اس کے تن بدن میں آگ لگ رھی تھی ۔
اور وہ رہ نہ سکا۔
دلشاد، جو شروع دن سے ھی گاؤں کا بزدل نمبر ون تھا، اسی بزدل نمبر ون نے جرّاٴت کرتے ھوئے آگے بڑھ کر عارفہ کا راستہ روک لیا تھا ۔ نہ جانے کیسے اس میں آج اتنی ھمّت آ گئی تھی، کہ وہ ھر خطرے سے عاری ھو گیا تھا ۔ آج اس نے آخری بار عارفہ سے بات کرنا تھی، تو پھر بات بھی کھل کر ھی ھونا چاھئے تھی ۔عارفہ اس کی اس ھمّت پر حیران رہ گئی ۔ اس نے قہر آلود نظروں سے دلشاد کو دیکھا، جو نم آنکھوں سے اسی کو دیکھ رھا تھا ۔ عارفہ نے لہجے میں سختی پیدا کرتے ھوئے اسے راستے سے ھٹنے کو کہا۔ لیکن دلشاد نے کہا، کہ وہ صرف ایک بار اس کی بات سن لے، وہ اس کا راستہ چھوڑ دے گا ۔ عارفہ نے اسے دھکّا دے کر ایک طرف ھٹانا چاھا، تو اس نے اس کا ھاتھ پکڑ لیا ۔
عارفہ اب تو سٹپٹا گئی۔ شکیلہ ایک طرف حیرانی سے کھڑی تھی ۔ اب اس نے مداخلت ضروری سمجھی، اور دلشاد سے بات کرتے ھوئے اسے دھمکی دی، کہ اگر وہ راستے سے نہ ھٹا، تو اس کے لئے اچھّا نہیں ھو گا۔ جواب میں دلشاد نے اپنی بات دھرائی، کہ عارفہ کو ایک بار اس کی بات سننی ھی پڑے گی ۔عارفہ کے چہرے پر سختی ھی سختی نظر آ رھی تھی، اور اس کے ھونٹوں پر لرزہ طاری تھا۔ جیسے وہ بہت مشکل سے اس ساری کیفیّت کو برداشت کر رھی ھو ۔ آخر اس نے دلشاد کو اوپر نیچے دو تھپّڑ رسید کر دئے، لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئی، کہ کل اس کا ایک ھی تھپّڑ کھا کر زمین میں گڑ جانے والا دلشاد آج دو تھپّڑوں کے باوجود بھی اس کے راستے سے ھٹنے کو تیّار نظر نہیں آ رھا تھا ۔ اس نے دیکھا، دلشاد کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، اور وہ اب بھی التجا آمیز لہجے میں ایک ھی بات دھرا رھا تھا ۔
" جتنے تھپّڑ چاھو مار لو عارفہ، لیکن خدا کے لئے، ایک بار ، صرف ایک بار، میری بات سن لو ۔ پلیز۔ "
اس کے لہجے میں بلاٴ کا درد شامل تھا۔ اب تو عارفہ اور شکیلہ، دونوں ھی تڑپ گئی تھیں ۔ دلشاد کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔
عارفہ کے دل میں ایک طوفانی کش مکش چل رھی تھی ۔ اس کے لئے اپنے اندرونی اضطراب پر قابو پانا مشکل ھو رھا تھا ۔ آخر اس نے چہرہ دوسری جانب موڑ لیا، اور بولی ۔
" اچھّا، کہو، کیا کہنا چاھتے ھو ؟ " اس کے لہجے کی درشتی محسوس کر کے دلشاد پھیکے اندز میں مسکرایا۔ کبھی وہ بھی وقت تھا، کہ اس آواز میں دلشاد کے لئے صرف اور صرف مٹھاس ھوا کرتی تھی ۔ اور آج ۔۔ ؟
لیکن اس کے لئے یہ بھی بڑی بات تھی، کہ عارفہ اس کی بات سننے کو نیم رضا مند نظر آ رھی تھی ۔
اس نے اپنی ھتھیلی کی پشت سے اپنے آنسو صاف کئے، اور عارفہ کے سامنے آنا چاھا، لیکن عارفہ نے اسے جھڑک کر کہا، کہ جو بھی کہنا ھے، وھیں سے کہو۔ سامنے آنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے ۔ دلشاد سمجھ گیا، کہ عارفہ اس کے چہرے سے بھی نفرت کرنے لگی ھے۔ وہ پھر سے اس کی پشت کی طرف آ کر کھڑا ھو گیا ۔ اسے سمجھ نہیں آ رھی تھی، کہ کہاں سے بات شروع کرے ۔ بہت سی باتیں تھیں، جو آج تک اس کے گلے میں اٹک رھی تھیں، اور جب عارفہ سامنے کھڑی اس کی بات سننے کو تیّار نظر آ رھی تھی، تو اسے الفاظ ھی نہیں سوجھ رھے تھے ۔ آخر اس نے اپنے حوصلے جمع کرتے ھوئے اپنی بات کا آغاز کیا ۔
" میں مانتا ھوں عارفہ، کہ میں نے تم سے بے وفائی کی، اور ۔ ۔ ۔ ۔ " ابھی وہ اتنا ھی کہ پایا تھا، کہ عارفہ نے اس کی بات کاٹ دی ۔
" فلمی ڈائیلاگ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے ۔ میں یہ سب سننا نہیں چاھتی، اور ویسے بھی یہ باتیں اب میں بھلا چکی ھوں ۔ کوئی نئی بات کرنی ھے تو کرو ۔ "
دلشاد اپنا دل مسوس کر رہ گیا ۔ لیکن اس نے ھمّت نہیں ھاری۔ اور نئے سرے سے بات کا آغاز کیا ۔
" عارفہ ، میں جانتا ھوں ، کہ تم کو میری آواز سے بھی نفرت ھے، لیکن "
عارفہ نے پھر سے اس کی بات کاٹنی چاھی، لیکن اب دلشاد چیخ پڑا۔
" پلیز عارفہ ، مجھے بولنے دو، پلیز۔ "
اور عارفہ کے ساتھ ساتھ شکیلہ بھی کانپ گئی ۔ دلشاد نے اب لہجے کو دھیما کیا، اور دوبارہ سے بولا ۔
" میں جو کچھ کہنا چاھتا ھوں، مجھے کہنے دو ۔ خدا کے لئے مجھے کہنے دو ۔ بہت تڑپا ھوں میں آج تک اس آج کے دن کے لئے ۔ بہت درد برداشت کر لیا ھے میں نے ۔ اب اور نہیں سہ سکتا ۔ ناں ، اب اور نہیں ،۔ بہت سی باتیں ھیں میرے اندر جو نشتر کی طرح اندر ھی اندر مجھے چبھتی رھتی ھیں ۔ اب انہیں مزید اپنے اندر نہیں رکھ سکتا میں ۔ مجھے کہنے دو پلیز۔ "
عارفہ نے کہا، " بولو، اب میں تمھیں نہیں ٹوکوں گی، لیکن بات جلد ختم کرنا ۔ "
دلشاد نے اسے دیکھا، جیسے اس کا شکریہ ادا کرنا چاھتا ھو ۔ اس نے اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ صاف کیا، اور بولا ۔
" عارفہ، میں آج صرف اس لئے سامنے آیا ھوں، کہ میں اپنے احساس جرم کے ساتھ اب زندہ نہیں رہ سکتا ۔ میں تم سے معافی مانگنا چاھتا ھوں عارفہ ، خدا کو حاضر ناظر جان کر میں تم سے معافی مانگنا چاھتا ھوں، اور یہ معافی میں اس دن بھی مانگنا چاھتا تھا، جب تم چھے مہینے پہلے اسی کھیت میں مجھے مل کر مجھے سنے بغیر ھی چلی گئی تھیں۔ تم نہیں جانتیں، ان دنوں میں، میں اپنے احساس جرم کی وجہ سے کتنا تڑپا ھوں ۔ میرے لئے ایک ایک دن گزارنا قیامت بن گیا ھے عارفہ ۔ ،میں تمھارا مجرم ھوں، میں تمھاری زندگی سے کھیلا، اس کے لئے میں نے تم سے معافی مانگنا تھی، خدا کے لئے مجھے معاف کر دو میری جان ۔ مجھے معاف کر دو ۔ "
آخری بات کہتے کہتے دلشاد رو پڑا۔ وہ بے خودی میں چل کر اس کے سامنے آ چکا تھا ۔وہ بے قابو ھو کر آگے کو جھک گیا تھا، اور اس نے اپنے دونوں ھاتھ اس کے سامنےجوڑ دئے تھے ۔ شکیلہ کبھی اس کی طرف دیکھ رھی تھی، تو کبھی عارفہ کی طرف ۔شکیلہ نے اسے پیچھے ھٹنے کا اشارہ کیا، تو وہ چاروناچار پیچھے کو ھٹ گئی۔ شکیلہ نے دلشاد کو مخاطب کیا، اور نخوت سے بولی ۔
" اگر تمھارا ڈرامہ، اور لیکچر ختم ھو گئے ھوں، تو ھم جا سکتی ھیں؟ "
دلشاد کے دل پر آرا چل گیا۔ اس نے سر اٹھّا کر دیکھا، تو عارفہ کی بجائے اس کے سامنے شکیلہ کھڑی تھی، اور عارفہ ایک طرف ھٹ چکی تھی ۔ دلشاد کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا، اور اس کی حالت دیکھ کر اس کے اندر کی کیفیّت کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔ اس لمحے اسے شکیلہ کے لہجے پر بے پناہ غصّہ آیا، لیکن وہ ضبط سے کام لیتے ھوئے غصّہ پی گیا، اور نرمی سے بولا۔
" میں نہ تو کوئی ڈرامہ کر رھا ھوں، اور نہ ھی لیکچر دینا چاھتاھوں ۔
شکیلہ نے اس کی طرف طنزیہ نظروں سے دیکھا، اور بولی ، " اچھّا، یہ لیکچر نہیں ھے ۔ تو پھر اور کیا ھے یہ سب " ڈرامے کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ھے ۔ سمجھے ؟ تم نے کہا تھا، کہ میری بات سننی پڑے گی ، سو ھم نے سن لی ۔ اب اور کوئی مطالبہ مت کرنا، کیونکہ اب ھم جا رھی ھیں ۔ چلو عارفہ ۔ "
اس کے ساتھ ھی شکیلہ نے عارفہ کو پکڑ کر کھینچا۔ عارفہ کے قدم زمین میں پیوست ھو گئے تھے ۔ شکیلہ حیرانی سے اسے دیکھ رھی تھی ۔ دلشاد بے بسی سے شکیلہ کو دیکھنے لگا۔ جب اس نے دیکھا، کہ عارفہ نے ابھی تک کوئی جواب بھی نہیں دیا ھے، تو وہ یکدم شکیلہ کے سامنے آ گیا ۔
" ایک منٹ شکیلہ بی بی ۔ میں عارفہ کا جواب سنے بغیر تم دونوں کو جانے نہیں دوں گا ۔ " پھر اس نے اپنا چہرہ عارفہ کی طرف موڑا ۔ عارفہ ، جو اس کی محبّت بن گئی تھی ، جسے اس نے دل سے چاھنا شروع کر دیا تھا، اور جو اب اس سے نفرت کرتی تھی ۔
دلشاد کو محسوس ھوا، کہ عارفہ کے چہرے پر اس کے لئے ھمدردی کے آثار پیدا ھو رھے ھیں، تو اس نے عارفہ کا ھاتھ پکڑ لیا، اور جذبات سے بھر پور آواز میں بولا ۔ " عارفہ ، مجھے زیادہ باتیں تو نہیں آتیں، لیکن اتنا ضرور جانتا ھوں، کہ آج سے پہلے میں نے تمھیں جتنے دھوکے بھی دئے ھیں، میں ان سب کا ازالہ کرنا چاھتا ھوں ۔ بولو، کیا تم مجھے ایک موقع بھی نہیں دو گی ۔ بولو عارفہ، بولو، جواب دو۔ کیا تم مجھے ایک بار بھی اپنے گناھوں کا کفّارہ ادا کرنے کا موقع نہیں دو گی ؟ "
" کیا کفّارہ ادا کرو گے تم ؟ عارفہ کی زندگی تو تم نے برباد کر دی۔ اب کس طرح سے کفّارہ ادا کرو گے تم ؟ بولو، جواب دو، عارفہ کی زندگی میں زہر گھول کر کفّارہ ادا کرنا چاھتے ھو ۔ جانتے بھی ھو، تمھارے پانچ منٹ کے چسکے نے عارفہ کو ھمیشہ کے لئے داغدار کر دیا ھے ۔ اب یہ جس کی بھی بیوی بنے گی، وہ پہلی ھی رات میں سمجھ جائے گا ۔ اب یہ بیچاری تو برباد ھو گئی ناں، اور تم کفّارہ ادا کرنے چلے ھو ؟ کیسے ادا کرو گے کفّارہ ؟ بولو، "
شکیلہ اس کے سامنے کھڑی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اس سے پوچھ رھی تھی ۔ دلشاد نے اس کی بات سن کر چند لمحے اس کی طرف دیکھا، پھر عارفہ کو دیکھتے ھوئے بولا ۔ "میں کروں گا اس سے شادی ۔ ھاں ، میں ۔ پھر تو اس کا ڈر ختم ھو جائے گا ناں ۔ "
عارفہ نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ دلشاد آنسوؤں سے تر آنکھوں سے اسی کو دیکھ رھا تھا ۔ عارفہ نے ایک بار دلشاد کی نگاھوں میں دیکھا، تو اس کی نگاھیں واپسی کا راستہ ھی بھول گئیں ۔ وہ دلشاد کی نگاھوں میں جیسے کھو سی گئی ۔
دلشاد اور عارفہ کی نگاھیں باھم پیوست ھو چکی تھیں، نہ تو دلشاد پلکیں جھپکا رھا تھا، اور عارفہ، ، ، ، عارفہ تو جیسے پلکیں جھپکانا بھول ھی گئی تھی ۔ دلشاد کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو جیسے اثر کر رھے تھے۔ شکیلہ نے جب دیکھا، کہ عارفہ اپنا ضبط کھو رھی ھے، اور دلشاد کی میٹھی باتیں اسے گھیر چکی ھیں، تو اس نے دلشاد کو مخاطب کر کے نیا شوشہ چھوڑا ۔
" اور وہ شہزادی ؟ اس کے بارے میں کیا کہو گے تم ؟ " اسے امیّد تھی ، کہ اس بات سے عارفہ کے بے قابو ھوتے دل اور دماغ فوراْ واپس آ جائیں گے ۔ لیکن دلشاد نے عارفہ کی قسم کھا کر کہا، کہ اب اس کا شہزادی سے کوئی تعلّق باقی نہیں رھا ۔ یقین نہیں آتا، تو خود شہزادی سے پوچھ لیا جائے ۔ "
دلشاد جب عارفہ کی قسم کھا رھا تھا ، تو عارفہ تڑپ گئی ۔ شکیلہ نے فوراْ عارفہ کو بازو سے پکڑ کر کھینچا، اور ایک طرف لے گئی ۔ عارفہ اب بھی اس کی پشت پر موجود دلشاد کی طرف ھی دیکھے جا رھی تھی ۔
دلشاد ان دونوں کو ایک طرف کھڑے دیکھتا رھا ۔ اس سے رھا نہیں جا رھا تھا، کہ وہ عارفہ کے قدموں میں گر کر بھی اس سے معافی مانگ لے ۔ آج وہ ھر قیمت پر عارفہ سے معافی کی سند لینا چاھتا تھا۔
دوسری طرف شکیلہ نہ جانے عارفہ کو کیا سبق پڑھا رھی تھی ، اور جب عارفہ واپس آئی، تو اس کا چہرہ تاٴثّرات سے یکسر عاری ھو چکا تھا ۔ دلشاد نے اس کو دیکھا، اور اس کی امّیدیں دم توڑ گئیں ۔ شکیلہ نے دلشاد کی ساری باتوں کا اثر ایک منٹ میں ختم کر دیا تھا ۔
عارفہ جب واپس آئی، تو اس نے دلشاد کی ساری باتوں کو جذباتی بلیک میلنگ قرار دے ڈالا ۔ دلشاد اس کی یہ بات سن کر تڑپ گیا ۔ آخر وہ رہ نہ سکا۔
وہ عارفہ کے قدموں میں گر گیا ۔ اس نے عارفہ کے پیروں پر اپنے ھاتھ رکھ دئے ، اور روتے ھوئے اس سے معافی مانگنے لگا۔ عارفہ ایک دم سے پیچھے ھٹ گئی ۔ اسے اپنی نگاھوں پر یقین نہیں آ رھا تھا ۔
شکیلہ بھی دم بخود کھڑی تھی ۔ جب اس نے دیکھا، کہ دلشاد کے اس انداز سے عارفہ پھر متزلزل ھو رھی تھی،تو اس نے عارفہ کو پکڑا ، اور واپس چل پڑی ۔ عارفہ کا بس نہیں چل رھا تھا، کہ وہ بھاگ کر جائے، اور دلشاد کو اٹھا کر سینے سے لگا لے ۔ دلشاد نے بھی آج دیکھ لیا تھا ، کہ عارفہ کے اندر آج بھی اس کی محبّت موجود ھے، اسے صرف ایک چنگاری دکھانے کی ضرورت تھی، اور وہ شعلہ بن کر بھڑک اٹھتی ۔ پھر ایک شکیلہ تو کیا، سارا زمانہ بھی مل کر نہیں بجھا سکتا تھا ۔

0 Comments