Ashiq Awara urdu romantic novel episode 15 عاشق آوارہ


سارا گاؤں ڈانگر کی بگڑی ھوئی حالت پر بحث کر رھا تھا ۔ ھمارے گاؤں کے بے روزگار نوجوانوں کے پاس اس طرح کی باتوں پر سر کھپانے کے لئے وقت ھی وقت ھوتا ھے ۔ آج بھی یہی ھو رھا تھا۔ کچھ ڈانگر کے اس رویّے پر اسے پاگل قرار دے رھے تھے، تو کچھ اسے صحیح قرار دے رھے تھے، کہ چوھدری کی غیر موجودگی میں اسے کپتانی کا کردار ادا کرنا ھی تھا ۔ اصل بات سے سب لا علم تھے ۔ میں چند منٹ تک ان کی باتوں سے محظوظ ھوتا رھا، پھر میں دلشاد سے ملنے نکل کھڑا ھوا ۔

راستے میں مجھے اکرم بھی مل گیا ۔ وہ ایک جگہ پر بیٹھا میرا ھی انتظار کر رھا تھا ۔ فیضو سب سے پہلے ھی دلشاد کے پاس پہنچا ھوا تھا ۔ جب ھم بھی دلشاد کے پاس پہنچ گئے، تو دلشاد کے اصرار پر اور باھمی مشورے سے فیضو کو ھم نے دلشاد کے باپ کو لینے کے لئے بھیج دیا تھا ۔ یہ فیصلہ بھی ھم نے سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ مجھ سے دلشاد کے باپ کی حالت دیکھی نہیں جاتی تھی ۔ اگر ھم دوست ھونے کے ناطے اس سے مل رھے تھے، تو وہ تو اس کا باپ تھا ۔ آزاد ھونے کے بعد دلشاد کا باپ سے ملنا اس کا حق تھا، اور فرض بھی تھا ۔ اسی بناٴ پر ھم نے فیضو کو بھیجا تھا، تا کہ وہ دلشاد کے باپ کو کسی بھی بہانے سے وھاں تک بے آئے ۔ ھمیں معلوم نہیں تھا، کہ ھمارا یہ فیصلہ سنگین ثابت ھو گا ۔

سب سے پہلے ھم نے فیکے کی خبر لی ۔ اسے ھم نے ایک علیحدہ کمرے میں باندھ کر رکھّا تھا ۔ اس بے غیرت انسان کی وجہ سے دلشاد چوھدری کے چنگل میں پھنسا تھا ۔ اسے کچھ نہ کچھ سزا تو بہر حال ملنی ھی چاھئے تھی ۔ میں نے جاتے ھی اس پر لاتوں کی بارش کر دی ۔ رات کو بھی ھم جب اسے لائے تھے، تو اس کی اچھّی خاصی درگت بنائی تھی ، اور اب پھر وھی کام شروع ھو گیا تھا ۔ جب میں اس کام سے فارغ ھو چکا، تو اکرم شروع ھو گیا ۔ چند منٹ بعد ھم کمرے کو بند کر کے باھر آ گئے ۔ فیکا زمین پر پڑا تڑپ رھا تھا، لیکن اس کی سزا ابھی ختم نہیں ھوئی تھی ۔ ابھی اسے اور بھی تڑپنا تھا ۔

ھم وھاں پہنچے، تو دلشاد جاگ رھا تھا ۔ ایک ڈاکٹر دلشاد کو چیک کر کے جا چکا تھا ۔ اس ڈاکٹر کا انتظام بھی دلشاد کے اسی دوست نے ھی کیا تھا ۔ دو تین جگہوں پر پٹّی بھی بندھی ھوئی تھی ۔ وہ اس وقت شب۔ گزشتہ کے مقابلے میں بہت بہتر نظر آ رھا تھا ۔ ھم دونوں اس کی حالت دیکھ کر مطمئن سے ھو گئے، لیکن جلد ھی ھمارا اطمینان غارت ھو گیا ۔

دلشاد نے ھمیں دیکھتے ھی گاؤں جانے کی ضد شروع کر دی تھی ۔ میں اور اکرم اسے سمجھانے لگے، کہ ابھی حالات کا تقاضا یہی ھے، کہ وہ گاؤں کا خیال بھی دل سے نکال دے ۔ جب معاملہ کچھ ٹھنڈا ھو جائے گا، تو ھم خود اسے گاؤں لئے چلیں گے ۔ ھم دونوں دلیلیں دے دے کر تھک گئے، لیکن دلشاد اپنی ھی بات پر اڑا رھا، کہ اسے گاؤں جانا ھے ۔ میں حیران تھا، کہ دلشاد بھی عجیب ھے ۔ ابھی ابھی تو یہ چوھدی کی قید سے نکل کر آیا ھے، اور دوبارہ سے وھیں جانا چاھتا ھے جہاں اس کی زندگی کو خطرہ ھے ۔ وہ ھماری ھر بات کے جواب میں صرف یہی کہتا، کہ اسے گاؤں میں چند بے حد اھم کام ھیں ۔ ھمارے لاکھ پوچھنے پر بھی اس نے ھمیں کچھ نہیں بتایا تھا، کہ وہ انتہائی ضروری کام کس نوعیت کے ھیں، اور جب میں نے اسے یہ کہا، کہ ھم وہ کام کر سکتے ھیں، تو اس نے یکسر نفی میں سر ھلا دیا ۔ اس کے مطابق کام ایسے تھے، کہ وہ خود ھی کر سکتا تھا، اور کرنا بھی خود ھی چاھتا تھا ۔ ھم اس کی بے سر و پا باتوں سے عاجز آ گئے ۔

آخر میں اور اکرم مشورہ کرنے کی نیّت سے باھر نکل آئے ۔ ھماری سمجھ میں نہیں آ رھا تھا، کہ دلشاد کو کیسے سمجھائیں ۔

آخر اکرم نے دلشاد کے حق میں رائے دے دی ۔ وہ بھی اب دلشاد کے گاؤں جانے پر رضا مند نظر آ رھا تھا ۔

میں نے اپنا سر پیٹ لیا ۔

جب میں نے اسے خطرے کا حوالہ دیا، تو اس نے کہا ۔

" آخر ایسا کون سا جرم کیا ھے اس نے، جو تم ھمیں اتنا ڈرا رھے ھو ؟ "

میں : اس نے کون سا جرم کیا ھے، اور وہ جرم کتنا بڑا ھے، تم اس بات سے اچھّی طرح واقف ھو اکرم ۔

میں نے طنز کرتے ھوئے اسے گویا یاد دلایا تھا، لیکن اس نے میری بات کے جواب میں ایک مضبوط دلیل پیش کر دی ۔

" میں جانتا ھوں فیروز، کہ اس نے کیا کیا ھے، لیکن یہ بات چوھدری شر۔ عام کبھی بھی نہیں بتا سکتا ۔ کسی کو بھی نہیں بتا سکتا ۔ ھم اس بات کو چھپا لیتے ھیں، کہ دلشاد کس کے قبضے میں تھا، اور پھر دیکھنا، کہ چوھدری نہ تو س پر ھاتھ ڈال سکے گا، اور نہ جی سکے گا ۔ دلشاد اس کے سامنے ھو گا اور وہ اس کا  کچھ بھی  نہیں  

اکھاڑ

سکے گا ۔ گاؤں والےاگر پوچھیں گے ، تو کوئی بھی داستان جو دلشاد کے باپ کو مطمئن کرنے کے لئے سنائیں گے، وھی گاؤں والوں کو بھی سنا دیں گے ۔


میں نے جواباْ کہا، کہ چوھدری اگر دلشاد کو ایک بار غائب کروا سکتا ھے، تو دوسری بار بھی کروا سکتا ھے ۔ لیکن اب بھی اکرم کے پاس ایک ٹھوس دلیل موجود تھی ۔ اس نے کہا، کہ پہلے دلشاد اس لئے شکار ھو گیا تھا، کہ اس کے ساتھ ھم میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔ اب جب ھم ساتھ ھوں گے، تو چوھدری اس پر اتنی بھی آسانی سے ھاتھ نہیں ڈال سکے گا ۔


ویسے اس کی بات مجھے دل کو لگتی ھوئی محسوس ھو رھی تھی ۔ کچھ بھی تھا، لییکن ایک بات تو بہر حال طے تھی ، کہ چوھدری اپنی بیٹی کے عشق کی تشہیر ھر گز ھر گز پسند نہ کرتا ۔ اسی بناٴ ’پر یقین تھا،کہ چوھدری دلشاد کو شر۔ عام کچھ نہیں کہ سکتا تھا، اور اگر وہ ایسی کوئی غلطی کر بیٹھتا، تو اس کی اپنی ھی عزّت اچھلتی ۔

اگرچہ اکرم کی بات میں وزن تھا، لیکن میں اس کی بات سے بہر حال متّفق نہیں تھا ۔اس بات میں خطرہ بھی تھا ۔ میں کوئی اور راستہ سوچنے کی کوشش ر رھا تھا ۔ لیکن کوئی اور راستہ موجود ھی نہیں تھا ۔ کم از کم اس وقت تو ھمیں سجھائی نہیں دے رھا تھا ۔


ابھی ھم اس بات پر بحث ھی کر رھے تھے، جب اکرم نے ایک طرف اشارہ کیا ۔ میں نے اکرم کے ھاتھ کے رخ پر دیکھا ۔ فیضو اور دلشاد کا باپ موٹر سائیکل پر آ رھے تھے ۔


فیضو دلشاد کے باپ کو لے کر پہنچ چکا تھا ۔


دلشاد کے باپ نے اپنے جواں سال بیٹے کو اس حال میں دیکھا، تو وہ تڑپ کر رہ گیا ۔ ایک طرف اسے بیٹا ملنے کی خوشی تھی، تو دوسری طرف بیٹے کو اس طرح زخمی دیکھ کر اس کے بوڑھے چہرے پر دکھ کے سیاہ بادل امڈ آئے تھے ۔ آنکھوں میں آئے ھوئے پانی کو روکنے کی کشش کئے بغیر وہ اپنے بیٹے سے لپٹ گیا ۔ دلشاد بھی اس وقت تک کافی بہتر ھو چکا تھا ۔ اگرچہ زخم کافی تھے، لیکن پھر بھی وہ رات والی حالت سے کئی درجے بہتر ھو چکا تھا ۔ وہ دونوں ایک دوسرے سے لگ کر خوب روئے ۔ ھم نے بھی کسی کو چپ کروانے کی کوشش بالکل نہیں


کی ۔ چند لمحوں بعد دونوں نے خود بخود ھی چپ کر جانا تھا ۔


دلشاد اور اس کا باپ ایک دوسرے سے مل کر رو رھے تھے، اور ھم ایک طرف بیٹھے اس جذباتی سین کو دیکھ رھے تھے ۔ میں دیکھ رھا تھا، کہ دلشاد کا باپ ان چند دنوں میں ایک دم سے بوڑھا نظر آنے لگا تھا۔ اس سے پہلے میں نے اسے کبھی اتنا غمزدہ نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ھمیشہ ھشّاش بشّاش نظر آنے والا انسان تھا جو ھمہ وقت کام کرتا رھتا اور اپنے ارد گرد موجود انسانوں سے بھی ھر وقت زندگی کی باتیں کیا کرتا تھا ۔ اسے ڈھلتی عمر تو اتنی آسانی سے شائد بوڑھا نہ کر پاتی، لیکن بیٹے کی چند دنوں کی گمشدگی سے اس پر ایک دم سے بڑھاپا اتر آیا تھا ۔ وہ کئی دنوں کا بیمار نظر آ رھا تھا ۔


جب ان دونوں کی ملاقات ختم ھوئی، اور وہ دونوں نارمل ھو گئے، تو ھم نے دلشاد کے باپ کو ایک طرف بٹھانا چاھا، لیکن وہ دلشاد کے سرھانے بیٹھ گیا ۔ اس نے دلشاد کا ھاتھ اپنے ھاتھ میں لے کر اپنی گود میں رکھ لیا تھا ۔ دلشاد بھی اپنے باپ کو ھی دیکھے جا رھا تھا ۔


دلشاد کے باپ نے چند ساعتوں کے بعد ھم سے سوال شروع کر دئے ۔ ھمیں معلوم تھا، اور ھم اس کے بارے میں پہلے سے ھی ایک ٹھوس لائحہٴ عمل بھی طے کر چکے تھے ۔


ھم نے دلشاد کے باپ کے سامنے ایک من گھڑت کہانی سنا دی ۔


دلشاد کا باپ حیران ضرور ھوا، لیکن ھم نے وہ کہانی اتنی خوب صورتی سے گھڑی تھی، کہ اس بیچارے انسان نے بالآخر اس کہانی پر یقین کر ھی لیا تھا ۔


جب دلشاد کے باپ کو وھاں آئے ھوئے چند منٹ گزر چکے تھے، اور وہ چائے وغیرہ پی چکا، تو وہ دلشاد کو گاؤں لے جانے پر بضد ھو گیا ۔ وہ اس بات پر بھی ھم سے خاصا ناراض ھوا، کہ ھم نے دلشاد کو گھر لے کر آنے کی بجائے دوسرے گاؤں میں رکھّا ۔ اور یہ کہ فیضو نے اسے گاؤں سے لاتے وقت بھی اسے کچھ نہیں بتایا تھا ۔ اگر اسے پتہ چل جاتا، تو وہ گاؤں میں اپنے بیٹے کے مل جانے کا اعلان کروا کے آتا ۔ اس طرح سارے گاؤں والوں کو پتہ چل جاتا، کہ دلشاد مل چکا ھے ۔


ھم تینوں ایک دوسرے کی طرف دیکھتے رہ گئے ۔


اس سے تو بہتر تھا، کہ دلشاد کے باپ کو خبر ھی نہ کی جاتی ۔ کم از کم اس امتحان سے تو بچ جاتے ۔ وہ بے چارہ نہیں جانتا تھا، کہ اس کی یہ ضد اس کے بیٹے کے لئے کتنی نقصان دہ ثابت ھو سکتی ھے ۔


یا پھر ھم یہ کرتے، کہ اس انسان کو ساری کہانی سچّ سچّ بتا دیتے ۔ کم از کم وہ دلشاد کو گھر لے کر جانے کی ضد تو نہ کرتا ۔ لیکن اب کیا ھو سکتا تھا ۔ اگر اب ھم اس کو دلشاد کے عشق کی داستان سنادیتے، تو امکان تھا، کہ وہ الٹا دلشاد کے ھی درپے ھو جاتا ۔ بیٹے کی گمشدگی کا بخار اتر چکا تھا، اور اب وہ پھر سے اپنی پرانی جون میں واپس آ چکا تھا ۔ دلشاد سے ملوانے سے پہلے ھم اگر دلشاد اور عارفہ کے عشق کی داستان دلشاد کے باپ کو سنا بھی دیتے، تو اس نے برداشت کر لینا تھی، کہ اس وقت اس کے لئے سب سے زیادہ غم دلشاد کی جدائی تھی ۔ لیکن اب ایسا کر کے ھم دلشاد کو اس کے باپ کے سامنے شرمندہ اور رسوا ھی کرتے ۔


دلشاد کو اس کا باپ گاؤں میں لے آیا ۔


ھم تینوں بھی اب مجبوراْ اس بات پر قائل ھو چکے تھے ۔ دلشاد کے باپ کے سامنے ھماری ایک نہیں چلی تھی ۔ ھم اس وقت کو کوس رھے تھے، جب ھم نے دلشاد کے باپ کی حالت پر ترس کھاتے ھوئے اسے دلشاد سے ملوانے کا فیصلہ کیا تھا ۔ ھمیں لگا، کہ دلشاد کے باپ پر رحم کھا کر ھم نے دلشاد کی زندگی پھر سے خطرے میں ڈال دی تھی ۔


ھمارا یہ اندازہ بعد میں سچّ ثابت ھوا تھا ۔


دلشاد گاؤں پہنچا، تو کچھ دن تو وہ خاموش رھا لیکن چوتھے دن اس کا صبر جواب دے گیا ۔اس نے عارفہ کے بارے میں پوچھ ھی لیا ۔ میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ مجھے ایسے لگا تھا، جیسے میرے کان بجے ھوں ۔ کیونکہ میرے اندازے کے مطابق اب اسے عارفہ سے ملنا تو دور، اس کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاھئے تھا، کہ اس لڑکی کی وجہ سے وہ موت کے منہ سے واپس آیا تھا، لیکن جب اس نے اپنا سوال دھرایا، تو میں اس کے سوال پر اس کا منہ تکنے لگا ۔


میں نے اس سے پوچھا، کہ وہ کیوں پوچھ رھا تھا، تو اس نے بہانہ گھڑا، کہ اس کی کچھ قیمتی چیزیں عارفہ کے پاس ھیں، اور وہ اس سے واپس منگوانا چاھتا ھے ۔ اگرچہ میں سمجھ گیا، کہ وہ مجھ سے کچھ چھپا رھا ھے، لیکن میں نے اسے اتنا ضرور بتا دیا، کہ عارفہ کو اس کے باپ نے ھمیشہ کے لئے گاؤں سے باھر بھیج دیا ھے، اور شکیلہ بھی گاؤں میں موجود نہیں ھے ۔ اسے مستقلاْ ، نہیں تو کم از کم عارضی طور پر اپنا ارادہ ضرور ملتوی کر دینا چاھئے ۔ میری اس بات سے اس کا چہرہ مرجھا گیا تھا ۔ میں دیکھ رھا تھا، کہ عارفہ کے ذکر پر اس کے چہرے پر ایک عجیب قسم کی سرخی دکھائی دینے لگتی تھی ۔ ایسی سرخی کسی لڑکی کے جسم کے متلاشی انسان کے چہرے پر کبھی بھی نظر نہیں آتی ۔


تو پھر دلشاد عارفہ کا کیوں پوچھ رھا تھا ؟


کیا اب بھی اس کے دل میں عارفہ کے لئے محبّت باقی تھی ؟


اگر ایسا ھی تھا، تو یہ بہت ھی غلط اور خطر ناک معاملہ تھا ۔ میں نے سوچ لیا، کہ اب دلشاد سے اس بارے میں فیصلہ کن بات ھو ھی جائے ۔ میں نے اکرم کو بھی اس گفتگو میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔


اسی دن اکرم کو ایک ضروری کام کے سلسلے میں فیصل آباد جانا پڑ گیا ۔ اس کی واپسی کچھ دن بعد ھونا تھی ۔


ھم دونوں دوست آج کل اکٹھّے ھی گھوم پھر رھے تھے ۔ فیضو بھی ھمارا ساتھ دیا کرتا ۔ ھم دونوں اندر سے انتہائی فکر مند تھے ۔ ھمیں انتظار تھا، کہ دلشاد پر اب کس طرح سے چوھدری کا وار ھوتا ھے ۔ دوسرے لفظوں میں ھم دلشاد پر ممکنہ حملے کے لئے ذھنی طور پر تیّار تھے ۔ لیکن ایک ھفتہ گزر جانے کے باوجود بھی کچھ نہیں ھوا تھا ۔ ھم تینوں اس بات پر حیران تھے ۔ آخر ھمیں وجہ پتہ چل گئی، کہ چوھدری اس وقت تک گاؤں میں آیا ھی نہیں تھا ۔


ڈانگر بھی کچھ دن پہلے کسی کام کے سلسلے میں کہیں چلا گیا تھا ۔ گویا عارضی طور پر مصیبت ٹل چکی تھی ۔


در اصل چوھدری آج کل بے حد مصروف ھو چکا تھا ۔ کچھ عرصے بعد الیکشن ھونے والے تھے، اور چوھدری اس مرتبہ خود الیکشن میں حصّہ لینا چاھتا تھا ۔ اس کے آباٴ و اجداد کی ایک عرصے سے علاقے کے سیاستدانوں سے گاڑھی چھنتی چلی آ رھی تھی، اور اس علاقے کے تمام ووٹ اسی کو ملتے تھے، جسے چوھدری کا گھرانہ منظوری کی سند عنائت کر دیا کرتا تھا ۔ اب چوھدری سوچ رھا تھا، کہ اتنے زیادہ ووٹ دے کر کسی اور کو جتوانے کی بجائے کیوں نہ خود ھی الیکشن لڑا جائے ۔ اسے کامل یقین تھا، کہ وہ ضرور الیکشن جیت جائے گا ۔ اسی سلسلے میں آج کل وہ شہروں میں گھوم پھر رھا تھا ۔ اسے کیا معلوم تھا، کہ الیکشن سے پہلے ھی اس کی زندگی میں ایک ناقابل۔ فراموش طوفان آنے والا تھا ۔


ھم دونوں اکثر اکٹھّے ھی رھتے تھے ۔ فیضو کبھی کبھی ھمارے ساتھ ھوتا تھا ۔


گاؤں والے دلشاد سے پوچھتے تھے، کہ اسے کس نے اغواٴ کیا تھا، تو وہ ان سب کو بھی فرضی اغواٴ کاروں کی کہانی سنا کر مطمئن کر دیتا تھا ۔ اس کے مطابق دلشاد کے اغواٴ کار اسے ایک رات ساتھ والے گاؤں کے قریب ھی ایک ویرانے میں پھینک گئے تھے، جہاں سے رمضان عرف رمضو نے اسے اٹھایا تھا ۔ ( رمضو ساتھ والے گاؤں کا لڑکا تھا ، جس کے گھر ھم نے دلشاد کو رکھّا تھا ۔ ) کوئی سن کر حیران ھوتا، تو کوئی یقین کرتے ھوئے کانوں کو ھاتھ لگانے لگتا ۔ کئی ایک ایسے بھی تھے، جو اس سے گہرے سوالات کرتے تو وہ ان سب کو یہ کہ کر چپ کرا دیتا، کہ اغواٴ کاروں نے پہلے دن سے لے کر آخر تک اس کے منہ اور آنکھوں پر پٹّی باندھے رکھّی تھی، جس وجہ سے وہ ان کو بالکل بھی نہیں پہنچانتا تھا ۔ یہ دلیل سب کو چپ کروا دیتی تھی ۔ ھم اس کی دلیلوں کو سن سن کر زیر۔ لب مسکراتے رھتے تھے ۔


ایک دن مجھے پتہ چلا، کہ رات کو ڈانگر گاؤں واپس آ چکا ھے ۔ میرے اندر خطرے کی گھنٹی بج اٹھّی تھی ۔ پچھلے ایک ھفتے کے دوران دلشاد کے فرار ھونے کے باوجود ڈانگر کی طرف سے کوئی سرگرمی نہ ھونا سمجھ میں نہیں آتی تھی ۔ میرے اندر کی قوّت مجھے سمجھا رھی تھی، کہ دشمن اس دفعہ چھپ کر دلشاد پر وار کرے گا ۔ اور اس دفعہ میں بھی ان کی زد پر ھو سکتا تھا ۔ ڈانگر کو اچھّی طرح معلوم ھو چکا تھا، کہ میرے شہر سے واپس آنے کے چند روز بعد ھی دلشاد فرار ھو گیا تھا، اور اب ھم اکثر اکٹھّے ھی گھومتے رھتے تھے ۔ ھو نہ ھو، اسے میری ذات پر شک ضرور ھو چکا تھا، کہ کہیں نہ کہیں دلشاد کے فرار میں میرا ھاتھ بھی ضرار موجود رھا ھو گا ۔ گویا اب مجھے بھی انتہائی احتیاط کی ضرورت تھی ۔ یہ سوچتے ھوئے میں نے اپنی پیشانی پر پسینے کے قطرے محسوس کئے جنہیں میں نے ھتھیلی سے صاف کر دیا ۔ حالات کسی وقت بھی خراب ھو سکتے تھے ۔ اب میں دلشاد سے عارفہ کے حوالے سے بات کرنے کے لئے اکرم کا انتظار نہیں کر سکتا تھا ۔ مجھے کچھ دنوں سے دلشاد کے اندر کسی خطر ناک منصوبے کے پلنے کا پکّا شک ھو چکا تھا ۔


میں دلشاد کو لے کر گاؤں سے باھر نکل آیا ۔ اس وقت ھم دونوں کے پاس ایک ایک خنجر موجود تھا ۔ اگرچہ ڈانگر کی طرف سے کوئی بھی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آ رھی تھی، اور چوھدری بھی ابھی شہر سے نہیں لوٹا تھا ۔ لیکن پھر بھی ھم احتیاط ضرور کر رھے تھے ۔


دلشاد ذرا سا لنگڑا کر چل رھا تھا ۔ یہ عارضی لنگ ابھی باقی تھا، ورنہ اس کے زخم اب کافی بہتر ھو چکے تھے، اور وہ کسی سہارے کے بغیر چلنے بھی لگ گیا تھا ۔


میں نے دلشاد سے عارفہ کے بارے میں اس کی موجودہ رائے جاننے کی کوشش کی، تو اس نے بات گول کر دی ۔ میں نے جب دوبارہ یہی بات شروع کی، تو اس نے کہا، کہ وہ فی الحال عارفہ کے بارے میں سوچ ھی نہیں رھا ھے ۔ میں نے جان بوجھ کر اس سے کہا، کہ وہ مجھ سے جھوٹ بول کر اپنے اندر کی کیفیّت چھپا نہیں سکتا ۔


میں نے اندازہ لگا کر یہ بات کہی تھی، جو حرف بہ حرف سچّ ثابت ھوئی ۔ دلشاد چند لمحے تو میری آنکھوں میں دیکھتا رھا، پھر ایک طرف منہ موڑ کر بولا ۔


" ھاں ۔ یہ سچّ ھے، کہ میں آج بھی عارفہ سے محبّت کرتا ھوں ۔ اس سے کہیں زیادہ جو میں اسے اس وقت کرتا تھا، جب مجھے چوھدری نے قید کر لیا تھا ۔ "


اس کے الفاظ تھے، یا کوئی وزنی پتھّر ۔ میں اس کے منہ سے عارفہ کے لئے محبّت بھرے الفاظ سن کر ششدر رہ گیا ۔ کیا اتنا تشدّد برداشت کرنے، اور موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے بعد بھی وہ اتنی بہادری کی بات کر سکتا ھے ؟


" تو کیا چوھدری کا خوف نہیں ھے تجھے ؟ "


" ھاں ھاں ، نہیں ھے ۔ نہیں ھے مجھے چوھدری کا خوف ۔ اور سن، تو بھی مجھے چوھدری سے ڈرانے کی کوشش نہ کر ۔ "


" لیکن دلشاد ۔ ۔ ۔ "


اس نے میری بات کاٹ دی اور بولا ۔


" لیکن ویکن کچھ نہیں فیروز ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ھے ، کہ اب میں ایک چوھدری سے تو کیا، اس کے سارے خاندان سے بھی خوفزدہ نہیں ھوں گا ۔ ان چند دنوں کی قید نے مجھے عارفہ کی محبّت کی مزید گہرائی میں اتار دیا ھے فیروز ۔ اب تو میں گوڈے گوڈے اس کے عشق میں ڈوب چکا ھوں ۔ اب میرا کچھ نہیں ھو سکتا فیروز۔ اب میں واپس آنا چاھوں تو بھی نہیں آ سکتا یار ۔ "


"


" چاھے اس راہ میں تیری موت ھو جائے ؟ "


" اوئے نہیں ھوتی میری موت اتنی آسانی سے ۔ ’تو اتنی ٹینشن مت لے میرے یار ۔ ’سن ، پہلے میں ڈرتا تھا، لیکن اب میں سمجھ گیا ھوں، کہ میں اتنی جلدی مرنے والا نہیں ھوں ۔ دیکھو فیروز ۔ اگر میں نے ابھی مرنا ھوتا، تو چوھدری اتنے دن تک مجھے زندہ کیوں رکھتا ؟ وہ پہلے دن ھی نہ مار دیتا مجھے ؟ وہ مجھے مار بھی سکتا تھا فیروز، لیکن نہ مار سکا ۔ جانتے ھو کیوں، اس لئے، کہ چوھدری کے ھاتھوں میری موت نہیں لکھّی ھے ۔ بلکہ میرے نصیب میں میری زندگی، میری عارفہ لکھّی ھوئی ھے فیروز ۔ میں اس لیے زندہ ھوں فیروز ، کہ میں نے اپنی عارفہ کو پانا ھے ۔ ھم نے ایک ھونا ھے اب ۔ اپنی ماضی کی غلطیوں کو ٹھیک کرنا ھے اب میں نے ۔ اور ھمیں اب ایک ھونے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔  

Post a Comment

0 Comments