پہلے کیسے آ سکتا ھے ؟
ایک دم سے اس نے اس رستے کی طرف دیکھا، جہاں سے عارفہ اور شکیلہ گئی تھیں ، لیکن وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔ اس نے اطمینان کی ایک سانس لی ۔ وہ دونوں تو شائد اس وقت تک گھر بھی پہنچ چکی ھوں ۔ھو سکتا ھے ، چوھدری کا کوئی ملازم ھی گاڑی چلا رھا ھو ۔ دلشاد نے سوچا، لیکن پھر اسے یاد آیا، کہ یہ تو چھدری کی مخصوص جیپ تھی ۔ اس گاڑی پر تو وہ خود ھی سفر کرتا تھا ۔ اب بھی جیپ یقیناْ اسی کے زیر استعمال تھی۔ یعنی اس وقت چوھدری بذات۔ خود بھی گاڑی میں موجود تھا ۔ اس کی ریڑھ کی ھڈّی سنسنا اٹھّی ۔
" اس کا مطلب یہ ھوا، کہ جس وقت میں اور عارفہ ملاقات کر رھے تھے، اس وقت بھی چوھدری گاؤں میں، یعنی اپنے گھر میں ھی موجود تھا ۔ "
اس خیال نے دلشاد کو پسینے پسینے کر دیا ۔ لیکن پھر اسے ایک طرف سے اطمینان محسوس ھوا، کہ کم از کم عارفہ اور شکیلہ تو اس وقت یہاں موجود نہیں ھیں ۔ چوھدری کو کیا معلوم ، کہ ابھی کچھ ھی دیر پہلے عارفہ یہاں موجود تھی ۔
وہ خود ساختہ دلاسوں سے قدرے مطمئن ھو گیا ۔
گاڑی اب اس کے کھیت کے برابر سے گزر رھی تھی ۔ یقیناْ چوھدری اپنے کھیت کی طرف جا رھا تھا ۔ ، ، ، لیکن یہ کیا؟ گاڑی تو اس کے کھت کے برابر میں آ کر رک گئی تھی ۔ اور اگلی سیٹ سے چوھدری بر آمد ھوا ۔ اس کے ساتھ اس کا دیرینہ ملازم بھی موجود تھا ۔ اس ملازم کو دیکھ کر گاؤں کے بڑے بڑے جوانوں کا پتّہ پانی ھو جاتا تھا ۔
دلشاد نے دیکھا، کہ چوھدری اور اس کا ملازم اب اس کے کھیت میں داخل ھو گئے تھے ۔
دلشاد کے اوسان خطا ھونا شروع ھو گئے۔ آج سے پہلے تو چوھدری کبھی اس کے رقبے میں داخل نہیں ھوا تھا ۔ تو پھر آج ھی کیوں ؟
چوھدری اس کو دیکھتا ھوا اس کے قریب آ رھا تھا ، اور دلشاد اندر سے ھمّت چھوڑ رھا تھا ۔ پھر اس نے یہ سوچ کر خود کو دلاسہ دیا، کہ جو بھی ھو گا، دیکھا جائے گا ۔ خواہ مخواہ ڈرنے کی کیا ضرورت ھے ۔ ھو سکتا ھے چوھدری کسی کام سے ھی آیا ھو ۔
چوھدری اب اسے کے پاس آ چکا تھا ۔ دلشاد نے حوصلے مجتمع کرتے ھوئے اسے سلام کیا ۔ چوھدری ایک ٹک اسے ھی گھورے جا رھا تھا ۔ دلشاد اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکا، اور اس کی نظریں جھک گئیں ۔ چوھدری کا ملازم دلشاد کے عقب میں پہنچ چکا تھا ۔ اس کے ھاتھ میں انتہائی جدید قسم کی گن موجود تھی ۔ یہ بڑی ھی ڈرامائی صورت حال بن گئی تھی ۔ دلشاد کے سامنے چوھدری موجود تھا ۔ وہ نہ تو منہ سے کچھ بول رھا تھا ، اور نہ ھی اس کے انداز سے دلشاد کو کچھ سمجھ آ رھی تھی۔ دسری طرف چوھدری کا خاص ملازم ڈانگر، اس کے عقب میں گن لئے کھڑا تھا ۔ گویا ایک طرح سے اب دلشاد ان دونوں کے گھیرے میں تھا ۔
دلشاد اندر سے ٹھیک ٹھاک گھبرا چکا تھا ۔ جب اسی کیفیّت کو کچھ لمحے گزر گئے ، تو دلشاد نے ھمّت کر کے دوبارہ سے زبان ھلائی ۔
" چوھدری صاحب ، خیر تو ھے ناں ، آپ، اور اچانک، میرے رقبے میں ۔ مجھے تو یقین ھی نہیں ھو رھا جناب ۔ آپ بیٹھیں ناں ، آئیں ، وہاں چارپائی موجود ھے کماد کے ساتھ ۔ "
لیکن چوھدری پھر بھی کچھ نہ بولا ۔ اب دلشاد مکمّل طور پر سمجھ چکا تھا ، کہ چوھدری کو اس کی اور عارفہ کی محبّت کی خبر ھو چکی ھے، ورنہ وہ اس طرح سے یوں کبھی نہ آتا، اور اسے اس انداز سے کبھی نہ گھورتا ۔
دلشاد یہ سوچ رھا تھا، کہ اچانک چوھدری گویا ھوا ۔
" " کاکا، کیا نام ھے تمھارا ، ھاں ، دلشاد ۔ یار، تم سے ایک ضروری کام پڑ گیا ھے ۔ باغ میں جا رھا تھا ، تم کو دیکھا، تو سوچا، ابھی کہتا جاؤں ۔ "
اور دلشاد کے منہ سے ایک پر سکون سانس خارج ھو گئی ۔ اسے اطمینان ھوا، کہ اس کے اندیشے غلط ثابت ھوئے تھے ۔ چوھدری تو اس کے پاس کسی کام سے آیا تھا ۔
" آپ حکم کریں جناب ۔ میں آپ کا خادم ھوں ۔ "
دلشاد کی بات سن کر چوھدری نے اسے ایک نظر دیکھا، اور بولا ۔ " یار، کام یوں بتانے کا نہیں ھے ۔ کیا تم ایسا نہیں کر سکتے، کہ آج شام کو بلکہ رات کو آٹھ بجے ، میرے آم کے باغ والے ٹیوب ویل پر آ جاؤ ۔ وہاں پر تمھیں کام بھی سمجھا دیا جائے گا، اور وہاں پر آج کی رات تمھاری ضرورت بھی ھے، اور ھاں ، وہاں پر تم آج رات ھمارے مہمان کی حیثیّت سے آؤ گے ۔ آخر ھمیں تم سے کام ھے ، تو تمھاری خاطر کرنا تو ھمارا فرض بنتا ھے ناں ۔ "
دلشاد چوھدری کی اس بات سے شش و پنج میں پڑ گیا ۔ اسے یقین ھی نہیں آ رھا تھا ، کہ چوھدری اس وقت اس کے پاس موجود اس قدر شیریں لہجے میں اس سے بات کر رھا ھے ۔ چوھدری تو کبھی گاؤں کے کسی بزرگ سے بھی سیدھے منہ بات نہیں کیا کرتا تھا ۔ یقیناْ دال میں کچھ کالا ھے ۔ کہیں ، ، ، ؟
ابھی وہ یہی سوچ رھا تھا، کہ چوھدری نے دوبارہ سے کہا، " کیا بات ھے ؟ تم کچھ پریشان لگ رھے ھو؟ کیا تم آنا نہیں چاھتے ؟ " آخری فقرہ کہتے کہتے چوھدری کا لب و لہجہ غصّیلا ھو گیا، اور دلشاد نے نہ چاھتے ھوئے بھی اقرار میں سر ھلا دیا ۔
وہ انکار کر ھی نہیں سکتا تھا۔ اسے معلوم تھا، کہ جب بھی چوھدری کو کسی سے کام درپیش ھو، تو وہ اس آدمی کو صرف ایک بار ھی کام کرنے کا کہتا ھے ، جو کہ ایک طرح سے حکم کا درجہ رکھتا ھے ۔ چوھدری کو انکار سننے کی عادت ھی نہیں تھی ۔ اور چوھدری تو دور کی بات تھی، چوھدری کے ملازم بھی چوھدری کا نام لے کر گاؤں کے کسی بھی آدمی کو کوئی کام کہ دیتے تھے، تو اس آدمی کی اتنی جرّاٴت نہیں ھوتی تھی، کہ ان کو انکار کر دے ۔ جب اس کے ملازموں کی دھشت کا یہ عالم تھا، تو پھر چوھدری کو انکار کون کر سکتا تھا۔ دلشاد بھلا اسے کیسے انکار کر سکتا تھا ۔ چوھدری نے اس کے اقرار میں ھلتے سر کو دیکھ کر اپنے ملازم کو دیکھا، اور بولا ۔
" لو دیکھ لو ڈانگر، تم تو کہتے تھے، کہ اسے منانا بڑا مشکل ھو سکتا ھے ۔ کتنی آسانی سے مان گیا ھے یہ ۔ کیوں کاکا دلشاد ؟ "
یہ کہ کر اس نے دلشاد کی طرف دیکھا، اور دلشاد نے پھر سے اقرار میں سر ھلا دیا، جیسے اس کی بات کی تائید کر رھا ھو ۔اس کے بعد چوھدری نے اسے پھر سے وقت پر پہنچنے کی تاکید کی، اور وہاں سے چلا گیا ۔ اس کے پیچھے پیچھے ڈانگر بھی چل رھا تھا ۔
چوھدری جا چکا تھا ، اور دلشاد گہری سوچوں میں ڈوبا ھوا تھا۔ اسے کسی خطرے کی بو آنا شروع ھو گئی تھی ۔ اس کی چھٹی حس نے اسے خبر دار کرنا شروع کر دیا تھا ۔
لیکن مسئلہ یہ تھا، کہ وہ چوھدری کو ہاں کہ چکا تھا ۔ ناں کا تو سوال ھی پیدا نہیں ھوتا تھا ۔ اور اگر دلشاد وہاں شام کو نہ جاتا، تو بھی اس کی شامت آنا لازمی امر تھا ۔وہ ایک عجیب مخمصے میں پھنس گیا تھا ۔ آخر اس نے اپنے دوست، اکرم سے مشورہ کرنے کے لئے گاؤں کا رخ کیا ۔
دلشاد کی قسمت، کہ اس وقت گاؤں میں اکرم موجود نہیں تھا۔ میں بھی ان دنوں اسلام آباد میں موجود تھا ۔ اسے کوئی رازداں میسّر نہیں آیا، تو اس نے شکیلہ سے رابطے کا فیصلہ کیا، لیکن اسے اس وقت شدید مایوسی ھوئی، جب اسے معلوم ھوا، کہ شکیلہ کا شوھر اچانک آیا، اور شکیلہ کو لے کر واپس چلا گیا ھے ۔ شائد اس کے گھر میں کوئی ایمر جنسی ھو گئی تھی ۔ اب تو دلشاد کو کوئی بھی ایسا رازداں دوست نہیں مل رھا تھا، جس سے وہ اس خطرناک بات پر مشورہ کر سکے ۔آخر اسے اکیلے ھی فیصلہ کرنا پڑا، اور وہ سب کچھ تقدیر پر چھوڑتے ھوئے شام کو چوھدری کی بتائی ھوئی جگہ پر پہنچ گیا ۔
رات کا وقت تھا، جب دلشاد چوھدری کے رقبے میں پہنچا تھا ۔ ھر طرف ھو کا عالم طاری تھا۔ اوپر سے چاند بھی اپنی آخری تاریخوں پر تھا، اور رات کے آخری پہر میں ھی طلوع ھوتا تھا۔ ورنہ تو چاندنی رات بھی بذات خود انسان کے لئے ایک حوصلہ ھوا کرتی ھے ۔ رات اگر اندھیری ھو، تو انسان اکیلے میں خواہ مخواہ بھی ڈر سکتا ھے، دلشاد تو پھر چوھدری جیسے سفّاک انسان کے سامنے پیش ھونے والا تھا۔ اوپر سےاس کی بیٹی سے دلشاد کا چکّر بھی عروج پر جا رھا تھا۔
دلشاد ڈر بھی رھا تھا اور خود کو تسلّی بھی دے رھا تھا۔ اسے رہ رہ کر عارفہ کا خیال آ رھا تھا ۔ شکیلہ کے جانے کے بعد سے وہ عارفہ سے مشورہ کرنے کے قابل بھی نہیں رھا تھا ۔ نہ ھی کوئی دوست موجود تھا جس سے وہ مشورہ کر سکتا ۔ کہیں چوھدری اسے کسی سازش کے تحت تو نہیں بلا رھا ؟ اگر واقعی میں ایسا ھی تھا تو دلشاد کے لئے بہت برا تھا ۔ بہر حال، اب جو بھی تھا۔ دلشاد اس کا سامنا کرنے کے لئے خود کو تیّار کر چکا تھا ۔
ابھی وہ ٹیوب ویل پر پہنچا بھی نہیں تھا، کہ اچانک ایک طرف سے کچھ نقاب پوشوں نے اسے پکڑ کر قابو کر لیا۔ انہوں نے آتے ھی اس کی آنکھوں اور منہ پر کپڑا رکھ دیا۔ دلشاد اس اچانک افتاد سے گھبرا گیا ۔ اس نے اپنے دفاع کی کوشش کی، لیکن وہ لوگ اس پر اتنی اچانک حملہ آور ھوئے تھے، اور انہوں نے آتے ھی اسے اس انداز سے جکڑ لیا تھا، کہ دلشاد ھلنے جلنے کے قابل بھی نہیں رھا تھا ۔ وہ لوگ دلشاد کو مسلسل مار رھے تھے ۔ اس کے منہ پر کپڑا بھی باندھ دیا گیا تھا تا کہ وہ چلّا نہ سکے، اور اس کی آواز سن کر کوئی اس طرف نہ آ نکلے ۔ دلشاد گو کہ ان کی گرفت سے نکل نہیں سکتا تھا، پھر بھی وہ اپنے طور پر نکلنے کی بھر پور جدّو جہد ضرور کر رھا تھا۔ اچانک دلشاد کی آنکھوں کے سامنے تارے سے ناچنے لگے ۔ اسے اپنے جسم پر پڑنے والی دوسری ضربوں کا احساس تو ھو ھی رھا تھا، لیکن اب اسے اپنے سر پر انتہائی شدید درد کا احساس ھوا تھا۔ شائد اس کے سر پر کسی نے وار کیا تھا، جو اتنا شدید تھا، کہ دلشاد کے ھوش و حواس جواب دینے لگے، اور پھر وہ بے ھوش ھو گیا ۔
دلشاد کو ھوش آئی، تو وہ ایک کمرے میں پڑا ھوا تھا۔ ھوش آتے ھی اسے اپنے سر میں شدید ترین درد کا احساس ھوا۔ یقیناْ اس کے سر پر کسی نے کسی ایسی چیز سے وار کیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ بے ھوش بھی ھو گیا تھا، اور اب بھی وھاں درد موجود تھا۔ اس کے کپڑے بھی کچھ جگہوں سے پھٹے ھوئے تھے، اور ان پر خون بھی لگا ھوا تھا ۔ یقیناْ یہ خون بھی اسی کے جسم سے یا سر سے نکلا ھو گا۔ اس نے ھاتھ لگا کر اپنے سر کو چیک کرنا چاھا، تو اسے معلوم ھوا، کہ اس کے دونوں ھاتھ پشت پر بندھے ھوئے ھیں ۔ اس نے ھاتھوں کو ھلا جلا کر بندش کی گرفت پرکھنے کی کوشش کی ۔ باندھنے والے نے اسے اتنی سختی سے باندھا تھا، کہ ذرا سی کوشش کرنے پر بھی اس کے ھاتھوں میں شدید درد شروع ھو گیا۔ وہ ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گیا۔
اب آھستہ آھستہ ساری بات اس کی سمجھ میں آ رھی تھی ۔ چوھدری نے اسے دھوکے سے ھی بلایا تھا، اور جب وہ وہاں پہنچا تھا، تو اس کو اچانک دھر لیا گیا تھا۔ یہ چوھدری ھی کا کوئی خفیہ ٹھکانہ تھا جہاں وہ قید کر دیا گیا تھا۔ اور اب وہ کسی بھی وقت چوھدری کے سامنے ھو گا۔
چوھدری کا سامنا ھونے کا خیال آتے ھی اس کے بدن میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی ۔ چوھدری اس کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ؟ یہ وہ سوال تھا جو بار بار اس کے دماغ میں گونج رھا تھا۔ آخر اس کے سر میں درد شروع ھو گیا، اور اس نے کچھ دیر کے لئے خود کو حالات کے سپرد کرتے ھوئے سوچنا بند کر دیا۔
اب اس نے ارد گرد غور کرنا شروع کر دیا۔ کمرہ شائد کسی تہ خانے کا تھا کیونکہ اس کی حالت انتہائی مخدوش تھی، اور اس میں اتنی بدبو اور اتنا تعفّن پھیلا ھوا تھا، کہ دلشاد کو ابکائی سی آنے لگی ۔ اس کمرے میں اس کے علاوہ اور کوئی ذی روح موجود نہیں تھا۔ اس نے اندازہ لگانے کی کوشش کی، کہ وہ کتنی دیر تک بے ھوش رھا تھا، لیکن وہ کسی بھی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔
دلشاد حیران تھا، کہ چوھدری سے اتنا خوف محسوس کرنے والا دلشاد اب چوھدری کی قید میں کسی نا معلوم جگہ پر پہنچ چکنے کے بعد بھی اب اتنا نہیں گھبرا رھا تھا، جتنا وہ آزاد پھرتے ھوئے گھبراتا تھا ۔ وہ چوھدری کا سامنا کرنے کے لئے اپنے آپ کو تیّار کر رھا تھا ۔
عارفہ کی محبّت نے شائد اسے اندر سے پہلے کی نسبت زیادہ مضبوط بنا دیا تھا ۔
اب اسے چوھدری کا انتظار تھا ۔ چوھدری کسی بھی لمحے وہاں وارد ھو سکتا تھا ۔دلشاد وہاں پڑے پڑے اچانک سو گیا۔ اچانک دھڑام سے دروازہ کھلا، اور دروازے سے چوھدری نمودار ھوا ۔ اس کے ھاتھ میں ایک ھنٹر تھا، اور اس کے ساتھ ڈانگر بھی موجود تھا۔دلشاد سمجھ گیا، کہ اب اس کے ساتھ کیا سلوک ھونے والا ھے ۔
عارفہ اپنے گھر میں پہنچی، تو اس کا باپ گھر میں واپس آ چکا تھا ۔ وہ گھبرا گئی ۔ اس نے گھر والوں سے باتوں باتوں میں معلوم کر لیا، کہ اس وقت وہ کہاں ھے ۔ اسے بتایا گیا، کہ وہ کھیتوں کی طرف کسی کام سے گیا ھے ۔ یہ سن کر اس نے سکھ کی سانس لی، کہ وہ اس وقت تک وہاں سے نکل آئی ھے، ورنہ تو آج اس کی، شکیلہ کی اور دلشاد کی شامت یقینی تھی ۔ وہ دل ھی دل میں شکر ادا کر رھی تھی، کہ وہ تینوں مصیبت میں پڑنے سے بچ گئے۔ اسے معلوم نہیں تھا، کہ جس وقت وہ شکر ادا کر رھی تھی، عین اسی وقت اس کا باپ دلشاد کے ساتھ کھیتوں میں موجود تھا، اور اسے آج شام اپنے رقبے پر آنے کا حکم بھی سنا چکا تھا ۔ وہ حکم، جس پر عمل کر کے بھی دلشاد بیچارہ ضرور پھنستا، اور نہ کرتا، تو بھی مجرم ٹھہرتا، اور چوھدری کا قہر اس پر یقیناْ ٹوٹتا ۔ یعنی دونوں صورتوں میں ھی دلشاد کے لئے خطروں کے سوا کچھ نہیں تھا ۔
ان تمام باتوں سے لا علم، عارفہ اپنے تئیں پر سکون تھی ۔ وہ بے چاری اس بات سے قطعی بے خبر تھی ، کہ آج رات اس کے دلشاد کے ساتھ کیا ھونے جا رھا تھا ۔ اس کا باپ چوھدری ، دلشاد کو انتہائی عبرت ناک سزا دینے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔اور اس وقت دلشاد چوھدری کےرحم و کرم پر تھا ۔
چوھدری کا سامنا کرنے کے لئے دلشاد نے بڑی دیر تک اپنے اندر حوصلہ جمع کرنے کی کوشش کی تھی، اس کے باوجود جب چوھدری وہاں داخل ھوا تھا، تو دلشاد اسے دیکھ کر ایک بار سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی آخری پور تک کانپ گیا تھا ۔دلشاد نے اندزہ لگانے کی کوشش کی، کہ آیا چوھدری اسے ایک ھی رات میں قتل کر دے گا، یا کہ انتہائی اذیّت ناک موت دے گا، جو کہ قسطوں کی صورت میں ھوتی ۔ جو بھی ھوتا، لیکن ایک بات تو وہ تسلیم کر چکا تھا، کہ اب چوھدری اسے زندہ نہیں چھوڑے گا ۔
چوھدری چلتا ھوا اس کے سامنے آ گیا ۔ ڈانگر بھی اس کے عقب میں موجود تھا ۔ ڈانگر کے ھاتھ میں موجود گن دلشاد کو اور بھی دھشت زدہ کر رھی تھی، لیکن اس وقت جس چیز نے دلشاد کے خوف میں سب سے زیادہ اضافہ کیا تھا، وہ چیز تھی، چوھدری کا چہرہ ۔ ۔
چوھدری کا چہرہ اس وقت کسی کریہہ مخلوق کا منظر پیش کر رھا تھا ۔ اس کے دہشت ناک چہرے پر موجود گھنی مونچھوں نے اس کے چہرے کو اور بھی وحشت ناک بنا دیا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں موجود سرخی اس بات کی غمّاز تھی، کہ وہ اس وقت پئے ھوئے تھا ۔ دلشاد نے ایک نظر ڈانگر کو دیکھا، جو اسے ھی گھور رھا تھا۔ دلشاد کو محسوس ھوا، کہ اگر اس وقت یہاں چوھدری خود موجود نہ ھوتا ، تو ڈانگر اسے آن۔ واحد میں ھی قتل کر ڈالتا ۔ کم از کم اس کےچہرے اور آنکھوں کے انداز تو دلشاد کو یہی سمجھا رھے تھے ۔
ڈانگر ھمیشہ سے ھی "شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار " کے مصداق تھا ۔
چوھدری دلشاد کے بالکل سامنے زمین پر اکڑوں بیٹھ گیا ۔ اس کے لٹھے کے سوٹ سے بھینی بھینی خوشبو اڑ اڑ کر دلشاد کے نتھنوں میں گھس رھی تھی۔ کوئی اور وقت ھوتا، تو دلشاد اس خوشبو کو ضرور انجوائے کرتا، لیکن اس وقت وہ خوشبو دلشاد کو صرف پریشان ھی کر رھی تھی ۔ اور اس کی پریشانی میں مسلسل اضافہ ھوتا جا رھا تھا۔ چوھدری کی خاموشی اس کے دماغ پر ھتھوڑے برسا رھی تھی ۔ لیکن ابھی تک چوھدری نے اس سے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا ۔ وہ تو بس اپنی حد سے زیادہ نشیلی آنکھوں سے اسے گھورے ھی جا رھا تھا ۔ اس نے آج شائد انگور کی بیٹی کچھ زیادہ ھی چڑھا لی تھی ۔
جب دلشاد نے دیکھا، کہ چوھدری اس سے کوئی بات نہیں کر رھا، بلکہ ایک ٹک اسے دیکھے ھی جا رھا ھے، تو وہ رہ نہ سکا ۔
"آخر بات تو کرنا ھی پڑے گی ۔ "
دلشاد نے سوچا ۔ اب اس نے ھمّت کی، اور خود ھی بات کا آغاز کیا ۔
" کیا بات ھے چوھدری صاحب ؟ مجھے، اس طرح باندھ کر کیوں رکھّا گیا ھے یہاں ؟ آخر میں نے ایسا کیا کر دیا ھے جناب ؟ "
اور یہی وہ وقت تھا، جب چوھدری کے پیچھے کھڑے ڈانگر نے آگے بڑھ کر ایک ٹھڈّا اس کی پسلیوں پر رسید کیا تھا ۔ دلشاد درد کی شدّت سے بلبلا اٹھّا۔ اس کے منہ سے ایک لمبی درد بھری کراہ نکلی ۔ چوھدری نے اسی وقت اس کو سر کے بالوں سے پکڑ کر اس کا چہرہ اوپر اٹھایا ۔ دلشاد کی آنکھیں درد سے بند تھیں، اور اس کے بھنچے ھوئے چہرے پر ناقابل۔ برداشت تکلیف کے آثار صاف دکھائی دے رھے تھے ، لیکن چوھدری اس پر قطعی رحم کھانے والا نہیں تھا۔ اس نے تو اسے آج یہاں رکھّا ھی تکلیفیں دینے کے لئے تھا ۔ آخر اس نے چوھدری کی بیٹی سے عشق لڑانے جیسا ناقابل معافی جرم کیا تھا ۔ اب چوھدری کے فیصلے کی کتاب میں دلشاد کی کم از کم سزا سنگین ، گمنام اور پرلے درجے کی موت تھی ۔ اور آج رات، اس ویرانے میں ، دلشاد کی اس سزا کا ابتدائی راؤنڈ کھیلا جانے والا تھا ۔
چوھدری نے اس کے سر کے بالوں کو کھینچا، تو دلشاد نے ایک لمبی سسکی لیتے ھوئے آنکھیں کھول دیں، اور چوھدری کو دیکھا۔ چوھدری اب بھی اسے بس دیکھ ھی رھا تھا ۔ دلشاد توقّع کر رھا تھا، کہ چوھدری شائد اب بولے گا ۔
اور آخر چوھدری نے بولنے کے لئے ھونٹ ھلائے ۔ لیکن جب اس کے منہ سے پہلا لفظ نکلا، تو وہ دلشاد کے لئے ایک غلیظ گالی تھا ۔ اس نے کہا تھا ،
" کیوں اوئے، کسی کنجری نسل کے حرامی بچّے ۔ بہت ھمّت آ گئی ھے ناں تیرے اندر۔ بہت دلیر ھو گیا ھے تو ۔ اتنا دلیر ھو گیا، کہ میری حویلی ، میری عزّت ، میری بیٹی، جس کے بارے میں صرف سوچنے والے کو بھی میں اس دنیا پر زندہ نہ رہنے دوں، میری اس بیٹی تک تیری ناپاک نظریں پہنچ گئیں ؟ اتنا دلیر ھو گیا تو ؟ اتنی جرّاٴت آ گئی تیرے اندر ؟ کیوں اوئے ؟ اتنا دلیر ھو گیا تو ؟ "
" نہیں چوھدری جی ، نہیں ، یہ آپ کیا کہ رھے ھیں ؟ بھلا آپ ، ھمارے مائی باپ، ھم تو آپ کے کتّوں کو بھی سلام کرتے ھیں جناب ۔ تو پھر بھلا ایسی سنگین، اور اتنی بڑی گستاخی کرنے کی جرّاٴت میں کیسے کر سکتا ھوں جناب ؟ "
یہ دلشاد کے الفاظ تھے ، جو اس نے چوھدری کی باتوں کے جواب میں انتہائی ادب سے کہے تھے۔ قید میں اکیلا پڑا دلشاد بہت دلیری کی باتیں سوچتا رھا تھا، لیکن چوھدری کے سامنے آتے ھی اس کی ساری دلیری ھوا ھو گئی تھی ۔ وہ ایک دم سے وھی بزدل دلشاد بن گیا تھا، جو گاؤں میں بزدلی میں اوّل نمبر مانا جاتا تھا ۔ اسے اس وقت عارفہ سے محبّت بھی بھولنے لگی تھی ۔ وہ تو اس وقت چوھدری کے چنگل سے نکلنے کی سوچ رھا تھا ۔ اسی لئے اس نے چوھدری کی منّت سماجت شروع کر دی تھی ۔لیکن چوھدری تو کچھ اور ھی سوچ رھا تھا، اور وہ دلشاد کی اس بات پر یقین کرتا بھی کیسے، کہ اس نے تو عارفہ کو اپنی آنکھوں سے دلشاد کے کھیتوں میں سے نکلتے دیکھا تھا، اور دلشاد بھی اس وقت اس کے پاس ھی موجود تھا۔ چوھدری تو اس وقت دلشاد کو حد سے زیادہ جسمانی اذیّت پہنچانے کے مختلف منصوبے سوچ رھا تھا ۔ جب اس نے دلشاد کو اپنی بے گناھی کی بات کرتے سنا، تو اسے غصّہ آ گیا، لیکن ابھی وہ کارروائی کرنا نہیں چاھتا تھا ۔ کارروائی کے لئے وقت ھی وقت تھا ۔ ابھی تو وہ اس حیرانی سے ھی نکل نہیں پایا تھا، کہ دلشاد واقعی اتنا بہادر ھو گیا تھا، کہ اس کی بیٹی سے عشق کا چکّر چلا رھا تھا ۔
چوھدری نے دلشاد کے بالوں پر اپنی گرفت سخت کرتے ھوئے اسے ایک اور گندی گالی دی ۔
" اوئے، کسی رنڈی کے بچّے ۔ زیادہ باتیں نہ کر ۔ نہ کر زیادہ باتیں ۔ مجھے ذرا دیکھ تو لینے دے تیرا پنڈا ۔ اس پنڈے میں اتنا دل ھے، کہ چوھدری کی بیٹی کے خواب دیکھ سکے ؟ اوئے ، تجھے ذرا خوف نہیں آیا ؟ "
آخری فقرہ کہتے کہتے چوھدری کواتنا طیش آیا، کہ وہ اپنا قابو کھو بیٹھا، اور اس نے دلشاد کے بال کھینچتے ھوئے اس کے چہرے پر ایک تھپّڑ رسید کر دیا ۔ ھنٹر ابھی تک چوھدری کے ھاتھ ھی میں تھا، اور شائد اب جلد ھی اس کے استعمال کی باری بھی آنے والی تھی، کیونکہ اب چوھدری کھڑا ھو رھا تھا ۔ دلشاد درد سے نیچے پڑا ھوا تھا ۔ اس نے چوھدری کی طرف دیکھتے ھوئے سماجت بھرے لہجے میں کہا ۔
" چوھدری جی ، چوھدری جی ۔ مائی باپ ، آپ کو کوئی بہت بڑی غلط فہمی ھو گئی ھے جی ۔ آپ جو کچھ بھی کہ رھے ھیں، ایسا کچھ بھی نہیں ھے جی ۔ آپ مجھے معاف کر دیں چوھدری جی ۔ میں آپ کو یقین دلاتا ھوں جی ، کہ ایسا کچھ نہیں ھے ۔ "
دلشاد کی اس بات کے جواب میں ایک ھنٹر اس کی کمر پر پڑا تھا، اور کمرہ اس کی بلند آھنگ " ھائے " سے گونج اٹھّا تھا ۔ ھنٹر اس پر اتنی شدّت سے برسایا گیا تھا، کہ دلشاد نیچے پڑا مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگا تھا ۔ اس کے منہ سے رونے کی آوازیں بھی برآمد ھونے لگی تھیں ۔ چوھدری نے ایک حقارت بھری نظر سے اسے دیکھا، اور ایک اور ھنٹر برسا دیا۔ بس ، پھر کیا تھا، چوھدری ایسے شروع ھو گیا، جیسے ھنٹر برسانا سانس لینے سے بھی زیادہ ضروری ھو ۔ ھربار دلشاد تڑپ کر ذرا سا اچھلتا، اور پھر نیچے کو گر جاتا ۔ چوھدری اس کو گالیاں بھی دیتا جا رھا تھا، اور ساتھ ساتھ ھنٹر بھی برسا رھا تھا ۔ دلشاد اب اونچی آواز میں رونے لگا تھا، اور کبھی کبھی وہ اپنی بے گناھی کی آواز بھی بلند کر دیتا تھا ۔ چوھدری نے تو جیسے اس کی آواز نہ سننے کا تہیّہ کر لیا تھا، کیونکہ دلشاد کی کسی بھی منّت سماجت کا اس پر قطعی کوئی اثر نہیں ھو رھا تھا ۔ وہ تو بس اس پر ھنٹر برسائے چلا جا رھا تھا۔ چوھدری پر اس وقت جنون سوار ھو چکا تھا ۔ حتّیٰ کہ ڈانگر، جو گاؤں والوں کے لئے دہشت و بربریّت کی ایک مثال گردانا جاتا تھا، اور جس کی سفّاکی پورے علاقے میں مشہور تھی، وہ بھی چوھدری کے نزدیک آنے کی ھمّت نہیں کر پا رھا تھا ۔آخر چوھدری کی سانس پھولنے لگی، اور ایک بار تو وہ اپنا توازن کھو بیٹھا۔ اب ڈانگر آگے بڑھا، اور اس نے چوھدری کو سہارا دے کر ایک طرف کھڑا ھونے میں مدد دی ۔ جب چوھدری کھڑا ھو گیا ، تو ڈانگر انتہائی نرمی سے بولا ۔
" چوھدری صاحب، آپ اس وقت اپنے آپ کو غصّہ مت دلائیں ۔ ڈاکٹر نے آپ کو زیادہ غصّے سے منع کر رکھّا ھے جناب ۔ اس حرامزادے کو میرے حوالے کریں جی ۔ پھر دیکھیں، میں پانچ منٹ سے بھی پہلے، اس کی ساری جرّاٴت اس کے پیچھےکے راستے کیسے نکالتا ھوں ۔ یہ موت کی دعائیں کرتا نظر نہ آئے، تو میرا نام بدل دیجیے گا جی ۔ آپ اس کو بس ایک بار، صرف ایک بار میرے حوالے کر دیں سر جی ۔ "
ڈانگر انتہائی سفّاک، اور کینہ توز نظروں سے دلشاد کو دیکھ رھا تھا، جو درد کی وجہ سے شائد نیم بے ھوشی کی کیفیّت میں چلا گیا تھا ۔
چوھدری نے دلشاد کی طرف اشارہ کیا، اور ڈانگر سے کہا ۔ " اسے ھوش میں لاؤ ۔ میں اتی جلدی اس کی جان نہیں چھوڑوں گا ۔ ابھی تو اس کو آج کی خوراک بھی پوری طرح نہیں ملی، اور یہ بے ھوش بھی ھو گیا ۔ جلدی سے ھوش میں لاؤ اسے ۔ " چوھدری جیسے دھاڑا ۔ اور ڈانگر کانپ گیا ۔ یہی نہیں ، بلکہ دلشاد بھی چوھدری کی دھاڑ سن کر جیسے ڈر کر اٹھ گیا تھا ۔ چوھدری نے اسے ھوش میں آتے دیکھا تو پھر اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔ دلشاد اب اس سے حد درجہ خوفزدہ دکھائی دے رھا تھا ۔
چوھدری نے اب کی بار دلشاد کو ناک سے پکڑا، اور دلشاد بلبلا اٹھّا ۔ اس کے منہ سے عجیب قسم کی آوازیں نکل رھی تھیں ۔ چوھدری غصّے سے کانپ رھا تھا ۔ اس نے دلشاد کی سانس بند کی،اور چند سیکنڈ بعد جب دلشاد کی آنکھیں ابلنے کے قریب آ گئیں، تو اس نے اس کی ناک چھوڑ دی۔ یہ عمل اس نے تین بار دھرایا، اور اس کے بعد نیم مردہ دلشاد کے بال مٹھّی میں جکڑتے ھوئے اس نے کہا ۔
" یاد رکھنا دلشاد ، تم نے زندگی کی سب سے بڑی غلطی کر ڈالی ھے، اور اس کی ایسی سزا بھگتو گے، کہ زندگی تم کو بوجھ لگنے لگے گی، اور تم موت کو مہربان سمجھنے لگو گے ۔ تمھارے انگ انگ سے موت کی دعائیں نکلیں گی دلشاد خان، لیکن میں تمھیں اتنی آسانی سے مرنے بھی نہیں دوں گا ۔ ھاں ، آج کے بعد، میں تمھاری موت کے اور تمھارے درمیان کھڑا ھوں ۔
اس کے بعد اس نے اس کے بال چھوڑ دئے ، دلشاد دھڑام سے نیچے گرا ۔اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر تھیں ۔ وہ چوھدری کے قدموں میں گر پڑا، اور اپنا چہرہ اس کے پیروں میں رکھتے ھوئے بولا ۔
" مجھے معاف کر دیں، چوھدری جی، میں نے ایسا کچھ نہیں کیا ۔ خدارا مجھے معاف کر دیں ۔ "اس سے آگے وہ کچھ کہ ھی نہ سکا، کیونکہ چوھدری کے ملازم نے اس کو ٹھڈّوں پر رکھ لیا تھا ۔ وہ درد سے چلّانے لگا ۔ چوھدری کھڑا دیکھ رھا تھا ۔ ڈانگر کی ھر چوٹ کے ردّ عمل کے طور پر دلشاد اچھلتا، او زمین پر گر جاتا ۔ چوھدری کے چہرے پر ابھی تک سفّاکی تیر رھی تھی ۔ اسے دلشاد کی حالت پر ذرا بھی رحم نہیں آ رھا تھا ۔
آخر چوھدری نے ڈانگر کو اشارہ کیا، اور وہ رک گیا ۔ اب چوھدری دلشاد کے پاس آیا، اور بولا ۔
" آج کے لئے اتنا ھی کافی ھے یا کچھ اور خاطر تواضع ھو جائے مسٹر دلشاد صاحب ۔ آخر آج آپ میرے ڈیرے پر مہمان جو ھیں۔ "
چوھدری کے طنزیہ الفاظ تو زھریلے تھے ھی، لیکن اس سے بھی زیادہ زھریلی اس کی آنکھوں سے نکلنے والی چنگاریاں تھیں، جن کی تپش دلشاد کو اپنے چہرے پر محسوس ھو رھی تھی ۔
اس کے بعد چوھدری نے اسے ایک جھٹکے سے زمین پر گرا دیا، اور خود ڈانگر کے ساتھ وہاں سے باھر نکل گیا ۔
دلشاد زمین پر پڑا بے بسی سے انہیں جاتے ھوئے دیکھ رھا تھا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے چلے جا رھے تھے ۔ اس کے انگ انگ سے درد کی ٹیسیں نکل رھی رتھیں ۔ اس کے جسم سے خون بھی نکلنا شروع ھو گیا تھا ۔ اسے ایسے لگ رھا تھا، جیسے اس کی کمر اور اس کی پسلیاں اس کے وجود کے ساتھ ھی نہیں ھیں ۔ وجود کے ان حصّوں پر اتنی شدید ضربیں پڑی تھیں، کہ ان کے لئے درد کا احساس ھی سوا ھو گیا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ بھی زخمی ھو چکی تھی، شائد ڈانگر یا چوھدری کا ایک آدھ ٹھڈّا اس کی آنکھ پر بھی پڑا تھا ۔ خون اس کے ھونٹوں کو تر کرتا ھوا نیچے گریبان کی جانب جا رھا تھا، کچھ خون اس کے منہ میں بھی چلا گیا تھا، جسے اس نے تھوک دیا ۔دلشاد کوئی افسانوی قسم کا ھیرو نہیں تھا۔ وہ ایک عام سا دیہاتی نوجوان تھا جس نے ایک لڑکی کو اپنی طرف ملتفت دیکھا، تو وہ بھی اپنے جوان جذبوں کے ھاتھوں بہک گیا، اور چوھدری کے غصّے کو جانتے بوجھتے ھوئے بھی اس نے عارفہ سے محبّت کی پینگیں بڑھا لیں ۔ اگر عارفہ اس کی طرف پییش قدمی نہ کرتی، تو وہ کبھی بھی عارفہ کے ساتھ اس حد تک نہ جا سکتا ۔ بلکہ وہ تو عارفہ کی طرف دیکھنے کی ھمّت بھی نہ کر پاتا ۔ اور عارفہ کی طرف سے مسلسل پیش قدمی نے اسے بھی اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا، کہ اسے بھی عارفہ سے محبّت ھو گئی تھی ۔ وہ محبّت، جو اس کی مصیبتوں کا نقطہٴ آغاز تھی ۔ اور جس کے نتیجے میں آج بالآخر وہ چوھدری کے زیر عتاب آ گیا تھا ۔
دلشاد زمین پر کیڑوں کی طرح پڑا ھوا تھا ۔ آخر اسی طرح لیٹے لیٹے اس کی آنکھ لگ گئی ۔عارفہ اپنے گھر میں سوئی ھوئی تھی، کہ اچانک کسی چیز نے اسے نیند سے بیدار کر دیا، اور وہ ھڑبڑا کر اٹھّی ۔ اس نے گھڑی دیکھی۔ اس وقت رات کے دو بجنے والے تھے ۔ وہ حیران رہ گئی ۔ اس کے کمرے میں اس وقت وھی لیٹی ھوئی تھی۔ اس نے غور کیا، تو اسے کوئی ایسی آواز سنائی نہیں دی، جو اس کی نیند سے بیداری کا سبب بنی ھو ۔ اس کا دل بھی گھبرا رھا تھا، اور اس کے چہرے پر پسینہ بھی آیا ھوا تھا، حالانکہ اس وقت اس کے کمرے کا روم کولر بھی چل رھا تھا ۔ اس کے دل کی بے چینی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رھی تھی ۔کافی دیر تک وہ بیٹھی باھر کے ماحول پر غور کرتی رھی، کہ شائد اسے کوئی آواز سنائی دے جائے، جسے وہ اپنی نیند سے بیداری کی وجہ گردانتے ھوئے دوبارہ سے پر سکون اورمطمئن ھو جائے، لیکن اسے ایسی کوئی آواز سنائی نہیں دی ۔
اسے سمجھ نہیں آ رھی تھی، کہ وہ اس وقت بغیر کسی وجہ کے اتنی زیادہ گھبراھٹ کا شکار کیوں ھو رھی تھی ۔ نہ جانے کیوں، لیکن اس کا دل چاہ رھا تھا، کہ وہ اسی وقت بھاگ کر جائے، اور دلشاد کی بانہوں میں جا کر سو جائے ۔ اسے دلشاد کی یاد آ رھی تھی، اور حد درجہ آ رھی تھی ۔ اسے ایسے لگ رھا تھا، جیسے دلشاد بھی اس وقت ایسے ھی اسے یاد کر رھا ھو ۔ اس نے دل سے دعا مانگی، کہ دلشاد جہاں بھی ھو، خیریّت سے ھو ۔ پتہ نہیں کیوں اس کے دل سے باربار کوئی غیر مفہوم قسم کی خطرے کی گھنٹی بجنے لگتی تھی ۔ اس نے سوچا ، کہ صبح اٹھتے ھی کسی نہ کسی طرح دلشاد کی خیریّت معلوم کروائے گی ۔
یہ سوچ کر وہ دوبارہ سے لیٹ گئی، اور سونے کی کوشش کرنے لگی ۔اب وہ صبح ھوتے ھی دلشاد کو کسی بہانے سے ملنا چاھتی تھی ۔ اسے کیا معلوم تھا، کہ اس کے باپ کے دماغ نے اس کے لئے کیا سوچ رکھّا تھا ، اور صبح اس کے ساتھ کیا ھونے والا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
اگلے دن علی الصبح ھی چوھدری نے عارفہ کو طلب کر لیا ۔ اس کے باپ نے صرف اسے ھی بلایا تھا ۔ آج حویلی میں ملازموں کو بھی چھٹّی دے دی گئی تھی ۔ عارفہ حیران تھی، کہ اس طرح اس کے باپ کی جانب سے اپنے کمرے میں صرف اسے بلائے جانے کی کیا وجہ ھو سکتی ھے ۔ انہی سوچوں میں ڈوبی ھوئی وہ اپنے باپ کے کمرے میں پہنچ گئی ۔
اس کے باپ نے اسے ایک طرف کھڑے ھونے کا کہا، اور کنڈی لگا دی ۔ عارفہ کی سانسیں جیسے رک گئیں ۔ اس کی چھٹی حس نے اسے شدید ترین خطرے کا احساس دلایا ۔ " خیر نہیں لگتی ۔ کہیں ابّے کو کہیں سے میرے اور دلشاد کے بارے میں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ؟ "
اس سے زیادہ وہ سوچ ھی نہ سکی، کیونکہ اس کے باپ نے اسے ’گت سے پکڑ کر اوندھے منہ بیڈ پر گرا دیا تھا ۔ اس کی چیخ نکل گئی ۔ اس کے باپ نے ایک ھنٹر اٹھایا ھوا تھا ۔ عارفہ کی زبان گنگ ھو گئی ۔ اسے سمجھ آنا شروع گئی تھی، کہ آج تک اس کے لاڈ اٹھانے والا باپ اگر آج اس کے لئے قصائی بنا ھوا نظر آ رھا ھے، تو اس کے پیچھے کوئی معمولی بات ھر گز نہیں ھو سکتی ۔ یقیناْ دلشاد کا اور اس کا قصّہ اس کے باپ کے کانوں تک بھی پہنچ گیا تھا ۔
اس نے ھونٹ بھینچ لئے، اور اپنے آپ کو آنے والے لمحوں کے لئے تیّار کرنے لگی ۔
اس کے باپ نے ھنٹر برسانا شروع کئے، تو لگاتار برسائے گیا ۔ عارفہ تڑپتی رھی، اور ھنٹر کھا کر دلشاد کی محبّت میں اور بھی ڈوبتی گئی ۔ اس کے باپ نے اسے اتنا مارا، کہ وہ بے ھوش ھو گئی ۔
چوھدری نے کمرے کو باھر سے کنڈی لگائی، اور تالہ لگا کر باھر آ گیا ۔ گھر میں کسی کو معلوم ھی نہیں ھو سکا تھا، کہ عارفہ کے ساتھ اندر کیا بیت چکی ھے ۔
تھوڑی دیر بعد، عارفہ اپنے باپ کی جیپ میں بیٹھی لاھور کی طرف سفر کر رھی تھی ۔
اس کے باپ نے اسے ھوش میں لا کر دوبارہ سے مارا تھا، اور اس کے بعد اس نے اسے لاھور کے لئے روانہ کر دیا تھا ۔ عارفہ بھی جوان تھی، ھر بات سمجھ رھی تھی، لیکن فی الحال وہ اپنے باپ کے سامنے بولنے کا حوصلہ نہیں رکھتی تھی، سو خاموش تھی ۔ اسے اچھّی طرح معلوم تھا، کہ اگر اس نے اپنے باپ کے سامنے زبان کھولنے کی جرّاٴت کی، تو اس کی زبان ھمیشہ ھمیشہ کے لئے خاموش بھی کی جا سکتی ھے ۔ اس کا باپ اتنا ھی سفّاک تھا۔
عارفہ کو اس وقت سب سے زیادہ دلشاد کی فکر ھو رھی تھی ۔ وہ سوچ رھی تھی، کہ اگر اس کے باپ نے اس کے ساتھ یہ سلوک کیا ھے، تو دلشاد کے ساتھ کیا سلوک کرے گا ۔ یقیناْ دلشاد بھی عنقریب مصیبت میں گرفتار ھونے والا تھا ۔ وہ دعا کر رھی تھی، کہ دلشاد پھر سے اچانک کراچی چلا جائے ۔ اسے کیا معلوم تھا، کہ دلشاد تو اس سے پہلے ھی گرفت میں آ چکا تھا ۔ جس وقت رات کو وہ ھڑبڑا کر اٹھی تھی، تو اس وقت دلشاد اس کے باپ کی مشق۔ ستم بنا ھوا تھا ۔ رات کے جس پہر وہ دلشاد کے لئے بے چینی اور بے کلی محسوس کر رھی تھی، عین اس وقت، عارفہ کا سگا باپ، چوھدری دلشاد پر ظلم کے پہاڑ توڑ رھا تھا ۔ اور ابھی نہ جانے کتنے ھی دن تک وہ اس مصیبت میں گرفتار رھنے والا تھا ۔
گاڑی سڑک پر برق رفتاری سے دوڑے جا رھی تھی ۔ گاؤں سے عارفہ کو دور لے جا رھی تھی، گاؤں جو اس کے بچپن کی یادوں کا امین تھا، اور اب اس کی محبّت کی رھائش گاہ بھی تھا۔ وہ گاؤں سے جسمانی طور پر جیسے جیسے جتنی دور ھوتی جا رھی تھی، ویسے ویسے دلشاد کی یادوں کی جڑیں اس کے من کے اندر اتنی ھی زیادہ سرائت کرتی جا رھی تھیں ۔ وہ اپنے اندر اپنے باپ کے خلاف بغاوت کے پودے کو پنپتے ھوئے محسوس کر رھی تھی ۔ عارفہ حیران رہ گئی ۔ دلشاد کی محبّت میں وہ کس قدر دلیر ھو گئی تھی ۔
کیا وہ واقعی اپنے باپ کے خلاف بغاوت کا سوچ رھی تھی ؟؟؟؟؟؟؟؟؟
دوسری صبح گاؤں میں انتہائی ھنگامہ خیز تھی ۔
دلشاد اور فیکے کی گمشدگی کی خبریں پورے گاؤں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی تھیں ۔ دلشاد کے باپ نے تو ساری رات جاگ کر گزار دی تھی ۔ اب وہ بیچارہ اپنے جوان بیٹے کی گمشدگی کے متعلّق اعلان کروا کے آ رھا تھا ۔
اس نے اعلان کروانے کے بعد سیدھا چوھدری کی چوپال کا رخ کیا ۔ ان گاؤں والوں کو جب بھی کوئی انفرادی یا اجتماعی مصیبت آتی، وہ بے چارے سیدھے چوھدری کے پاس فریاد لے کر پہنچ جاتے، کہ اس گاؤں میں بلکہ اس پورے علاقے میں چوھدری سے زیادہ با اثر، طاقتور اور مسائل حل کروانے کی طاقت رکھنے والا کوئی نہیں تھا ۔
دلشاد کے باپ نے چوھدری سے ملنے کے لئے اس کے ملازم سے بات کی، تو اسے پتہ چلا، کہ چوھدری تو لاھور جا چکا ھے، اور شام سے پہلے واپس نہیں آ سکتا ۔ یہ بھی ھو سکتا ھے، کہ آج رات وہیں رک جائے ۔
دلشاد کا باپ وہاں جیسے ڈھے سا گیا ۔ اس کی آنکھوں تلے اندھیرا چھانے لگا تھا ۔ وہ تو بڑی امّید لگا کر آیا تھا، کہ چوھدری سے ملاقات کر کے اپنے بیٹے کے بارے میں درخواست کرے گا، کہ وہ اس کے بیٹے کو تلاش کروائے ۔ اس بےچارے کو کیا معلوم تھا، کہ جس کے پاس وہ فریاد لے کر جا رھا ھے، وھی انسان اس کے بڑھاپے کے سہارے کو غائب کروانے کا ذمّہ دار ھے ۔ جس چوھدری کو وہ متوقّع مددگار سمجھ رھا تھا، اسی چوھدری کی ایماٴ پر ھی اس کے جواں سالہ بیٹے کو نا معلوم جگہ پر باندھ کر رکھّا گیا تھا ۔ اور اب جبکہ اسے معلوم ھوا تھا، کہ چوھدری شام یا کل رات تک ھی لوٹے گا، تو اس کے ڈوبتے دل کو جیسے ایک اور بھنور نے آ گھیرا ھو ۔ چوھدری کے ملازم نے اس کی کیفیّت بھانپ لی، اور اسے سہارا دے کر چارپائی پر بٹھا دیا۔ ملازم نے دیکھا، اس کی بوڑھی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ ملازم خدا ترس انسان تھا۔ اس نے اسے پانی پلایا۔
دلشاد کا باپ جیسے تیسے کر کے گھر پہنچا۔ گھر کے باھر کچھ گاؤں والے بھی جمع تھے، جن کی زبانی اسے معلوم ھوا، کہ فیکا بھی رات سے غائب تھا ۔ سب گاؤں والے اس بات پر حیران تھے، کہ دلشاد اور فیکا آپس میں دوست بھی نہیں تھے، پھر ان کا ایک ساتھ غائب ھو جانا، یہ نقطہ سب کی سمجھ سے بالاتر تھا، سوائے ایک انسان کے ۔
پورے گاؤں میں ایک شہزادی ھی ایسی تھی جو اس معاملے کو کسی حد تک سمجھ رھی تھی ۔ لیکن ایک بات اس کی تشویش میں اضافہ کئے جا رھی تھی ۔ اور وہ بات تھی فیکے کا غائب ھو جانا ۔
کہیں فیکے کو بھی چوھدری نے ھی بند نہ کر دیا ھو ۔ اگر ایسا ھی ھے، تو یقیناْ چوھدری اس سے عارفہ اور دلشاد کے چکّر سے باخبر اور لوگوں کا نام بھی لازمی پوچھتا ۔ اور فیکا چوھدری کے چند جھانپڑ کھا کر اس کا نام اگل دیتا ۔ معاملہ چوھدری کی بیٹی کا تھا ۔ وہ اپنی بیٹی کے عشق کے چکّر کی تشہیر کبھی پسند نہ کرتا ۔
شہزادی کو یوں لگ رھا تھا، کہ دلشاد سے انتقام لینے کی خواھش میں وہ ایک سنگین غلطی کر بیٹھی تھی ۔ اب اسے سمجھ نہیں آ رھی تھی، کہ کیا کرے، اور کس طرح چوھدری سے بچے ۔ آخر جب اسے کچھ سمجھ نہ آئی، تو اس نے اپنا سامان باندھا، اور اپنے والدین کو لے کر اسی شام گاؤں سے نکل گئی ۔
شہزادی گاؤں چھوڑ کر اپنے رشتے داروں کے ھاں چلی گئی تھی ۔ اس کے خیال میں شہر میں اسے ڈھونڈنا چوھدری کے لئے اتنا آسان نہ ھوتا ۔
اسے معلوم نہیں تھا، کہ چوھدری سے بھی پہلے اس تک کوئی اور پہنچنے والا تھا۔
میں، اسلام آباد میں اپنے کمرے پر لیٹا ھوا تھا، کہ مجھے ایک فون آیا ۔ جب میں نے کال اٹینڈ کی، اور بات کی، تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔
میں نے اسی وقت اپنا ضروری سامان باندھا، اور گاؤں کے لئے نکل پڑا ۔
مجھے گاؤں سے یہ اطّلاع ملی تھی، کہ دلشاد کئی دنوں سے گاؤں سے غائب ھے، اور اپنے جوان بیٹے کی گمشدگی کے غم میں اس کے باپ کی حالت بہت خراب ھو چکی ھے۔ وہ چارپائی سے لگ کر رہ گیا ھے، اور لمحہ بہ لمحہ اس کی زندگی کی امّید کم ھوتی جا رھی ھے ۔
میرے لئے دونوں خبریں ھولناک تھیں ۔ دلشاد میرے بچپن کا دوست تھا، اور اس کے یوں اچانک غائب ھونے کی خبر سن کر جہاں میں فکر مند ھو گیا تھا، وھیں میرے اندر خطرے کی گھنٹی بھی بج اٹھّی تھی ۔ میری چھٹی حس بار بار یہ اعلان کر رھی تھی، کہ ھو نہ ھو، یہ کام چوھدری نے کیا ھے، یا کسی سے کروایا ھے ۔ بالواسطہ، یا بلا واسطہ ، مجھے اس کام میں صرف چوھدری ھی ملوّث نظر آ رھا تھا ۔
شہر سے چلنے سے پہلے میں نے اپنے باس کو ایمرجنسی چھّٹی کے لئے فون کر دیا تھا، اور ساتھ ھی یہ بھی کہ دیا تھا ، کہ ھو سکتا ھے مجھے اس کی مدد کی ضرورت پڑ جائے ۔ میرا باس بڑی توپ قسم کی چیز تھا ۔ مجھے یقین تھا، کہ گاؤں میں اگر کہیں چوھدری کے خلاف قانونی کارروائی کروانا پڑی ، تو میرے باس کے تعلّقات میرے بڑے کام آ سکتے ھیں ۔ ماضی میں میں نے اپنے باس سے اچھّے تعلّقات بنا رکھّے تھے ۔ اس وقت مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا، کہ مجھے اپنے گاؤں میں بھی باس کی مدد کی ضرورت پڑ سکتی ھے ۔
گاؤں پہنچنے تک شام کا دھندلکا چھا رھا تھا ۔ میرے انتظار میں اکرم کے علاوہ ایک اور لڑکا بھی موجود تھا ۔ اس کا نام فیض تھا، لیکن گاؤں والے اسے فیضو کے نام سے جانتے تھے ۔ ( ھمارے گاؤں میں لڑکوں کا نام بگاڑنے کا رواج عام ھے ۔ جیسے فیض سے فیضو، اور اکرم سے اکری ، ذولفقار سے ’جپھا وغیرہ ۔ ) فیضو کا کھیت دلشاد کے کھیت کے ساتھ ھی واقع تھا، اور اس کے اوپر دلشاد کے چند معمولی احسانات بھی تھے ۔ انہی احسانات کی وجہ سے وہ لڑکا دلشاد کے غیاب کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھ کر اس میں غیر معمولی دلچسپی لے رھا تھا ۔
ھم لوگ اس وقت گاؤں سے باھر ایک سنسان جگہ پر موجود تھے ۔ اس لڑکے نے مجھے چند ایسی باتیں بتائیں جن سے میرا شک یقین میں بدل گیا ۔ گاؤں پہنچ کر میں نے دلشاد کے باپ کی خیریّت معلوم کی تھی، اور گاؤں کے ایک ڈاکٹر سے اپنے سامنے اس کا ایک بار چیک اپ بھی کروا لیا تھا۔ اس کی دوائی سے دلشاد کے باپ کا بخار اتر گیا تھا، اوراس کی صحّت کچھ دیر بعد قدرے نارمل ھو گئی تھی ۔ اس کے بعد میں نے اکرم اور فیضو کو لے کر اس گوشے کا رخ کیا تھا تا کہ دلشاد کے متعلّق معلومات حاصل کر سکوں، اور اکرم وغیرہ کے مشورے سے کوئی لائحہٴ عمل تیّار کیا جا سکے ۔ اسی دوران ھی فیضو نے چند باتیں بتائی تھیں، جنہیں سن کر میرا یقین اس بات پر پختہ ھو گیا، کہ چوھدری ھی دلشاد کے اغواْ کا ذمّہ دار ھے ۔ فیضو کے مطابق، اس نے شام کے وقت مسلّح حالت میں ڈانگر، اور چوھدری کو دلشاد کے کھیت میں آتے ھوئے، اور پھر واپس جاتے ھوئے بھی دیکھا تھا ۔ دلشاد بھی اس وقت کھیت میں موجود تھا ۔ فیضو نے چوھدری کو دیکھا، تو اس کاماتھا ٹھنکا ، کیونکہ آج تک چوھدری کسی کے بھی کھیت میں چل کر نہیں گیا تھا ۔ اسے اگر کسی سے کام ھوتا، تو وہ اسے اپنی چوپال پر بلوا لیا کرتا تھا ۔ اگرچہ چوھدری کا دلشاد سے باتیں کرنا تو کوئی خاص بات نہیں تھی، لیکن اس کا دلشاد کے پاس چل کر جانا بذات۔ خود ایک خاص بات تھی ۔ فیضو کے مطابق دلشاد اور چوھدری کے درمیان چند باتیں بھی ھوئی تھیں، کیونکہ چوھدری سیدھا دلشاد کے پاس گیا تھا اور اس کے پاس کھڑا رھا تھا ۔ فیضو نے سارا آنکھوں دیکھا حال مجھے سنا دیا تھا ۔
یہ میرے لئے انتہائی سنسنی خیز اطّلاع تھی ۔ اکرم بھی اس بناٴ پر چوھدری کو مشکوک گردان رھا تھا، لیکن مسئلہ یہ تھا، کہ چوھدری سے اس متعلّق بات کون کرے ، کیونکہ چوھدری کے سامنے بولنے کی جرّاٴت کسی میں نہیں تھی ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ لیکن دوسری طرف معاملہ بھی دلشاد کی زندگی کا تھا ۔ اگر وہ واقعی، چوھدری ھی کی قید میں بند تھا، تو چوھدری سے اس کی زندگی کو شدید ترین خطرہ لاحق تھا ۔ چوھدری اسے بغیر کسی وجہ کے بند نہیں کرتا، اور چوھدری اگر دلشاد کو بند کر چکا تھا، تو اس کی ایک ھی وجہ سمجھ میں آتی تھی، اور وہ وجہ تھی، چوھدری کی بیٹی اور دلشاد کا فسانہٴ محبّت ۔ یقیناْ چوھدری کو بھی اس معاملے کی بھنک کہیں سے پڑ گئی تھی ۔ اور اگر ایسا تھا، تو پھر تو دلشاد سیدھا سیدھا موت کے منہ میں پہنچا ھوا تھا، اس کے ساتھ کبھی بھی کچھ بھی ھو سکتا تھا ۔ گاؤں کا فرد ھونے کے ناطے میں اور اکرم اچھّی طرح جانتے تھے، کہ چوھدری کتنا سفّاک انسان تھا ۔ اس سے کچھ بھی بعید نہیں تھا ۔
دوسری طرف مجھے فیضو کی ھی زبانی یہ بھی معلوم ھو چکا تھا، کہ عارفہ بھی اس وقت گاؤں میں موجود نہیں ھے ، اور حیران کن بات یہ تھی، کہ دلشاد کے غائب ھونے اور عارفہ کے گاؤں چھوڑنے کا دن ایک ھی تھا ۔ ( دلشاد غائب تو رات کو ھوا تھا، لیکن اس کی خبر دوسرے دن صبح ھونے کے بعد گاؤں والوں کے علم میں آئی تھی، اسی بناٴ پر فیضو ان دونوں باتوں کو ایک ھی دن کی کارروائی گن رھا تھا ۔ ) اس بات سے بھی دلشاد کے معاملے میں چوھدری کی ذات پر شک مضبوط ھو جاتا تھا ۔ کہیں ایسا تو نہیں تھا، کہ چوھدری نے دلشاد کو غائب کروا کے عارفہ کو اس نے کسی اور جگہ پر بھیج دیا ھو، تا کہ یہ معاملہ یہیں ختم ھو جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ؟
معاملات انتہائی گمبھیر ھو چکے تھے ۔ معاملہ ایک انسان کی زندگی کا تھا، اور وہ انسان ھمارا بچپن کا دوست تھا ۔ ھم اس معاملے کو اپنا ذاتی مسئلہ سمجھ کر ڈیل کر رھے تھے، لیکن ھمیں کوئی راہ سجھائی نہیں دے رھی تھی ۔ ھم بار بار اسی بات پر اٹک رھے تھے، کہ کیا واقعی دلشاد چوھدری ھی کی قید میں ھے، یا وہ کسی اور ھی چکّرمیں پھنس گیا تھا ۔ ان دنوں گاؤں کے اطراف میں ایک گروپ کے حوالے سے بھی کچھ پیدل قسم کی خبریں گردش کر رھی تھیں، جن سے پتہ چلتا تھا، کہ اس علاقے میں کوئی ھتھوڑا مار گروپ آیا ھوا ھے، جو کسی بھی انسان کو باھر کام کرتے ھوئے پا کر، اس کی لا علمی میں، ھتھوڑے کا اچانک وار کر کے قتل کر دیتے ھیں، اور اس کی لاش وغیرہ لے کر کہیں غائب ھو جاتے ھیں ۔ اگر واقعی میں ایسا کوئی گروپ ھوتا، تو یقیناْ وہ انسان کے اعضاٴ کی فروخت کرنے والے لوگ ھوں گے، لیکن اس بات کی آج تک کوئی تصدیق نہیں ھو سکی تھی ۔ دوسری طرف دلشاد کے کھیت سے بھی ایسی کوئی نشانی نہیں ملی تھی، جس سے اس پر ایسے کسی گروپ کے حملے کا امکان نظر آتا ۔ اس وجہ سے ھم اس خیال کو ردّ کر دیتے ۔ پھر ھم سوچتے، کہ دلشاد یقیناْ چوھدری کی قید میں تھا، لیکن پھر سوال یہ پٌیدا ھوتا تھا، کہ آخر چوھدری کے قید خانے کا سراغ کیسے لگایا جائے ۔ اچانک میرے ذھن میں ایک خیال آیا ۔
" کیوں نہ شکیلہ سے کچھ پوچھا جائے ؟ اگر چوھدری کو اس معاملے کی خبر ھو گئی تھی، تو شکیلہ سے اس بارے میں شائد کچھ پتہ چل سکے ۔ "
لیکن فیضو نے جواب دیتے ھوئے یہ انکشاف کیا، کہ شکیلہ اس وقت گاؤں میں موجود ھی نہیں ھے ۔ وہ اسی دن سسرال چلی گئی تھی، جس دن شام کو دلشاد غائب ھوا تھا ۔
یہ کڑی تو یہیں پر ٹوٹ گئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ لیکن نہیں ، کڑی ٹوٹی نہیں تھی ۔ اس لئے، کہ شکیلہ ابھی تک چوھدری کے پنجے میں نہیں آئی تھی ۔ شائد یہ بھی شکیلہ کے حق میں بہتر ھی ھوا تھا، کیونکہ اگر وہ اس دن کے بعد گاؤں میں موجود رھتی، تو چوھدری کے عتاب سے ھر گز نہ بچ سکتی ۔ چوھدری اسے اس بات کی بھی سنگین ترین سزا ضرور دیتا، کہ اس نے عارفہ اور دلشاد کے چکّر میں معاون۔ خصوصی کا کردار نبھایا تھا ۔ گاؤں سے چلے جانا اس کے لئے ایک طرح سے مصیبت سے بچنے کا سبب بن گیا تھا ۔ ، ، ،
لیکن نہیں ، یہ بچت تو عارضی سی تھی ۔
کیونکہ آج نہیں تو کل، شکیلہ گاؤں ضرور آتی ۔ اور چوھدری اسے بھی کسی نہ کسی طرح سے اٹھوا لیتا ۔ اس کے سسرال سے اٹھوانے کے مقابلے میں اسے اپنے گاؤں سے اٹھوانا چوھدری کے لئے زیادہ آسان تھا ۔ گویا اس معاملے کا ایک انتہائی اھم کردار ، شکیلہ بھی خطرے میں تھی ۔ اسے بھی با خبر کرنا بہت ضروری تھا ۔
ایک اور بات جو ھم سب کے لئے برابر حیران کن تھی، وہ یہ تھی، کہ جس دن دلشاد اغواٴ ھوا تھا، عین اسی دن سے فیکا بھی گاؤں سے غائب تھا ۔ کیا فیکا بھی دلشاد کے ساتھ ھی اغواٴ ھوا تھا ؟ کیا فیکا اور دلشاد کو اغواٴ کروانے میں ایک ھی انسان، چوھدری ھی ملوّث ھے ؟ اگر ھاں ، تو ان دونوں کا کیا تعلّق بنتا تھا ؟ چوھدری دلشاد کے ساتھ فیکے کو کیوں اغواٴ کرواتا ؟ سوچ سوچ کر میرے سر میں شدید درد شروع ھو گیا تھا ۔
تبھی فیضو نے ایک اور انکشاف کیا ۔
اس نے ھمیں دلشاد اور شہزادی کے چکّر کا بتا دیا ۔ یہ میرے لئے بالکل نئی خبر تھی ۔ میں حیران رہ گیا، جبکہ اکرم اس بات سے واقف تھا ۔ اکرم کے نزدیک یہ خبر ایک عام سی تھی، جبکہ اس بات سے آگاھی نے میرے اندر سوچنے کا ایک نیا راستہ پیدا کر دیا تھا ۔ سوچ کا ایک دروازہ کھلا، تو میں اس میں داخل ھو گیا، اور پھر واقعی، آگے جا کر اس میں سے نئے نئے راستے خود بخود ھی کھلتے چلے گئے ۔
میں اور فیکا ایک ھی گاؤں کے افراد تھے ۔ اس وجہ سے میں فیکے کے کردار سے واقف تھا ۔ شہزادی کے جسم کی طلب اسے ھمیشہ سے رھتی تھی، یہ بات بھی میں پہلے سے ھی جانتا تھا ۔ گو کہ ابھی تک میرے سامنے کوئی بھی واضح بات نہیں آئی تھی ، لیکن ایک بات تو مشترک تھی، کہ جس دن سے فیکا اور دلشاد اغواٴ ھوئے ھیں، اسی دن سے شہزادی اچانک گاؤں چھوڑ کر کہیں روپوش ھو گئی تھی، اور کوئی انجانی قوّت بار بار میرے اندر چیخ چیخ کر گویا اعلان کر رھی تھی، کہ فیکا، اور شہزادی، ان دونوں کا اس معاملے سے گہرا تعلّق ھے، اور اگر شہزادی مل جائے، تو اس کے ذریعے سے دلشاد کے معاملے کا سراغ آسانی سے لگایا جا سکتا ھے ۔
آخر میں نے اکرم سے مشورہ کر کے، سب سے پہلے شہزادی کو ڈھونڈنے کا فیصلہ کیا ۔ ایک بات جو ھم سب نے ذھن نشین کر لی تھی، وہ یہ تھی کہ ھم تینوں کے درمیان ھونے والی گفتگو راز ھی رھنی چاھئے ۔ معاملہ اتنا حسّاس تھا، کہ فی الحال ھمیں ھر قدم انتہائی رازداری اور ھوشیاری سے اٹھانا تھا، کیونکہ اگر چوھدری کو پتہ چل جاتا، کہ میں اور اکرم دلشاد کو ڈھونڈنے کے مشن پر نکل کھڑے ھوئے ھیں، تو وہ دلشاد کی جان بھی لے سکتا تھا ۔ جب تک ھم دلشاد کو اس کے چنگل سے نکال نہ لیتے، تب تک ھمیں ھر قدم پھونک پھونک کر رکھنا تھا ۔
اکرم کو میں نے شکیلہ تک پیغام پہنچانے کا کام سونپا ۔ اس نے دوسرے ھی دن ایک رابطہ کار کے ذریعے پیغام پہنچا دیا، کہ شکیلہ فی الحال گاؤں کا رخ نہ ھی کرے، تو بہتر ھو گا، کیونکہ گاؤں کے حالات ابھی سازگار نہیں ھیں ۔ ویسے شکیلہ کو پہلے سے ھی اس سارے واقعے کی خبر ھو چکی تھی ۔ گاؤں کی کسی سہیلی نے اسے حالات سے باخبر کر دیا تھا۔
اس دوران میں نے ایک دو دوستوں سے روائتی سے انداز میں دلشاد کے بارے میں سن گن لینے کی کوشش کی، لیکن کوئی کام کی خاص بات معلوم نہیں ھو سکی تھی ۔ آخر میں نے محسوس کیا، کہ اب تک مجھے اس معاملے کی سب سے بہترین اندر کی خبریں فیضو نے دی تھی ۔ وہ خبریں ایسی ھیں، جن پر ھم کام کرتے، تو شائد دلشاد تک پہنچ جاتے، یا پھر ھمیں اس تک پہنچنے کا کوئی راستہ ھی مل جاتا ۔
میں اور فیضو گاؤں سے باھر ایک جگہ پر موجود تھے، جب اکرم نے آ کر مجھے شکیلہ تک خبر پہنچانے سے آگاہ کیا ۔ شکیلہ کی طرف سے مطمئن ھو کر میں نے اور اکرم نے شہزادی کی طرف توجّہ دی ۔ فیضو کو ھم نے گاؤں میں ھی چھوڑ دیا تھا، تا کہ گاؤں کے معاملات سے وہ ھم دونوں کو برابر آگاہ رکھّے، اور چوھدری کی طرف سے کوئی بھی غیر معمولی سر گرمی دیکھے، یا عارفہ کے حوالے سے کوئی بات معلوم ھو ، تو فوراْ ھم کو اطّلاع کرے ۔ اس کے علاوہ میں نے اس کے ذمّے ایک اور کام بھی لگا دیا تھا ۔ اس نے شکیلہ تک رسائی حاصل کر کے دلشاد اور عارفہ کے حوالے سے اھم معلومات لینا تھیں ۔ عام حالات میں تو شکیلہ شائد فیضو سے اس حوالے سے کبھی بھی بات نہ کرتی، لیکن اب حالات مختلف تھے، اور مجھے امّید تھی، کہ شکیلہ معاملے کی سنگینی کا احساس کرتے ھوئے فیضو کو عارفہ اور دلشاد کے بارے میں کافی معلوماتی باتیں بتا دیتی ۔
میں اور اکرم شہزادی کے پیچھے پیچھے اس کے نئے ٹھکانے پر پہنچ چکے تھے ۔ شہزادی کی دانست میں اس کا انتہائی محفوظ ٹھکانہ ، ھمیں آسانی سے معلوم ھو گیا تھا ۔ گاؤں میں اس کی سب سے بہترین سہیلی سے یہ تمام معلومات فیضو نے ایک دوست لڑکے کے توسّط سے حاصل کر لی تھیں ۔
ھم دونوں شہزادی کے شہر تو پہنچ چکے تھے، لیکن اس تک پہنچنے کے لئے ھمارے پاس کوئی پلان نہیں تھا ۔ آخر میں نے کچھ وقت کے لئے ایک ھوٹل کا رخ کیا ۔ در اصل میں شہزادی پر بھونڈے انداز میں ھاتھ نہیں ڈلوانا چاھتا تھا ۔ میرے پاس وسائل نہیں تھے، پھر بھی میری سوچ یہ تھی، کہ میں شہزادی کو اس انداز سے اپنی گرفت میں لاؤں، کہ ھمیں اس کو لے کر اس شہر میں گلی گلی بھاگنا نہ پڑے ۔ شہزادی سے سوال جواب کرنے کے لئے ایک پر سکون گوشے کا انتظام انتہائی ضروری تھا ۔ ان سب باتوں پر سوچ بچار کئے بغیر کوئی حل نکلنا نا ممکن تھا ۔
نہانے کے بعد، ھم دونوں لیٹے ھوئے تھے، کہ اچانک میرے ذھن میں ایک خیال آیا ۔ میں نے فوراْ اپنے باس کو فون کیا ۔ اس وقت جبکہ مجھے کوئی راہ سجھائی نہیں دے رھی تھی، شائد باس ھی کچھ کر پاتا ۔ میں جانتا تھا، کہ باس کراچی سے لے کر پشاور تک ، کئی ایسے کام آسانی سے کروا لیتا تھا، جو بظاھر نا ممکن نظر آتے تھے ۔ اور میرا اندازہ ٹھیک نکلا۔ جب میں نے اپنے باس کو حالات سے مختصر طور پر آگاہ کیا، تو باس نے میری اس شہر میں بھی مدد کرنے کی حامی بھر لی تھی ۔
اس نے مجھے آدھے گھنٹے بعد اس شہر کے ایک تھانے میں پہنچنے کو کہا تھا ۔ پتہ نہیں باس کس طرح سے میری مدد کرنے والا تھا، لیکن جب باس نے کہ دیا تھا، تو وہ میری مدد ضرور کرتا ۔ اتنا تو میں جانتا ھی تھا۔
انسپکٹر ھم سے تعاون کا وعدہ کر چکا تھا ۔ تھانے کے انسپکٹر کو " اوپر " سے کسی کا فون آیا تھا، کہ فیروز نام کے آدمی کے ساتھ تعاون میں کوئی کسر نہیں رھنی چاھئے، چاھےمعاملہ کوئی بھی کیوں نہ ھو ۔ یقیناْ یہ باس کے ذریعے سے ھی ھوا ھو گا۔ انسپکٹر کو میں نے صاف صاف بتا دیا تھا، کہ ایک گھر سے ایک لڑکی کو اٹھوانا ھے، تو اس نے کچھ سوچنے کے بعد، حامی بھر لی ۔ میں نے اس سے پوچھا، کہ وہ لڑکی کو کہاں لائے گا، کیونکہ ھمارا اس شہر میں کوئی ٹھکانہ نہیں ھے ۔ اس سوال پر اس نے مجھے تھانے کے عقب میں واقع ایک گھر کا ایڈریس بتا دیا ۔ یہ گھر اس کے دوست کا تھا، اور اس وقت اسی کے استعمال میں تھا ۔ ھمیں اس گھر میں رات کے وقت تک پہنچنا تھا۔ اس وقت تک ھماری مطلوبہ لڑکی ( شہزادی ) وھاں پہنچائی جا چکی ھوتی ۔
جب میں نے انسپکٹر سے پوچھا، کہ وہ اس لڑکی کو کیسے اٹھوائے گا، تو اس نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا ۔ مجھے اس کی نظریں اپنے وجود پر چبھتی ھوئی محسوس ھو رھی تھیں ۔ شائد میرا یہ سوال اسے انتہائی ناگوار گزرا تھا ۔ میں نے سوال پر معذرت کر لی، لیکن اس نے پھر بھی مجھے کڑوا سا جواب دے دیا ۔
" صاحب، آپ بس اپنے کام سے کام رکھّیں ۔ ھم کام کیسے کرتے ھیں ۔ اس سے آپ کو کوئی غرض نہیں ھونی چاھئے ۔ بس اتنا کافی نہیں ھے کہ،آپ کا کام ھو جائے گا ۔ اور کیا چاھئے آپ کو ؟ "
اور میں خاموش ھو گیا ۔
شہزادی حیران نظروں سے ھم کو دیکھ رھی تھی ۔
اس وقت ھم اسی مکان کے کمرے میں موجود تھے جس کا ایڈریس ھمیں انسپکٹر نے بتایا تھا، اور یہ سب باس کی مدد سے ممکن ھو سکا تھا ۔
جب ھم رات کے وقت اس مکان پر پہنچے تھے، تو شہزادی چارپائی پر بے ھوشی کی حالت میں موجود تھی، اور اس کے ھاتھ پاؤں بندھے ھوئے تھے ۔ ایک کپڑا اس کے منہ پر بھی باندھا گیا تھا، جو یقیناْ اسے اٹھاتے کی کارروائی کے دوران کا عمل تھا، تا کہ وہ چلّا نہ سکے ۔
انسپکٹر بھی اس وقت اس جگہ پر موجود تھا۔ اس کے علاوہ چند اور افراد بھی موجود تھے ۔ انسپکٹر نے مجھے چار گھنٹے کے اندر مکان خالی کرنے کا کہا، کیونکہ اس کے مطابق اس کا دوست کسی بھی وقت واپس آ سکتا تھا ۔ میں نے حامی بھر لی ۔
انسپکٹر کے جانے کے بعد، ھم نے شہزادی کے چہرے پر پانی کے چھپاکے مارے، اور جب اس نے آنکھیں کھولیں، تو پہلے تو وہ کچھ سمجھ ھی نہ پائی۔ اور جب اسے کچھ سمجھ آئی، اور اس کی آنکھیں دیکھنے کے قابل ھوئیں، تو وہ ھم کو سامنے پا کر ششدر رہ گئی ۔
اس نے دفعتاْ اٹھنے کی کوشش کی تھی، لیکن اپنی جگہ سے ھل بھی نہ سکی تھی ۔ میں دل ھی دل میں اس آدمی کو داد دئے بغیر نہ رہ سکا، جس نے اسے رسّی کی بندشوں میں جکڑا تھا ۔ اس لئے، کہ اٹھنے کی کوشش میں اس کے چہرے پر شدید تکلیف کے آثار پیدا ھوئے تھے ۔
اکرم میرا اشارہ پا کر شہزادی کے قریب ھوا، اور اس کے منہ سے کپڑا ھٹاتے ھوئے بولا۔
" دیکھو شہزادی، ھمارے پاس وقت بالکل بھی نہیں ھے ۔ سیدھا سیدھا جواب دینا ۔ الٹا جواب تمھیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ھے، اس کا تمھیں اندازہ بالکل بھی نہیں ھے ۔ "
اس کے بعد اکرم نے ایک ذرا سے توقّف کے بعد، پہلے سے طے شدہ منصوبے کے مطابق ، اس کی آنکھوں میں جھانکتے ھوئے ایک دم سے سوال داغ دیا ۔
" دلشاد کے اغواٴ کے بارے میں کیا جانتی ھو ؟ "
میں نے اپنی نظریں شہزادی کے چہرے پر گاڑ رکھّی تھیں، تا کہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ سکوں، اور میں نے دیکھ لیا تھا، کہ دلشاد، اور اس کے اغواٴ کے ذکر پر اس کے چہرے کے رنگ تبدیل ھو گئے تھے۔ اگرچہ اس نے دوسرے ھی لمحے، اپنی کیفیّت پر قابو پا لیا تھا، لیکن جو کچھ میں دیکھنا چاھتا تھا، وہ میں نے دیکھ لیا تھا۔
میرا شک درست نکلا ۔ شہزادی اس معاملے میں کہیں نہ کہیں یا تو ملوّث تھی، اور اگر ملوّث نہیں بھی تھی، تو کچھ نہ کچھ جانتی ضرور تھی ۔
اس نے اکرم کے سوال پر سنی ان سنی کرتے ھوئے الٹا ھم سے سوال جواب کرنے کی کوشش کی، نتیجتاْ اکرم نے اس کے چہرے پر ایک تھپّڑ مارا۔ شہزادی تڑپ اٹھّی ۔ اکرم اسے گالیاں بھی دے رھا تھا ۔ اکرم نے فوراْ دوسرا تھپّڑ بھی مار دیا، اور پھر تیسرا۔ میں نے دیکھا، کہ اکرم چوتھا تھپّڑ بھی مارنا چاھتا تھا، لیکن میں نے اس کا ھاتھ پکڑ لیا ۔ پھر کچھ دیر بعد چھوڑ دیا۔ اب اکرم دوبارہ شہزادی سے مخاطب ھوا ۔
" اس وقت اس کمرے میں ھمارے علاوہ اور کوئی موجود نہیں ھے، جو تمھاری فریاد سن سکے ۔ سیدھی طرح سے بتا دو، کہ دلشاد اور فیکے کے اغواٴ کے بارے میں تمھیں کیا معلوم ھے ؟ اگر سیدھی طرح سے نہیں بتاؤ گی، تو پھر مجبوراْ ۔ تشدّد تو ھو گا ھی، تمھارے پاس صرف پانچ منٹ ھیں
۔ جلدی فیصلہ کر لو، تب تک میں دودھ پی لوں ، اور ۔ ۔ ۔ ساتھ ایک سپیشل گولی بھی تو کھانی ھے ناں ، میری جان کے لئے ۔ "
آخری فقرہ کہتے ھوئے اکرم نے دانستہ اسے آنکھ ماری تھی ۔۔
شہزادی کی آنکھوں میں خوف اتر آیا تھا ۔ وہ ابھی تک بے یقینی کے سے انداز میں ھم کو دیکھ رھی تھی ۔ وہ تو اپنی دانست میں گاؤں چھوڑ کر چوھدری سے جان چھڑا آئی تھی ۔ اسے کیا معلوم تھا، کہ چوھدری سے بھی پہلے ھم اس کی شامت۔ اعمال بن کر اس کے پیچھے پیچھے ھی پہنچ جائیں گے ۔
میں نے اکرم سے باھر آنے کو کہا ۔ میں اندازہ لگا چکا تھا، کہ شہزادی اب جلد ھی کچھ نہ کچھ اگل دے گی ۔ اگر اس کے پاس کوئی اطّلاع نہ ھوتی، تو اس کے تیور ھی کچھ اور ھوتے ۔ لیکن اس نے تو ابھی تک منہ سے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔ اور اب اکرم کے تشدّد کے بعد اس کی حالت بتا رھی تھی، کہ وہ ھم سے تعاون کے لئے تیّار ھو رھی ھے ۔
پانچ منٹ بعد شہزادی نے مشروط طور پر کچھ بتانے کا وعدہ کیا ۔ میں نے اس کی ایک آدھ شرط ماننے کا وعدہ کر لیا ۔ اس نے بحفاظت گھر تک واپسی، اور اکرم سے بچنے کی شرطیں رکھ دیں، تو اکرم نے کہا، کہ ایک آدھ شرط مانی جا سکتی ھے ۔ شہزادی نے دونوں شرائط پر ضد کی کوشش کی ، تو اکرم نے اس کے چہرے پر ایک زنّاٹے دار تھپّڑ رسید کیا، اور اسے گالیاں دیتے ھوئے کہا،
" ھم سے سودے بازی کرنا چاھتی ھے ؟ ھمارے دوست کی زندگی خطرے میں ھے، اور تو ھمارا وقت ضائع کر رھی ھے ؟ بول، بکواس کرتی ھے، یا پھر "
اکرم کے انداز اور گرجدار آواز سے تو ایک بار میں بھی سہم کر رہ گیا تھا ۔ شہزادی اس کا تھپّڑ کھا کر رونے لگ گئی تھی ۔ اس سے پہلے، کہ اکرم فرط۔ جذبات میں واقعی کچھ ایسا ویسا کر دیتا، میں نے اسے پکڑ لیا۔ اب میں نے شہزادی سے کہا، کہ وہ ایک منٹ میں بات شروع کر دے، ورنہ میں اکرم کو قابو کرنے کی مزید گارنٹی نہیں دے سکتا ۔ شہزادی گھبرا گئی ۔ اس نے فوراْ بات شروع کر دی تھی، اور اس کے منہ سے ھونے والے انکشافات نے میرے تن بدن میں آگ لگا دی ۔
دلشاد کو پھنسانے والی کوئی اور نہیں ، بلکہ شہزادی ھی تھی ۔
میری چھٹی حس نے اس بار بھی میری درست رہنمائی کی تھی ۔
شہزادی نے ھمیں ساری بات بتا دی تھی، کہ کس طرح دلشاد سے اس نے اپنے جسمانی تعلّقات استوار کئے، اور پھر بعد میں دلشاد جب اس سے گریزاں نظر آیا، تو اس نے چوھدری کی دھمکی دی، جس کے جواب میں دلشاد نے اس کا گینگ ریپ کروایا۔ اور شہزادی نے انتقاماْ فیکے کے ذریعے سے چوھدری تک ساری بات پہنچوا دی ۔اس کے بعد سے دلشاد غائب تھا ۔
اب ایک بات تو واضح تھی، کہ دلشاد کو چوھدری ھی نے اٹھایا تھا ۔ لیکن اسے رکھّا کہاں گیا تھا ۔ اس بارے میں ھمیں کچھ معلوم نہیں تھا ۔
یہ بڑی ھی خطرناک صورت۔ حال تھی ۔ دلشاد موت کے منہ میں پھنسا ھوا تھا، اور ھم خود کو بے بس محسوس کر رھے تھے ۔
شہزادی ھم سے معافی مانگ رھی تھی۔ میں نے اس سے پوچھا، کہ دلشاد کو کہاں رکھّا گیا تھا، تو اس نے قسمیں کھا کر کہا، کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔ اکرم پھر اس کے درپے ھونا چاھتا تھا، لیکن میں نے اسے روک لیا۔ جب اس نے قسمیں کھا کر ایک ھی بات کی رٹ لگائے رکھّی، تو ھم سمجھ گئے، کہ وہ واقعی اس بارے میں کچھ نہیں جانتی ۔
اس نے مجھ سے پوچھا، کہ کیا اب ھم اسے چھوڑ دیں گے، تو میں باھر نکل آیا۔ اکرم اندر ھی موجود تھا۔ یہ میری طرف سے اسے اس بات کا اشارہ تھا، کہ وہ شہزادی کے جسم سے مزہ کشید کر سکتا ھے ۔ آخر ھمارے دوست کو پھنسانے والی کے ساتھ کچھ تو ھونا ھی چاھئے تھا ۔ ۔
اکرم باھر نکل آیا۔ وہ پسینے میں شرابور تھا ۔ باھر آ کر وہ ایک چارپائی پر ڈھے سا گیا ۔ میں نے مسکراتے ھوئے پنکھے کی سپیڈ تیز کر دی ۔ اسے اس وقت آرام اور جسمانی سکون کی اشد ضرورت تھی ۔
آدھ گھنٹے کے بعد، اکرم نہا دھو کر تازہ دم ھو چکا تھا ۔
اس کے بعد، ھم نے وہاں سے روانگی کا ارادہ کیا۔ انسپکٹر کا ایک آدمی گلی سے باھر ھمارا انتظار کر رھا تھا ۔ میں نے اسے فون کر کے بتا دیا، اور وہ وہاں آ گیا ۔ جانے سے پہلے ھم نے اس آدمی سے کہا، کہ وہ بھی چاھے، تو اس لڑکی کو استعمال کرسکتا ھے۔ میری اس بات کے جواب میں وہ عیّاری سے مسکرایا ۔ میں سمجھ گیا، کہ اس کی رال بھی ٹپک پڑی ھے ۔ میں نے اس کا شانہ تھپکا، اور مکان سے نکل گیا ۔
شہزادی دوبارہ سے ایک مرد کا شکار ھونے والی تھی ۔
اس نے دلشاد کو پھانسا بھی خود تھا، اور پھر اس کے گینگ ریپ کے بدلے میں اسے چوھدری کے پنجے میں پھنسانے میں اھم کردار ادا کیا تھا ۔ میری طرف سے اس کے لئے یہ کم سے کم سزا تھی، ورنہ تو اس پر کم از کم سو آدمی چھوڑا جانا چاھئے تھا ۔ مکان سے نکلتے ھوئے میں سوچ رھا تھا ۔
منیر نیازی نے کہا تھا، کہ
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو،
میں ایک دریا کے پار اترا، تو میں نے دیکھا ۔
بالکل ایسی ھی صورت۔حال کا سامنا ھمیں بھی تھا ۔
اب ھمیں کسی بھی طرح چوھدری کی قید سے دلشاد کو چھڑانا تھا ۔
دوسری طرف چوھدری بھی آرام سے نہیں بیٹھا ھوا تھا ۔
اس نے عارفہ کو گاؤں سے باھر بھجوانے کے بعد، دلشاد کو تو قابو کر ھی لیا تھا، اب اس نے سب سے پہلے اپنی بیٹی کی سہیلی پر ھاتھ ڈالنے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کا ملازم ڈانگر اس بات سے متّفق نہیں تھا ۔ وہ چاھتا تھا، کہ شکیلہ کو اس بات سے بے خبر رکھّا جائے، تا وقتیکہ وہ گاؤں نہ آ جائے ۔ سسرال میں اس پر ھاتھ ڈالنا نہ صرف مشکل ھو سکتا تھا، بلکہ اس سے چوھدری کی عزّت بھی اچھل سکتی تھی، کیونکہ اگر اس کارروائی کے دوران کسی کو بھی پتہ چل جاتا، تو ساری بات کھل کر سامنے آ جاتی ۔ ڈانگر نے اس کے سامنے یہ بات بھی رکھّی، کہ شکیلہ کے سسرال والے کوئی اتنی معمولی آسامی بھی نہیں ھیں ۔ شکیلہ پر وھاں ھاتھ ڈالنے سے سارا کھیل خراب بھی ھو سکتا تھا ۔ اس سے بہتر تھا، کہ اسے کسی بھی طرح، کسی بھی بہانے سے گاؤں میں بلوایا جائے۔ اور جونہی وہ گاؤں میں پہنچ جائے، تو اس کو اٹھوا لیا جائے ۔
عام حالات میں چوھدری شائد اس کی بات نہ مانتا، لیکن معاملہ اس کی عزّت کا تھا، اور ڈانگر کی دلیل میں وزن بھی تھا، سو بات چوھدری کی سمجھ میں آ ھی گئی ۔ وہ فی الحال رک گیا، لیکن اس نے ڈانگر کو دو دنوں کاٹائم بھی دے دیا، کہ دو دنوں کے اندر اندر شکیلہ گاؤں میں ھونی چاھئے ۔ چوھدری کا بس نہیں چل رھا تھا، کہ وہ فوراْ سے پہلے شکیلہ تک ہپہنچ جائے ۔ اس کا غرور اسے کسی کل چین نہیں لینے دے رھا تھا ۔ شائد ابھی تک وہ اس بات کو ھضم ھی نہیں کر پایا تھا، کہ گاؤں کے ایک معمولی سے لڑکے میں اتنی ھمّت بھی آ سکتی ھے، کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ عشق لڑائے، اور گاؤں میں رھتے ھوئے ھی دن دھاڑے اس کی بیٹی کے ساتھ ملاقاتیں بھی کرتا پھرے ۔ چوھدری جتنا اس بات پر سوچتا تھا، اتنا ھی اس کا خون کھولنے لگتا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ یہی وجہ تھی، کہ وہ ھر روز دلشاد کے پاس جا کر اس کی دھلائی کرتا تھا، تا کہ اس کے جذبہٴ انتقام کو کچھ سکون میّسر آ سکے ۔ آج بھی وہ اسی کام سے فارغ ھو کر آیا تھا ۔
اور اس سارے کام میں دلشاد اور عارفہ کی معاون تھی شکیلہ ۔ ۔ ۔ ۔ دلشاد کو تو اس نے قابو کر لیا تھا ۔ ۔ ۔
اب شکیلہ کی باری تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !
اس نے شکیلہ کے لئے بھی انتہائی خطر ناک منصوبہ سوچ رکھّا تھا ۔ بس اسے اس وقت کا بے چینی سے انتظار تھا، کہ کب شکیلہ گاؤں میں قدم رکھّے ، اور وہ اسے اچک لے ۔
نہ جانے اب شکیلہ کے ساتھ کیا ھونے والا تھا ۔ شکیلہ اس وقت تک قدرے محفوظ تھی، جب تک وہ سسرالیوں میں رھتی ۔ یہ بات شکیلہ بھی اچھّی طرح سے جان چکی تھی ۔ اسی لئے اس نے سوچ رکھّا تھا ، کہ ابھی اس کا سسرال میں رھنا ھی ٹھیک تھا۔ ابھی وہ گاؤں آنے کا خطرہ ھر گز مول نہ لیتی ۔ ۔ ۔
لیکن آخر کب تک ؟ کیونکہ آج نہیں تو کل، آخر اس نے گاؤں میں آنا ھی تھا، کہ آخر یہ اس کا میکہ تھا ۔ وہ اپنے میکے والوں سے زیادہ عرصہ دور نہیں رہ سکتی تھی ۔ وہ نہ بھی آنا چاھے، تو اس کےمیکے والے اسے ملنے کے لئے بلوا سکتے تھے ۔
کیا پتہ، کب شکیلہ گاؤں میں آنے پر مجبور ھو جاتی ؟
ھم تینون سوچ سوچ کر تھک چکے تھے، لیکن کوئی راہ سجھائی نہیں دے رھی تھی ۔ ھمیں شک ضرور ھو چکا تھا، کہ چوھدری نے دلشاد کو ضرور باغ والے رقبے پر رکھّا ھو گا۔ یہ جگہ اس کا سب سے خاص ٹھکانہ سمجھی جاتی تھی ۔ لیکن اس رقبے کے اس گوشے تک رسائی کیسے حاصل کی جائے، جہاں دلشاد کو رکھّا گیا ھو گا ؟ کیونکہ اگر وہاں دلشاد کو رکھّا گیا ھو گا، تو پھر وھاں پہرے کا بھی سخت انتظام ھو گا ۔
دوسری طرف دلشاد کے باپ کی حالت بگڑتی چلی جا رھی تھی ۔ جوان بیٹے کے غم میں اس پر کسی بھی دوا یا دعا کا اثر نہیں ھو رھا تھا ۔ ھم تینوں اس وجہ سے اور بھی پریشان تھے ۔ گاؤں والے حیران تھے، کہ کسی سے بھی دشمنی نہ رکھنے والا دلشاد، اچانک غائب کیونکر ھو گیا ، اور ایسے کیسے غائب ھو گیا، کہ کوئی نشانی تک نہ ملی۔ آخر اسے زمین کھا گئی، یا آسمان نگل گیا ؟
ایک شام ھم تینوں بیٹھے سوچ رھے تھے، کہ اچانک اکرم نے ایک حل پیش کر دیا۔ اس حل نے تو مجھے بھی حیران کر دیا ۔ اگرچہ اس کام میں خطرہ بھی تھا، لیکن آخر دلشاد کو کسی نہ کسی طرح تو چھڑانا ھی تھا ۔ اگر دلشاد کو چھڑانا تھا، تو خطروں کا سامنا بھی کرنا پڑے گا ۔ یہ وہ مرکزی بات تھی، جو ھم نے اس وقت طے کی تھی، جب ھم اس مشن پر نکلے تھے ۔
ھم تینوں اس حل سے متّفق ھو چکے تھے ۔
میں نے اکرم سے پوچھا، کہ وہ اس منصوبے پر عمل کیسے درآمد کروائے گا، تو اس نے مجھے یہ کہ کر آنکھ ماری، کہ صرف اور صرف دو گھنٹے کے اندر اندر نتیجہ مل جائے گا ۔ میں اس کے اعتماد پر حیران رہ گیا۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں تھا، کہ منصوبہ پرانا ھونے کے باوجود بھی مؤثّر لگتا تھا ۔
ڈانگر اس وقت چوھدری کی حویلی کے باھر موجود تھا ۔ اس کے آس پاس گاؤں کے چند آدمی بھی بیٹھے ھوئے تھے ۔ رات کا وقت تھا ، اور وہ ان سب سے جان چھڑانا چاھتا تھا، لیکن کچھ لوگوں نے اسے گھیر کر بٹھایا ھوا تھا ۔ وہ اس کی خوشامد کر کے اسے باتوں میں لگا کر بیٹھے تھے ۔ ان سب باتوں کے دوران ھی اس کا موبائل بجا ۔ اس نے موبائل نکالا۔ سکرین پر کوئی اجنبی نمبر جگمگا رھا تھا ۔ وہ قدرے حیران تو ھوا، لیکن اس نے ایک طرف ھو کر فون اٹینڈ کیا ۔(اس کی ھمیشہ سے عادت رھی تھی، کہ وہ ایک طرف ھٹ کر فون سننے کا عادی تھا ۔ صرف چوھدری ایسا انسان تھا، جس کے پاس کھڑے ھوئے اس کا فون آتا، تو وہ وھیں کھڑے کھڑے سنتا تھا ۔ چوھدری کے ساتھ ھوتے ھوئے اس میں ایک طرف جا کر فون سننے کی ھمّت ھی نہیں ھوتی تھی ۔ )
ڈانگر : ھیلو ۔ کون ؟
(دوسری طرف سے ) ڈانگر صاحب، ڈانگر صاحب ۔ دلشاد بھاگ گیا ۔ دلشاد بھاگ گیا صاحب جی ۔ "
وہ ایک دم سے چونک اٹھّا ۔ محفل والوں سے ذرا دور ھوتے ھوئے اس نے فون کرنے والے سے پوچھا ۔ نہ چاھتے ھوئے بھی اس کی آواز بلند ھو ھی گئی تھی ۔
" بھاگ گیا ؟ کیا مطلب ؟ کون ھو تم ؟ "
لیکن دوسری طرف سے رابطہ کاٹ دیا گیا تھا ۔ ڈانگر اپنی جگہ پر حیران و پریشان کھڑا رہ گیا تھا ۔اس نے ایک دو بار ھیلو ھیلو بھی کی، لیکن دوسری طرف سے کال کٹ چکی تھی ۔
گاؤں کے چند لوگ، جو اس وقت چوھدری کی چوپال پر بیٹھے ھوئے تھے، وہ اسی کی طرف دیکھ رھے تھے ۔ وہ اس وقت بلب کے عین نیچے کھرا تھا ۔ اس کی روشنی میں اس کا چہرہ صاف نظر آ رھا تھا ۔ اس کے چہرے پر تفکّر کے گہرے سائے لہرا رھے تھے ۔ کچھ تو ایسا ھو گیا تھا، کہ ڈانگر جیسا آدمی بھی گہرا پریشان نظر آ رھا تھا ۔ چوپال کے صحن پر بیٹھے کچھ لوگ اسے دور سے ھی دیکھ کر اندازے لگانے کی کوشش کر رھے تھے ۔ ڈانگر نے تیزی سے ایک نمبر ملایا۔ رابطہ ھونے پر اس نے تیزی سے ایک نام لیا ۔
" بھٹّو ۔ "
اس کی آواز دھاڑ سے مشابہ تھی ۔ لیکن دوسرے ھی لمحے اس نے اپنی آواز دھیمی کر دی ۔ شائد غصّے کی وجہ سے اس کی آواز بلند ھو گئی تھی ۔ لیکن دوسرے ھی لمحے اسے یقیناْ اپنی غلطی کا احساس ھوا ھو گا، اسی وجہ سے اب وہ بے حد دھیمی آواز میں بات کر رھا تھا ۔
کچھ دیر تک فون پر بات کرنے کے بعد ڈانگر ان سب کی محفل کو چھوڑتا ھوا گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔ چند آدمی اسے آوازیں دیتے ھی رہ گئے ۔ ڈانگر کے جانے کے
چند منٹ بعد ایک آدمی اٹھّا، اور ایک طرف کو نکل گیا ۔
یہ آدمی ھمارا بھیجا ھوا تھا، اور اب وہ ھمیں کوئی اھم اطّلاع دینے کے لئے ایک تنہا گوشے کی تلاش میں جا رھا تھا ۔ یہی وہ آدمی تھا، جس نے ڈانگر کو اس وقت چند لوگوں کی مدد سے چوپال پر بٹھایا ھوا تھا ۔
ھمارا پھینکا ھوا تیر یقیناْ ٹھیک نشانے پر لگا تھا ۔ ڈانگر کو اجنبی کال ھم نے کی تھی، اور اس خیال کے تحت کی تھی، کہ اس اطّلاع کے بعد، ڈانگر لا محالہ اسی ٹھکانے پر جائے گا، جہاں دلشاد کو رکھّا گیا تھا ۔ اگرچہ ھم جانتے تھے، کہ وہ سب سے پہلے اس ٹھکانے پر موجود کسی اور چیلے کو فون کرے گا، جو یقیناْ دلشاد کے سر پر کھڑا ھو گا، لیکن پھر بھی ھمیں یقین تھا، کہ ڈانگر ایک بار اس جگہ ضرور جائے گا، جہاں دلشاد کو رکھّا گیا تھا ۔ انسانی نفسیات کچھ ایسی ھی ھوتی ھے ۔ یہ ایک نفسیاتی حربہ تھا، جو ڈانگر جیسے جانور کی سمجھ میں آ بھی سکتا تھا، اور نہیں بھی ۔ لیکن یہ ھماری خوش قسمتی تھی، کہ جس وقت اس نے ھماری اجنبی کال سن کر کسی بھٹّو نامی آدمی کو فون کیا تھا، تو اس کے پوچھنے پر اس آدمی نے اسے بتایا تھا، کہ اس وقت وہ دلشاد سے دور تھا ۔
گویا اسے معلوم ھی نہی ھو سکا تھا، کہ دلشاد کے بھاگنے کی اطّلاع درست تھی، یا کہ غلط ۔
ڈانگر اس اطّلاع کو سن کر اتنا بد حواس ھوا تھا، کہ کسی اور کو فون کرنے کی بجائے وہ گاڑی لے کر نکل کھڑا ھوا ۔ اور یہی ھم چاھتے تھے ۔ ھم نے تو اسے کال ھی اسی لئے کی تھی، کہ وہ کال سن کر اس جگہ تک جائے، جہاں دلشاد کو رکھّا گیا تھا، اور قسمت بھی شائد ھمارا ساتھ دے رھی تھی ۔
دلشاد تک پہنچنے کے لئے ڈانگر خود ھماری رھنمائی کرنے والا تھا ۔
رات کے اس وقت ڈانگر کا پیچھا کرنا ھمارے لئے اتنا مشکل نہ ھوتا ۔ اس کام کے لئے ھم نے پہلے سے بندو بست کر رکھّا تھا ۔
ھمارے مخبر نے ھمیں اطّلاع دی، کہ فون سننے کے فوری بعد ڈانگر نے کسی بھٹّو نام کے آدمی کو فون کیا تھا ۔ ھم حیران رہ گئے، کیونکہ ھمارے گاؤں میں کسی کا نام بھی بھٹّو نہیں تھا ۔
لیکن ساتھ والے ایک گاؤں میں ایک آدمی کا نام بھٹّو تھا۔ یہ بات ھمیں فیضو نے بتا دی تھی ۔
تو کیا دلشاد کو گاؤں سے باھر کہیں، کسی اور کے پاس رکھّا گیا تھا ؟
جو بھی تھا، لیکن اب تو سب سے پہلے ڈانگر کا پیچھا کرنا تھا، تا کہ ھم اس جگہ کو دیکھ سکیں ، جہاں دلشاد موجود تھا ۔
اس وقت ایک طرف سے بادل بھی اٹھ آئے تھے ، اور صبح سے بنا ھوا حبس بھی ایک دم سے گہرا ھو گیا تھا ۔ ایسے لگتا تھا، کہ بارش آنے والی تھی ۔ میں سوچ رھا تھا، کہ کہیں بارش ھمارے کام میں رکاوٹ ھی نہ ڈال دے۔ لیکن بعد میں مجھے احساس ھوا ، کہ اس رات ھونے والی بارش کی وجہ سے ھم ھی فائدے میں رھے تھے ۔ اگر اس رات بارش نہ ھوتی، تو چوھدری کھوجی کو بلوا کر کھرا نکلواتا، اور ھم فوراْ پکڑے جاتے ۔ اس رات بارش کی وجہ سے ھمارے قدموں کے نشانات زمین پر بچے ھی نہیں تھے ۔
ڈانگر اس وقت چوھدری کی گاڑی پر نکلا تھا ۔ ھم دوست بھی سڑک کے مختلف مقامات پر موجود تھے ۔ ڈانگر گاؤں سے باھر جانے والی سڑک پر مڑ گیا۔ فیضو کو ھم نے احتیاطاْ بابے والی ٹاھلی کے پاس کھڑا کیا تھا۔ اسے میں نے بتا دیا، کہ ڈانگر اسی طرف آ رھا ھے ۔ وہ ھوشیار ھو گیا۔ ڈانگر ساتھ والے گاؤں کی طرف ھی جا رھا تھا، جہاں بقول فیضو، ایک بھٹّو نام کا آدمی رھتا تھا ۔
تو کیا دلشاد کو بھٹّو کے پاس کہیں رکھّا گیا تھا ؟
اس سوال نے مجھے حیران تو بہت کیا، لیکن بعد میں سب کچھ میری سمجھ میں
آگیا تھا ۔ چوھدری دلشاد کو اپنے کسی بھی رقبے پر نہیں رکھنا چاھتا تھا، کیونکہ اگر اس کا کوئی ملازم مخبری کر دیتا، تو بات گاؤں والوں کے کانوں تک بھی پہنچ جاتی ۔ اس نے اس معاملے میں حد سے زیادہ احتیاط سے کام لیا تھا ۔
بارش کے قطرے برسنا شروع ھو گئے تھے ۔ فی الحال بارش انتہائی دھیمی رفتار سے اتر رھی تھی ۔
ڈانگر کا پیچھا کرتے کرتے ھم ساتھ والے گاؤں میں پہنچے، اور پھر اس نے اس گاؤں سے بھی آگے کا رخ کر لیا ۔ گاؤں سے نکلنے کے بعد، ایک جگہ سے مشرق کا رخ کرتے ھوئے اس نے گاڑی ایک کچّی سڑک پر اتار دی ۔ اس طرف اس گاؤں والوں کے کھیت پڑتے تھے ۔ آخر ڈانگر کی گاڑی ایک جگہ جا کر ایک کھیت کی طرف مڑ گئی ۔ ھم بھی اس کا پیچھا کرتے کرتے اس جگہ تک چلے آئے تھے ۔ ھم اس سے مناسب فاصلے پر موجود تھے ۔ ھمیں یقین ھو چکا تھا، کہ ھمارا دوست، دلشاد اسی کھیت میں موجود تھا ۔ اس کھیت میں ایک مکان بنا نظر آ رھا تھا ۔ اور دلشاد یقیناْ اس مکان میں ھی کہیں موجود تھا ۔
ڈانگر کی گاڑی کی ھیڈ لائٹس کی روشنی میں ھم نے دیکھا، کہ کئی گیدڑ وھاں
سے ادھر ادھر بھاگ رھے تھے ۔ وہ یقیناْ اس وقت اس تنہا گوشے میں شب بسری کے لئے جمع ھوئے تھے، اور اب ھماری آمد کے بعد ان کی ساری محفل بھگدڑ کا شکار ھو کر رہ گئی تھی ۔
یہ ایک کھیت ھی تھا، لیکن اس کھیت میں فصل نہیں تھی ۔ فیضو کے مطابق یہ کھیت آسیب زدہ سمجھا جاتا تھا ، اور آج کل یہاں دن کے وقت اس بھٹّو نامی آدمی کے جانور ھی بندھے رھتے تھے ۔ البتّہ رات کے وقت یہ جگہ گیدڑوں اور دوسرے جنگلی جانوروں کا مسکن بن جاتی تھی ۔ ساتھ ھی ایک جنگل پڑتا تھا، جہاں سوٴر اور گیدڑ وغیرہ عام پائے جاتے تھے ۔ رات کے وقت وہ جانور چہل قدمی ( ؟ ) کرنے کی غرض سے یہاں تک آ نکلتے ھوں گے ۔
فیضو کے مطابق اس نے اس جگہ کے متعلّق کئی ڈراؤنی داستانیں سن رکھّی تھیں ۔ شائد دلشاد کو اسی لئے یہاں رکھّا گیا تھا ، کیونکہ آسیب زدہ سمجھی جانے والی جگہ کی طرف گاؤں والے شاذو نادر ھی جایا کرتے ھیں ۔ گویا ایک طرح سے یہ گوشہ تنہا تھا۔
بارش اب تیز ھو رھی تھی ۔ ھم تینوں بارش میں بھیگ رھے تھے ۔ لیکن اپنے دوست کی خاطر یہ بھیگنا کچھ بھی نہیں تھا ۔ ھم تینوں تو اس کی خاطر کچھ بھی کرنے کو تیّار تھے ۔
ڈانگر نے مکان کے باھر ایک جگہ پر جیپ کھڑی کی، اور مکان کے اندر داخل ھو گیا ۔ اس نے گاڑی کی لائٹس بند کر دی تھیں ۔ کھیت کے ایک گوشے سے گیدڑوں کے رونے کی آوازیں آ رھی تھیں۔ شائد انہیں ان کی تنہائی میں اس طرح سےبناٴاجازت ھمارا مخل ھونا کسی طور نہیں بھایا تھا۔ اب وہ مختلف آوازیں نکال کر احتجاج کر رھے تھے ، گویا ناراضی کا اظہار کر رھے ھوں ۔
ھم نے ایک مناسب فاصلہ رکھ کر ڈانگر کا تعاقب کیا تھا ۔ اگرچہ وھاں بیٹھنے کی بجائے ھم اٹھ کر ڈانگر کا سامنا کرنا چاھتے تھے، لیکن ھم یہ بھی جانتے تھے، کہ فلم، اور حقیقی زندگی میں بہت فرق ھوتا ھے، اور ھم اس وقت کسی فلم کی شوٹنگ پر نہیں، بلکہ ایک حقیقی خطرے کے انتہائی نزدیک موجود تھے ۔ ڈانگر ایک پلا ھوا بد معاش تھا، اور ھم اس کا مقابلہ کرنے کی اھلیّت نہیں رکھتے تھے ۔ پھر اس کے پاس ایک خطر ناک قسم کی گن بھی ھمہ وقت موجود رھتی تھی ۔ ان سب باتوں نے ھمیں وھیں صبر کے ساتھ بیٹھے رھنے پر مجبور کر رکھّا تھا ۔ ھم تینوں نے اپنے فشار۔ خون پر بڑی مشکل سے قابو پایا ھوا تھا ۔
بارش کے ٹھنڈے ٹھنڈے قطرے بھی ھمارے دماغ کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے انتہائی اھم کردار ادا کر رھے تھے ۔
سیانے کہتے ھیں، کہ دشمن جسمانی لحاظ سے زیادہ طاقت ور ھو، تو اسے جسمانی طاقت سے نہیں، بلکہ دماغ سے لڑ کر شکست دو ۔ اور ھم اس وقت اسی اصول پر عمل پیرا تھے ۔ ڈانگر جیسے طاقت ور دشمن سے نمٹنے کے لئے ھم اپنے دماغ کو استعمال کر رھے تھے ۔
ایک ایک لمحہ جیسے قیامت ھو رھا تھا ۔ اوپر سے بارش کی رفتار بھی تیز ھو گئی تھی ۔
ڈانگر کو اندر گئے دس منٹ ھو چکے تھے ۔ ھمارے لئے وھاں زیادہ دیر بیٹھنا محال ھوتا جا رھا تھا ۔ بہر حال، ھمیں پختہ یقین تھا، کہ ڈانگر دلشاد کو دیکھ کر چلا جائے گا ۔ اور یہی ھوا ۔ ڈانگر کچھ دیر بعد مکان سے نکل آیا تھا ۔ وہ جیپ میں سوار ھوا، اور وہاں سے روانہ ھو گیا ۔
اب ھم نے کچھ دیر تک ادھر ادھر کی سن گن لی ۔ جب کافی دیر تک وھاں کوئی ھلچل محسوس نہیں ھوئی، تو ھم نے ایکشن میں آنے کا فیصلہ کیا ۔
ایک ایک کر کے ھم تینوں دبے پاؤں مکان کے دروازے کی طرف بڑھے ۔ سب سے آخر میں اکرم موجود تھا، اور سب سے آگے فیضو ۔ میں درمیان میں تھا ۔
دروازے کے قریب کھڑے ھو کر ھم کان لگا کر سننے کی کوشش کرتے رھے، کہ آیا اندر کوئی موجود ھے یا کہ نہیں ۔ جب ھمیں پختہ یقین ھو گیا، کہ اندر کوئی بھی مسلّح آدمی موجود نہیں ھے ، تو ھم نے دیوار پھلانگی، اور اندر کود گئے ۔ اب ھم تینوں کے قدموں میں جیسے بجلی بھر دی گئی تھی ۔ اتنے دنوں کی محنت کے بعد ھم آخر دلشاد تک پہنچ ھی گئے تھے ۔
مکان جتنا باھر سے خستہ نظر آتا تھا، اندر اس سے بھی زیادہ خستگی کا شکار تھا ۔ شائد اسے جان بوجھ کر اس حالت میں رکھّا گیا تھا، تا کہ کوئی خواہ مخواہ اس مکان کی طرف متوجّہ نہ ھو سکے ۔ بھٹّو نامی آدمی کے جانور بھی اس مکان کے باھر تک ھی بندھے رھتے تھے ۔ اندر وہ بھی کم ھی آتا تھا ۔ ( یہ رقبہ بھی چوھدری ھی کا تھا، لیکن اس نے ابھی تک یہ بات کسی کو بتائی ھی نہیں تھی ۔ اس مکان کو وہ اسی طرح کے کاموں کے لئے استعمال کیا کرتا تھا ۔ اس نے اگر کسی کو سزا دینا ھوتی تھی، تو اسی مکان میں لا کر رکھتا تھا ۔ یہ باتیں ھمیں بعد میں معلوم ھوئی تھیں۔ )
ھم مکان کی چار دیواری کے اندر پہنچ چکے تھے ۔ ابھی تک ھمیں کسی بھی خطرے کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا ۔ شائد ڈانگر وغیرہ اس وجہ سے مطمئن تھے، کہ اس طرف کون آنے والا تھا، اور دلشاد تو اندر یقیناْ بندھا ھوا ھی تھا ۔ ان کی دانست میں دلشاد یہاں سے بھاگ نہیں سکتا تھا ۔ انہیں کیا معلوم تھا، کہ دلشاد آج رات کے اندھیرے میں یہاں سے بھاگنے والا تھا ۔
مکان کے اندر دو کمرے بنے ھوئے تھے ۔ ایک طرف ایک لیٹرین تھی، اور کمروں کے آگے ایک برآمدہ بھی بنا ھوا تھا۔ یہ تمام عمارت ھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی ۔ ھم نے ارد گرد دیکھتے ھوئے ایک کمرے کا رخ کیا۔ اس کمرے کو تالہ لگا ھوا تھا ۔
ھم تینوں سمجھ گئے، کہ اندر کوئی نہ کوئی غیر معمولی بات ضرور تھی ۔
یقیناْ دلشاد اسی کمرے میں موجود تھا ۔
ھم نے ایک طرف سے ایک دو بڑے بڑے پتھّر اٹھائے، اور میں تالے پر زور آزمائی
کرنے لگا۔ اچانک اندر سے ایک آواز آئی ۔ جیسے کوئی درد مندانہ انداز میں کچھ بول رھا ھو ۔
شائد اندر کوئی شدید درد کی کیفیّت میں کراہ رھا تھا ۔
ھم نے کان لگا کر سنا، تو ھماری رگوں میں خون سنسنا اٹھّا۔
یہ دلشاد کی آواز تھی ۔
دلشاد اندر ھی موجود تھا ۔
دلشاد کی آواز سن کر میرے ھاتھوں کی حرکت تیز تر ھو گئی ۔ میرا بس نہیں چل رھا تھا، کہ کمرے کا دروازہ توڑ کر اندر گھس جاؤں ۔ اس وقت اندر سے جو حالت میری تھی، میرے ساتھی بھی یقیناْ اسی کیفیّت کا شکار تھے ۔
آخر کچھ ھی دیر میں تالہ ٹوٹ کر میرے ھاتھ میں آ گیا ۔ ھم بے تابی سے اندر داخل ھوئے۔ اندر کے منظر پر نظر پڑی ، تو ھم جیسے ساکت رہ گئے ۔
اندر ایک ھولناک منظر ھمارا منتظر تھا ۔ ۔ ۔ ۔ !
اندر کا نظّارہ ھمارے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لئے کافی تھا ۔
کمرے میں ایک لالٹین کی ھلکی سی روشنی میں ھم نے دیکھا ، جگہ جگہ سے اکھڑے ھوئے فرش پر دلشاد ایک حقیر کیڑے کی طرح پڑا ھوا تھا ۔ اس کے بدن پر کپڑا نام کی کوئی چیز بھی موجود نہیں تھی ۔ وہ اس وقت سسکیاں لے کر رو رھا تھا ۔ اس کے بدن کے مختلف حصّوں سے خون بھی بہ رھا تھا ۔ ایک طرف غلاظت بھی پڑی ھوئی تھی، لیکن زیادہ تکلیف دہ امر یہ تھا، کہ دلشاد کا جسم بھی انسانی غلاظت میں لتھڑا ھوا تھا ۔ وہ بیچارہ بندھا ھوا تھا، اور اس حالت میں وہ اور کیا کر سکتا تھا ۔ قارئین دلشاد کی حالت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ھیں ۔
یہ سارا منظر دیکھ کر ھم تینوں کی حالت ایک سی ھو گئی ۔ ھمیں ایسے لگ رھا تھا، کہ اس وقت اگر چوھدری وغیرہ میں سے کوئی موجود ھوتا، تو ھم نتائج سے بے پروا ھو کر شائد ان سے بھی بھڑ جاتے ۔ میری رگوں میں خون کی گردش انتہائی تیز ھو چکی تھی اور میری آنکھیں بھی غصّے کی شدّت سے سرخ ھو چکی تھیں ۔ یہی حالت اکرم اور فیضو وغیرہ کی بھی تھی ۔
ھم تینوں دوست ایک دوسرے کے لئے ایسے ھی تھے ۔
دلشاد کی ایک درد بھری آہ نے ھمیں جیسے ھوش کی دنیا میں لا پھینکا تھا ۔ ھم ایک ساتھ آگے بڑھے تھے ۔ میں نے بجلی کی سی سرعت سے دلشاد کا سر گود میں رکھ کر اکرم کو اشارہ کیا ۔ اس نے خنجر نکال کر دلشاد کے ھاتھ پاؤں کی بندشیں کھول دیں ۔ یہ خنجر اکرم نے احتیاطی طور پر ساتھ رکھ لیا تھا ۔ اب وھی خنجر کام بھی آ رھا تھا ۔ ایک طرف ایک برتن میں کچھ پانی پڑا تھا ۔ فیضو نے اور اکرم نے مل کر دلشاد کے جسم سے گندگی دھو دی تھی ۔
دلشاد شائد نیم بے ھوش تھا، کیونکہ اس نے ھمیں دیکھنے کے باوجود بھی ابھی تک ھم سے کوئی بات نہیں کی تھی، بلکہ اس کی آنکھیں بار بار بند ھو رھی تھیں ۔ ایک دو بار میں نے اسے آواز دی، لیکن اکرم نے مجھے اشارہ کیا۔ میں سمجھ گیا، کہ ابھی دلشاد کو یہاں لٹا کر آواز دینے کی بجائے یہاں سے نکلنا زیادہ ضروری تھا ۔ ھم اس وقت شدید ترین خطرے والی جگہ پر بیٹھے تھے ۔ اگر ڈانگر یا چوھدری کا کوئی اور کارندہ اس طرف آ نکلتا، تو ھم تینوں کا پھنس جانا یقینی تھا ۔ ھمارے پاس نہ تو کوئی اسلحہ تھا، اور نہ ھی ھم اس طرح کے کسی بھی معرکے کے لئے ذھنی طور پر تیّار ھو کر آئے تھے ۔ ویسے بھی ھم کوئی مشّاق قسم کے لڑاکا کمانڈو انسان ھر گز نہیں تھے ۔ ھمارا مقصد صرف اور صرف جاسوسی کر کے دلشاد تک پہنچنا تھا، اور اسے آزاد کروانا تھا، جس میں ھم تقریباْ کامیاب ھو چکے تھے ۔ اب صرف وھاں سے نکلنے کا کام باقی رہ گیا تھا ۔
فیضو نے دلشاد کی کمر کے گرد ایک کپڑا ڈھانپ دیا، جو کہ اس کے کاندھے پر رکھّا ھوا تھا ۔ گاؤں کے اکثر لوگوں کی عادت ھوا کرتی ھے، کہ کاندھے پر کپڑا ضرور رکھتے ھیں ۔
ابھی ھم وھاں سے نکلنے کا سوچ ھی رھے تھے، کہ میرے ذھن میں ایک بات آئی ۔
فیکا کہاں تھا ؟
میں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے فیکے کو بھی ایک گوشے سے تلاش کر لیا تھا ۔ وہ زخمی حالت میں تھا، لیکن ھوش میں تھا اور ایک طرف پڑا ھوا تھا ۔ اگرچہ اس کی حالت دلشاد سے کم ابتر تھی، لیکن تشدّد کے نشانات اس کے جسم پر بھی موجود تھے ۔ ھم نے اسے بھی وھاں سے نکال لیا ۔
اس کے بعد ھم وھاں سے نکل آئے ۔ ھم نے دلشاد کو گاؤں لے کر جانے کی بجائے ایک اور جگہ کا رخ کیا تھا ۔ دلشاد نے نیم بے ھوشی کی حالت میں ھم سے ایک دو باتیں کی تھیں، اور اسی کی ھدائت پر ھم نے یہ اقدام اٹھایا تھا ۔
ھمارے خیال میں ابھی اسے گاؤں لے کر جانا کسی طور بھی خطرے سے خالی نہیں تھا ۔
گاؤں میں اگلی صبح بڑی پر اسرار ثابت ھوئی تھی ۔
چوھدری تو اس وقت گاؤں میں موجود نہیں تھا، لیکن ڈانگر چوھدری کی چوپال پر بیٹھا ھوا تھا اور اس نے حویلی کے سارے ملازمین کو اپنے آگے لگا رکھّا ھوا تھا ۔ اس کے چہرے سے عیاں تھا، کہ اس وقت وہ اندر ھی اندر کسی بات پر پیچ و تاب کھا رھا تھا ۔ اس کے چہرے کی رگیں تنی ھوئی تھیں، اور آنکھیں جیسے شعلے برسا رھی تھیں ۔
اکرم اور فیضو اس وقت اس کے سامنے سے گزر رھے تھے، جب وہ اپنے ماتحتوں پر کسی وجہ سے برس رھا تھا ۔ چوھدری کے بعد حویلی کے تمام ملازمین پر اسی کا حکم چلتا تھا، اور جب چوھدری موجود نہیں ھوتا تھا، تو اس وقت ڈانگر ھی تمام ملازمین کا مطلق العنان بادشاہ ھوتا تھا ۔ اکرم اور فیضو جانتے تھے، کہ ڈانگر کے چڑچڑے پن کی اصل وجہ کیا ھے ۔ وہ دونوں ڈانگر کی حالت دیکھنے کے لئے ھی وھاں سے گزرے تھے ۔
رات کے وقت ، بارش کے رکنے کے بعد ، ڈانگر کسی پہر دوبارہ اسی جگہ پر گیا تھا، جہاں دلشاد قید تھا ۔ شائد اس کی چھٹی حس نے اسے خبر دار کر دیا تھا، یا اس نے رانگ نمبر کے بارے میں تحقیق کی تھی، جس کے نتیجے میں اس کے دل میں کوئی شک گزرا تھا ۔ اور جب وہ وہاں پہنچا تھا، تو وھاں نہ صرف دلشاد غائب تھا، بلکہ فیکا بھی موجود نہیں تھا ۔ یہ دیکھ کر اس کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی تھی ۔ اس کی آنکھوں کے سامنے چوھدری کا درندہ صفت چہرہ اور اس کی شخصیّت کے بے رحم پہلو لہرانے لگے ۔ آج تک اس نے چوھدری کو شکار مہیّا کئے تھے، اور اب وہ خود ھی چوھدری کے ظلم کا شکار ھونے والا تھا ۔
ڈانگر نے صبح سے کئی لوگوں سے معلوم کیا تھا، لیکن اسے کسی سے بھی اس رانگ نمبر کے بارے میں معلوم نہ ھو سکا تھا ۔ اس نے کئی دفعہ کال بھی کی، لیکن ھر دفعہ وہ نمبر بند ھی مل رھا تھا ۔ اس کے اندر کا اضطراب بڑھتا ھی جا رھا تھا اور نتیجتاْ اس نے سارے ملازموں کا بھرکس نکال کر رکھ دیا تھا ۔ چند ایک پر تو اس نے باقاعدہ ھاتھ بھی اٹھا ڈالا تھا ۔ سب اس کے اس بدلتے رویّے پر حیران تھے ۔ اور ڈانگر اندر ھی اندر اس بات سے خوفزدہ تھا، کہ نہ جانے چوھدری اس کے ساتھ اب کیا سلوک کرے ۔ پورے گاؤں میں دھشت کی علامت سمجھا جانے والا اب خود دھشت زدہ ھو چکا تھا ۔

0 Comments