Ashiq Awara urdu romantic novel episode 16 عاشق آوارہ

 




میں نے ایک نئے زاوئے سے اسے گھیرنے کی کوشش کی ۔


" لیکن جس کے بارے میں تو اتنے دعوے کر رھا ھے ، اور جس کی محبّت میں 

’تو موت سے بھی نہیں ڈر رھا ۔ وہ کیا سوچتی ھے ، کیا اس کا بھی پتہ ھے 

’تجھے ؟ "


" ھاں ھاں پتہ ھے ۔ وہ بھی اسی طرح سوچ رھی ھے، جیسے میں سوچ رھا ھوں ۔ "


" یوں خود سے ھی اندازے لگا کر خوش فہمی میں مت رہ دلشاد ۔ زندگی اندازوں پر نہیں، ٹھوس دلیلوں پر چلتی ھے ۔ تیرے پاس اس بات کی کیا دلیل ھے، کہ عارفہ بھی اسی طرح سوچتی ھو گی ؟ "


" ھاں، ھے دلیل میرے پاس ۔ اور وہ دلیل یہ ھے، کہ اگر عارفہ میرے حق میں نہ ھوتی ، تو چوھدری اسے زبر دستی گاؤں بدر نہ کرتا ۔ اوئے خود سوچ، کہ اگر اسے گاؤں سے نکالا گیا ھے، تو اسی وجہ سے ، کہ چوھدری اس کے عشق کے سامنے بے بس ھو گیا ھو گا ۔ اور اگر عارفہ میرے حق میں نہ ھوتی ، تو اب تک اس کی شادی بھی ھو چکی ھوتی ۔ "


پھر کچھ توقّف کے بعد وہ پھر بولا ۔


"اور اس کے عشق کا سب سے بڑا ثبوت تو میرے دل کی گواھی ھے فیروز ۔ میرا دل کہتا ھے ، کہ عارفہ میرے ساتھ ھے ، اور میرے ساتھ ھی رھے گی ۔ اور ھاں، عارفہ کو پانے کے لئے اب میں کسی بھی طوفان سے ٹکرا سکتا ھوں ۔ چاھے اس میں میری جان ھی کیوں چلی جائے ۔ لیکن اب میں عارفہ کو اپنے دل سے کسی صورت بھی نہیں نکال سکتا میرے دوست ۔ "


اس کے بعد وہ آھستہ آھستہ چلتے ھوئے میرے پاس آیا، اور میرے کندھے پر ھاتھ رکھتے ھوئے بولا ۔


" معاف کرنا دلشاد ۔ میں نے تم دونوں کو اپنے دل کی یہ بات اس وقت نہیں بتائی ۔ لیکن اگر میں اس وقت بتا دیتا ، تو تم لوگ مجھے گاؤں شائد آنے ھی نہ دیتے ۔ میں نے اپنے باپ کے ساتھ آنے کے لئے بھی اسی لئے رضا مندی دے دی تھی، کہ میں اپنے گاؤں آنا چاھتا تھا ۔ وہ گاؤں جہاں میری عارفہ رھتی ھے ، جہاں ھر طرف فضاؤں میں اس کی خوشبوئیں ھیں ۔ اگرچہ وہ یہاں نہیں ھے، لیکن میں پھر بھی اس کی خوشبو محسوس کر سکتا ھوں فیروز ۔ میں جانتا ھوں، کہ تم مجھے پاگل سمجھ رھے ھو گے، لیکن مجھے اس بات کا ذرا بھی افسوس نہیں ھے دوست ۔ بلکہ میں بھی تمھیں یہی بتانا چاھتا ھوں، کہ میں عارفہ کے عشق میں پاگل ھو چکا ھوں ۔ "


دلشاد بول رھا تھا، اور میں اس کے چہرے کی طرف دیکھ رھا تھا ۔ وہ اس وقت مجھے کوئی عام انسان نہیں لگ رھا تھا ۔ وہ اسی طرح اور بھی نہ جانے کیا کیا بولتا رھا، لیکن میں اب اس کی باتیں سننے کی بجائے اس کے انداز، اور اس کے چہرے میں کھو گیا تھا ۔ اب مجھے اس کے چہرے پر ھمیشہ نظر آنے والی اس مدھم سی سرخی کی سمجھ آ چکی تھی ۔ یہ سرخی در اصل عارفہ کی محبّت کا رنگ تھا ۔ اور جس میں میرا دوست پورا پورا رنگا جا چکا تھا ۔ اسے عارفہ کی محبّت کا رنگ چڑھ چکا تھا ۔ وہ محبّت، جس کا آغاز کسی طور بھی پاکیزہ نہیں تھا، لیکن اب دلشاد کے لئے وھی محبّت پاکیزگی کی آخری حدوں کو چھو رھی تھی ۔ اب وہ چوھدری اور اس کے ملازموں کے خوف سے بھی بے پروا ھو چکا تھا ۔ ایسے لگتا تھا، جیسے وہ سب کچھ بھول چکا ھے ۔ اسے اگر کچھ یاد تھا، تو صرف اور صرف عارفہ ۔


وہ میری طرف دیکھ رھا تھا ۔ اس کا ھاتھ ابھی تک میری کاندھے پر پڑا ھوا تھا ۔


خر میں نے اس کے ھاتھ پر ھاتھ رکھ دیا، کہ آخر کچھ بھی تھا، لیکن تھا تو وہ میرا بچپن کا

 دوست، اور دوست کا ساتھ تو 

مجھے دینا ہی تھا

۔ اس کی آنکھوں میں آنسو ’مجھے صاف نظر آ رھے تھے ۔

وہ بے ساختہ میرے گلے لگ گیا 

کچھ دیر بعد، اس نے مجھے بتایا، کہ اگلے چند دنوں میں وہ عارفہ کے پیچھے جانا چاھتا ھے ۔ میں حیرانی سے اسے دیکھنے لگا ۔ کیونکہ عارفہ کہاں تھی، اس بارے میں کسی کو بھی کچھ معلوم نہیں تھا۔ میرے اس سوال پر اس نے مسکرا کر کہا، کہ وہ جانتا ھے ، کہ عارفہ کہا ھو سکتی ھے ۔ اس حوالے سے اسے عارفہ حفظ ما تقدّم کے طور پر ماضی میں ھی بتا چکی تھی، کہ اس طرح کی صورت۔ حال میں اس کا باپ اسے کس کس شہر میں بھجوا سکتا ھے ۔ میں اس کی بات سن کر سکرا دیا، لیکن میں نے اس سے وعدہ لیا، کہ مجھے اور اکرم کو بتائے بغیر وہ ایسا کوئی کام ھر گز ھر گز نہیں کرے گا ۔ وہ وعدہ تو نہیں کرنا چاھتا تھا، لیکن میرے بار بار اصرار پر آخر اس نے وعدہ کر ھی لیا ۔

ایک دن میں گھر میں لیٹا ھوا تھا، 

’مجھے باس کی کال آئی ۔ ’


اسلام آباد سے مجھے ایمر جنسی اسلام آباد میں بلایا تھا ۔ دفتر کے پرانے حسب کتاب میں کوئی بڑی گڑ بڑ نکل آئی تھی، اور انہوں نے سارا سٹاف اسلام آباد آفس میں طلب کر لیا تھا ۔


’مجھے بھی جانا تھا ۔ اکرم سے رابطہ کر کے پوچھا، تو پتہ چلا، کہ وہ کل شام تک گاؤں پہنچ جائے گا ۔


میں نے کوشش کی ، کہ کل شام تک گاؤں رک سکوں، لیکن باس نہ مانا ۔ آخر مجھے اسی دن اسلام آباد کے لئے نکلنا پڑا ۔ جانے سے پہلے میں دلشاد کے گھر گیا ۔ وھاں جا کر میں نے دلشاد کو بھی ساتھ چلنے کے لئے کہا ۔ لیکن دلشاد نے بتایا، کہ اس کے باپ کی صحّت خراب ھے، اور وہ اسے اس حال میں چھوڑ کر ھر گز نہیں جا سکتا ۔ چار و ناچار میں نے فیضو اور دلشاد کو اپنے طور پر احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ۔ اب میرے بس میں نہیں تھا ورنہ تو میں دلشاد کو بھی اپنے ساتھ ھی اسلام آباد لے جاتا ۔


اسلام آباد کا سارا رستہ میرے ذھن میں دلشاد اور عارفہ کی محبّت کی داستان گونجتی رھی ۔ آخر اسی حالت میں مجھے سیٹ پر بیٹھے بیٹھے نیند آ گئی ۔


دوسرے دن صبح صبح مجھے اکرم کی کال آئی ۔ کال اٹینڈ کرنے پر مجھے محسوس ھوا، کہ وہ بے حد پریشان تھا ۔ بے اختیار میرا دل انجانے خدشے کے تحت دھڑک اٹھّا ۔ اس نے مجھے بتایا، کہ دو گھنٹے پہلے دلشاد کو پولیس پکڑ کر لے گئی تھی ۔ اس پر چوھدری کے ملازم ڈانگر نے کھیت سے ڈیزل انجن ( پیٹر انجن ، جس میں ڈیزل ڈال کر ٹیوب ویل چلاتے ھیں ۔ ) اور پھلوں کی چوری کا الزام لگا دیا تھا ۔


اکرم نے مزید بتایا، کہ وہ اس وقت فیصل آباد سے نکل رھا ھے، اور کچھ گھنٹے بعد گاؤں پہنچ جائے گا ۔ اس نے مجھے بھی فوراْ واپس آنے کو کہا ۔


میں اپنا دل مسوس کر رہ گیا ۔ ابھی میں گاؤں نہیں جا سکتا تھا ۔


میرے خدشات درست تھے ۔ میری اور اکرم کی غیر موجودگی میں دلشاد پر پھر سے ھاتھ پڑ چکا تھا، اور اس دفعہ چوھدری کے ملازم نے اسے پولیس کے ذریعے اٹھوایا تھا ۔


میں جانتا تھا، کہ ھمارے علاقے کا تھانیدار چوھدری کا نمک خوار ھے ، اور وہ چوھدری کے ایک اشارے پردلشاد کے جسم کے بخئے ادھیڑ کر رکھ دے گا ۔ پولیس والوں کی مار ایسی ھو ھوا کرتی ھے ۔


میں حد درجہ الجھتا چلا جا رھا تھا ۔ جو بھی کرنا تھا، فوری کرنا تھا، ورنہ دلشاد پر کیس بنا کر اسے بڑی جیل بھی بھیجا جا سکتا تھا ۔ تھانے میں پڑنے والی مار اس کے علاوہ بونس تھی ۔ آخر میں نے باس سے ملاقات کا ارادہ کیا ، لیکن پتہ چلا، کہ باس ابھی دفتر پہنچے ھی نہیں ۔ آخر میں نے فون پر ھی باس سے بات کی ۔ جب باس کو پتہ چلا، کہ میں پھر سے گاؤں جانا چاھتا ھوں، تو باس نے یکسر انکار کر دیا ۔ اس کے بعد باس نے فون بھی بند کر دیا ۔


میری سمجھ میں نہیں آ رھا تھا، کہ کیا کروں ۔


چند منٹ تک دفتر میں کمپیوٹر پر کام کرتے ھوئے اچانک مجھے ایک غیبی مدد حاصل ھو گئی ۔


ھوا یوں، کہ گڑ بڑ کا ریکارڈ میرے ھاتھ لگ گیا تھا، اور باس کو ھونے والے لاکھوں کے جس نقصان کا کوئی بھی ثبوت نہیں مل رھا تھا، اس کا ثبوت اچانک ھی مجھے کمپیوٹر کے ریکارڈ سے مل گیا تھا ۔ میں نے وہ ثبوت باس کے سیکرٹری کے حوالے کئے، اور باس کو بھی اس بارے میں میسج کر کے بتا دیا ۔ اب مجھے یقین تھا، کہ میرا بناٴ چھٹّی لئے چلے جانا ، باس کو اتنا ناراض نہیں کرے گا ۔


گاؤں پہنچ کر میں نے اکرم سے ملاقات کی ۔ اس کی زبانی پتہ چلا، کہ دلشاد کو پولیس نے بہت مارا تھا، اور فیضو کو بھی اس کام میں ملوّث کر کے گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ یہی نہیں، بلکہ اس پر شبہ بھی ظاھر کیا جا رھا تھا، کہ وہ علاقے کے نواح میں ھونے والی دیگر کئی چوریوں میں بھی ملوّث تھا ۔


میں نے اب انسپکٹر سے ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ۔ جب اکرم نے پوچھا، کہ ھم اسے مل کر کیا فائدہ حاصل کر سکتے ھیں، کہ وہ تو خود چوھدری کا نمک خھوار ھے ۔ تو میں نے کہا ۔


" جانتا ھوں، کہ وہ چوھدری کا پالتو کتّا ھے ۔ لیکن میرا مقصد چوھدری کی عزّت کی دھجّیاں اڑانا ھے ۔ اگر وہ ھمارے دوست پر اتنا قہر برسا رھا ھے ، تو اس کی جھوٹی عزّت کی قلعی بھی تو کھلنی چاھئے ناں ۔ میں اسے پورے گاؤں میں بدنام کرنے والا ھوں ۔ عنقریب دلشاد اور عارفہ کی عشقیہ داستان گاؤں کے بچّے بچّے کی زبان پر ھو گی ، اور گاؤں والوں کو معلوم ھو جائے گا، کہ دلشاد کے ساتھ ھونے والے سارے مظالم کا ذمّہ دار چوھدری ھے ، اور اس کی اصل وجہ کیا ھے ۔ دلشاد کے ساتھ تو جو ھو گا، ھو گا ھی، لیکن اس سے چوھدری کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رھے گا اکرم ۔ اور ھو سکتا ھے، اس سے شائد گاؤں والے بھی دلشاد کا ساتھ دینے پر تیّار ھو جائیں ۔ "

میں نے دیکھا، کہ اکرم میری اس بات سے متفّق نظر نہیں آ رھا ھا ۔ اس نے خدشہ ظاھر کیا، کہ اس سے تو دلشاد پر اور بھی زیادہ ظلم شروع ھو جائے گا ، تو میں نے کہا ۔

" فکر نہ کرو ۔ اس کا انتظام بھی ھو جائے گا ۔ "

کچھ بھی تھا، لیکن ایک بات تو میں نے سوچ لی تھی ۔

چوھدری کو اب گاؤں والوں کے سامنے صحیح معنوں میں ننگا کرنے کا وقت آ گیا تھا


چوھدری کا راؤنڈ مکمّل ھونے کے ساتھ ھی شکیلہ بھی بے ھوش ھو گئی ۔ چھدری ایک مکمّل سانڈ تھا ۔ ، کہ  شکیلہ شادی شدہ ھونے کے باوجود بے ھوش ھو گئی تھی ۔

چوھدری نے سانس درست کی، ایک نظر شکیلہ کے وجود پر ڈالی، اور مسکرانے لگا ۔ کچھ دیر وہ پنکھے کے سامنے ھو کر بیٹھا رھا ۔ سخت مشقّت کے بعد اس کا سارا جسم پسینے سے شرابور تھا ۔ پنکھے کی ٹھنڈی ھوا سے اپنا پسینہ سکھانے کے بعد وہ کپڑے پہن کر باھر نکل گیا ۔ باھر جا کر اس نے ڈانگر کو اپنے ساتھ لیا، اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔ ڈانگر کو چند ھدایات دینے کے بعد چوھدری نے گاڑی سنبھالی، اور وہاں سے روانہ ھو گیا ۔ گاڑی کی پشت پر نظریں جمائے کھڑا ڈانگر زیر۔ لب مسکرا رھا تھا ۔

شہر کے ایک پر سکون گوشے میں واقع یہ فلیٹ چوھدری ھی کی ملکیّت تھا، جس میں اس کے چند خاص کارندے رھتے تھے ۔ اسی فلیٹ میں موجود ایک بیڈ پر اس وقت بے لباس اور بے ھوش شکیلہ موجود تھی۔

کچھ ھی دیر بعد کمرے میں ڈانگر داخل ھوا۔ اس کے چہرے پر ایک مکروہ مسکراھٹ کھیل رھی تھی ۔ اس نے آتے ھی دروازہ بند کر دیا تھا ۔ اس کی نظریں بیڈ پر موجود شکیلہ کے  جسم پر ٹکی ھوئی تھیں ، جو اس کی آمد سے بے خبر بیڈ پر آڑی ترچھ لیٹی ھوئی تھی ۔ ایسے لگتا تھا، جیسے وہ اپنی مرضی سے نہ لیٹی ھو، بلکہ اسے زبردستی اس انداز میں بیڈ پر لٹا دیا گیا ھو ۔ بے چاری شکیلہ، جو ایک وحشی مرد کے ظلم سے ابھی تک نیم بے ھوش پڑی ھوئی تھی، اور ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا، کہ وہ اب پھر سے ایک مرد کے نیچے آنے والی تھی ۔ اور مرد بھی ڈانگر جیسا درندہ صفت تھا ۔ جو بے رحمی اور درندگی و بربریّت میں چوھدری سے بھی دو ھاتھ آگے تھا ۔ اور یہاں تو معاملہ بھی ایک جوان لڑکی کے جسم کا تھا ۔

ڈانگر نے آتے ھی جگ سے پانی لے کر شکیلہ کے  وجود پر انڈیل دیا ۔ شکیلہ ایک جھٹکے سے اٹھّی، جیسے ڈر گئی ھو ۔ ڈانگر اسے دیکھ کر زور سے ھنسا، جبکہ شکیلہ کی آنکھوں میں اسے دیکھتے ھی خوف کے سائے مزید گہرے ھو گئے ۔ ۔ شکیلہ اور تو کچھ نہ کر سکی، اس نے زور زور سے رونا شروع کر دیا ۔

ڈانگر اس کے پاس آ کر بولا ، " جتنا چاھے روتی رھو، میری بلبل ۔ یہاں تمھاری آواز سننے والا کوئی نہیں ھے ۔ اس کمرے سے تمھاری آواز کبھی بھی باھر نہیں جا سکتی میری جان ۔ " اور شکیلہ کو اچانک چپ سی لگ گئی ۔ گویا وہ لاشعوری طور پر یہی سوچ رھی تھی، کہ شائد اس کیے رونے کی آوازیں سن کر ھی کوئی یہاں آ جائے ، اور اسے بچا لے ۔ لیکن اس بیچاری کو معلوم نہیں تھا، کہ ایسا صرف فلموں اور کہانیوں میں ھوا کرتا ھے ، حقیقی زندگی میں نہیں ۔ حقیقت ، فلموں اور کہانیوں سے کہیں زیادہ تلخ ھوا کرتی ھے ۔


شکیلہ نے دوبارہ سے مزاحمت کی ، لیکن ڈانگر نے جواب میں چوھدری سے بھی زیادہ تشدّد شروع کر دیا ۔ اس نے ایک ھنٹر نما رسّی نکالی، اور اس کے  وجود پر برسا دی ۔ شکیلہ مرغ۔ بسمل کیطرح تڑپنے لگی ۔ ڈانگر ساتھ ساتھ اسے دھمکاتا بھی جا رھا تھا، کہ اگر وہ تعاون نہیں کرے گی ، تو وہ اسے اسی طرح مارتا بھی رھے گا، 

شکیلہ بری طرح سے پھنس کر رہ گئی تھی ۔ آخر اس نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔ اس نے خود کو ڈانگر کے حوالے کر دیا ۔ شائد اس نے سوچ لیا تھا، کہ جب آخر کار  رسوائی ھی مقدّر ٹھہری، تو پھر مزاحمت کر کے اتنا زیادہ تشدّد کیوں برداشت کرے ۔

شکیلہ نیچے پڑی درد کی شدّت سے کبھی رو پڑتی ، تو کبھی ھونٹ دانتوں تلے دبا کر اپنی برداشت کی آخری حد کو آزمانے لگ جاتی ۔

مرد کی ھمیشہ سے روایت رھی ھے ، کہ وہ عورت کے جسم سے لطف کشید کرتے وقت اس کی درد بھری آھیں سن کر اور بھی زیادہ جوشیلا ھو جاتا ھے، اور راحت محسوس کرتا ھے ، اور ڈانگر ایسے خوش ھو جاتا، گویا کے- ٹو فتح کر لیا ھو ، یا ھفت اقلیم کا خزانہ اس کے ھاتھ لگ گیا ھو ۔

اس رات شکیلہ کو چوھدری کے کئی ملازموں نے 

شکیلہ پر ظلم کیا

۔ آخر صبح کا سویرا پھیلنے سے ذرا پہلے سب لوگ شکیلہ کو اس کمرے میں بندھی ھوئی حالت میں چھوڑ کر وھاں سے چلےگئے ۔ صرف ایک ملازم موجود تھا، جو شکیلہ کی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا ۔


شکیلہ اس وقت بھی بے ھوشی کی کیفیّت میں بیڈ پر پڑی ھوئی تھی ۔


میری آنکھ ایک زور دار آواز سے کھلی تھی ۔ میں نے ھڑبڑا کر آنکھیں کھولیں، تو دیکھا، میرے سرھانے اکرم کھڑا تھا ۔ وھی مجھے آوازیں دے رھا تھا ۔

میں اس وقت اپنے گھر کے اندر چارپائی ڈال کر سو رھا تھا، جب اکرم آن پہنچا تھا، اور جب میں اٹھ کر بیٹھ گیا، تو اس نے مجھے وہ خبر سنائی، جسے سن کر میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔

اکرم نے کہا تھا ۔

" شکیلہ کل ، بلکہ پرسوں دن سے غائب ھے ۔ "

میں یہ خبر سن کر سکتے میں آ گیا تھا ۔ ھم تو یہی سمجھ رھے تھے، کہ شکیلہ محفوظ ھے ، لیکن آخر ھماری یہ غلط فہمی دور ھو گئی تھی ۔ شکیلہ بھی اغواٴ ھو چکی تھی ۔

" کیا مطلب ، غائب ھے ؟ کہاں سے غائب ھے ؟ پوری بات بتا مجھے ۔ "

میرے استفسار پر اکرم نے مجھے اٹھ کر منہ ھاتھ دھونے کو کہا، لیکن میں نے اٹھ کر بیٹھتے ھوئے اپنا سوال دھرا دیا، تو اکرم نے مجھے شکیلہ کے اغواٴ کی ساری بات بتا دی ۔ اس نے مجھے یہ بھی بتا دیا، کہ شکیلہ کا باپ کل آدھی رات کے وقت گاؤں پہنچا تھا، اور اسی کی زبانی اسے ابھی ابھی اس واقعے کی اطّلاع ملی تھی ۔ اکرم کے مطابق شکیلہ کا باپ حیران تھا، کہ اس کی معصوم سی بیٹی کو نہ جانے کون ظالم اٹھا کر لے گیا تھا ۔

یہ بات سن کر میرے دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگی تھیں ۔ اس کہانی ، اور اب اس کیس کا ایک اھم ترین گواہ ھمارے ھاتھ سے نکل گیا تھا ۔ ایک دن پہلے ھی تو میں اور اکرم یہ پلان بنا رھے تھے، کہ اب چوھدری کی بیٹی اور دلشاد کی داستان عشق سب کے سامنے بیان کرنے کا وقت آن پہنچا تھا ۔ ھمارے پاس اس کہانی کی اھم ترین اور چشم دید گواہ ، شکیلہ موجود تھی ۔ لیکن ایک رات کے وقفے کے بعد ھی مجھے پتہ چل رھا تھا، کہ شکیلہ کو اغواٴ کر لیا گیا ھے ۔

ویسے ھمیں اندازہ ھو چکا تھا، کہ شکیلہ کو کون اغواٴ کروا سکتا تھا ۔ لیکن ھمارے لئے یہ معاملہ انتہائی مشکل ثابت ھو رھا تھا ۔

کچھ گھنٹے بعد میں اور اکرم شکیلہ کے بوڑھے باپ کے گھر میں موجود تھے ۔ وہ تو چارپائی پر لیٹا ھوا ایسے لگ رھا تھا، جیسے مرنے کے قریب ھو ۔ اس کے گھر میں آدھا گاؤں جمع تھا، اور سب اس کے ساتھ اظھار۔ افسوس کر رھے تھے ۔

میں نے چند لمحات تک انتظار کیا، اور پھر اکرم کے اشارے پر ھی میں نے اور اکرم نے شکیلہ کے باپ کی چارپائی اٹھائی، اور ایک علیحدہ گوشے میں لے گیا ۔ ھم نے گاؤں والوں سے کہا تھا، کہ چاچے کو اس وقت آرام کی ضرورت ھے ۔

اس کمرے میں لا کر میں نے اور اکرم نے چاچے سے تفصیلی بات چیت کی ۔ لیکن ھمیں کوئی واضح ثبوت یا کوئی اشارہ سمجھ نہ آ سکا ۔ ھم نے چاچے کو بہت تسلّی دی، اور کہا، کہ ھم اس کی بیٹی کو واپس لا سکتے ھیں، اگر وہ ھم کو کوئی بات بتا سکے، لیکن وہ مسلسل رو رو کر ایک ھی بات دھراتا رھا، کہ اغواٴ کار منہ پر کپڑے باندھ کر آئے تھے۔ جب ھم نے دیکھا، کہ چاچا سچّ کہ رھا ھے ، تو ھم مایوس ھو کر کھڑے ھو گئے ۔

میں نے آخری بار کے طور پر کہا ۔ " ٹھیک ھے چاچا ۔ ھم چلتے ھیں ۔ کیونکہ بغیر کسی راستے کے ، اور بناٴ کسی اشارے کے ھم شکیلہ تک کیسے پہنچ سکتے ھیں ۔ "

اچانک چاچے نے میری طرف دیکھا، اور بولا ۔ " بیٹا ۔ پہلے مجھ سے وعد کرو، کہ جو کچھ میں تم کو بتاؤں گا، وہ تم کسی کو بتاؤ گے نہیں ۔ "

چاچے کی بات سن کر میں اور اکرم دونوں ھی کے کان کھڑے ھو گئے ۔ اس سے پہلے ، کہ مزید کوئی بات ھوتی ، باھر سے میرے نام کا شور اٹھّا ۔ کوئی بار بار مجھے آوازیں دے رھا تھا ۔ میں نے اکرم کی طرف دیکھا، اور باھر کی طرف چل دیا ۔ باھر ایک اور ھنگامہ میرا منتظر تھا ۔

میرے باس گاؤں پہنچے ھوئے تھے ۔

میں جہاں باس کو دیکھ کر حیران ھوا ، وھیں باس بھی مجھے دیکھ کر حد سے زیادہ خوش ھوئے تھے ۔ ھم دونوں بغل گیر ھوئے ۔ گاؤں والے میرے باس کو دیکھ کر خاصے مرعوب نظر آ رھے تھے ۔ لیکن میں تیزی سے سچوئیشن کو سمجھنے کی کوشش کر رھا تھا، کہ آخر باس یوں اچانک، بناٴ اطّلاع کے گاؤں کیوں چلے آئے ھیں ۔

میری یہ الجھن باس نے ھی دور فرما دی ۔ ان کے مطابق، جب میں نے ان کے حساب کتاب میں غبن پکڑ کر اس کی اطّلاع ان کو دی ، تو وہ بے حد خوش ھوئے، اور میرے اچانک گاؤں چلے آنے کے بعد، وہ بھی میرے پیچھے پیچھے گاؤں چلے آئے ۔ وہ میرا خصوصی شکری ادا کرنا چاھےت تھے، کیونکہ میں نے ان کا لاکھوں کے نقصان کے ثبوت ان کو دینے کی وجہ سے وہ خصوصی طور پر میرا شکریہ ادا کرنا چاھتے تھے، اور جب انہیں پتہ چلا، کہ میں ایمر جنسی کی وجہ سے گاؤں چلا آیا ھوں، تو وہ بھی گاؤں چلے آئے ۔ آخر اسلام آباد سے گاؤں آنے میں اپنی گاڑی پر ٹوٹل تین گھنٹے ھی تو لگتے تھے ۔

میں باس کی باتیں سن کر سوچ رھا تھا، کہ کیا یہ محض اتّفاق تھا؟ یوں اچانک میرے باس کا گاؤں چلے آنا محض اتّفاق نہیں ھو سکتا تھا ۔


اس وقت ھم جس طرح کی الجھن میں پھنسے ھوئے تھے، ایسی صورت حال میں ھمیں کسی حد سے زیادہ طاقت ور انسان کی مدد کی ضرورت تھی ۔ ھمارا مقابلہ چوھدری سے تھا، اور اس سے لڑنے کے لئے اس سے بھی زیادہ پاور والے آدمی کی ضرورت تھی، اور شائد ھمیں قدرت نے ایسا سہارا فراھم کر دیا تھا ۔


شائد قدرت نے ھمارے لئے، اور خاص طور پر دلشاد کے لئے ایک مدد گار بھیج دیا تھا ۔


آج ھم دلشاد کے معاملے میں تھانے جانے کا سوچ چکے تھے ۔ ایسے میں باس کا چلے آنا ، سخت گرمی کے موسم میں بارش کے قطرے سے کم نہ تھا ۔



 میں نے اپنے باس ( آپ ان کو رانا صاحب کہ سکتے ھیں، کیونکہ وہ بہر حال رانا برادری سے تعلّق رکھتے تھے، اور ان کی غیر موجودگی میں دفتر میں بھی اکثر ان کو رانا صاحب کے نام سے ھی یاد کیا جاتا تھا ۔ ) کو اپنے ساتھ لیا، اور اپنے گھر کی طرف چل دیا ۔ وہ اپنی گاڑی پر ھی آئے تھے، چنانچہ ھم دونوں ان کی کار میں بیٹھ گئے ۔ اکرم بھی ھماری طرف ھی آ رھا تھا، اور اپنے باس کو اکرم کا مختصر تعارف کروا کر میں نے اکرم کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کر دیا تھا ۔ وہ عقبی نشست پر بیٹھ گیا، اور باس نے کار آگے بڑھا دی ۔

میں نے رانا صاحب کی گاؤں کے روایتی کھانوں سے تواضع کی ۔ کھانے کے دوران وہ مجھ سے پوچھتے بھی رھے، کہ وہاں مجمع کیسا تھا، اور میں اتنی ایمر جنسی میں گاؤں کیوں چلا آیا ۔ آخر ایسا کون سا واقعہ ھو گیا ھے، کہ جس کی وجہ سے میں اب زیادہ تر وقت گاؤں میں ھی گزار رھا ھوں ۔ اس کے علاوہ انہوں نے مجھ سے اس واقعہ کی تفصیل بھی پوچھی تھی، جب ھم شہزادی کے پیچھے پہنچے تھے، اور رانا صاحب کے ایک فون سے ھمارا کام انتہائی آسان ھو گیا تھا ۔ وہ مجھ سے سوال کرتے رھے، اور میں ان سے کھانے کے بعد، کھاے کے بعد، کا کہ کر ان کو ٹالتا رھا۔ در اصل میں چاھتا تھا، کہ جب میں سے بات کروں، تو وہ میری ساری بات مکمّل توجّہ سے سن رھے ھوں ۔ جب ھم کھانے پینے سے فارغ ھو چکے، تو میں نے اب ان کو ساری کہانی سنانے کا فیصلہ کر لیا ۔ رانا صاحب کے کھانے کے دوران میں اپنے دماغ میں ساری کہانی ترتیب دے چکا تھا ۔


میں نے اپنے دوست دلشاد کی ساری کہانی ان کو سنا دی ۔ آخر میں ، میں نے ان کو یہ بھی بتا دیا، کہ اب میں کیا کرنا چاھتا ھوں ۔

میری زبانی سارے حالات سن کر رانا صاحب گہری سوچ میں پڑ گئے ۔ ساتھ ساتھ وہ چائے بھی پی رھے تھے ۔ ھم اس وقت میری چوپال میں موجود تھے ۔ باھر ھلکے ھلکے بادل بن چکے تھے، اور ٹھنڈی ٹھنڈی ھوا بھی چل رھی تھی ۔ رانا صاحب بظاھر باھر اڑتی ھوئی دھول کی طرف نظریں جمائے اسے ھی دیکھ رھے تھے ۔ اکرم جو اب تک خاموش بیٹھا ھماری باتیں سنتا رھا تھا، ان کو اس طرح گہری سوچ میں ڈوبے دیکھ کر اشاروں میں مجھ سے پوچھنے لگا، لیکن میں نے اسے خاموشی کا اشارہ کر دیا، کیونکہ میں جانتا تھا، کہ رانا صاحب اس وقت اس مسئلے کے سلسلے میں ھی کچھ سوچ رھے ھوں گے ۔ ان کے ھاں ملازمت کرنے کے دران اتنا تو میں ان کو سمجھ ھی چکا تھا ۔


کم از کم اب تو وہ میری مکمّل مدد ضرور کرتے ۔ اتنا تو مجھے پختہ یقین تھا ۔


کافی دیر کے بعد رانا صاحب نے میری طرف دیکھا، اور بولے ۔

" مسئلہ کافی سیرئس ھے ۔ اور خاص طور پر ان حالات میں ، جبکہ تمھارے دوست پر الزام ھی چوری کا لگا ھے ۔ ایک تو اس کو اس الزام سے کلئر کروانا ھو گا۔ اور دوسری طرف، اسکی گرل فرینڈ، کیا نام بتایا ھے تم نے اس کا ؟؟؟ ھاں، عارفہ ۔ ۔ ۔ جب تک وہ سامنے آ کر بیان نہیں دے دیتی، کہ وہ بھی دلشاد کے ساتھ انوالوڈ ھے ، تب تک تمھارے اس پلان کا کوئی فائدہ نہیں ھے ۔ بلکہ اس سے الٹا تھانے میں بند تمھارے دوست کو ھی نقصان پہنچ سکتا ھے ۔ اس لئے ، فی الحال تم خاموش ھو جاؤ، اور اس لڑکی کو فرنٹ پر لاؤ ۔ لیکن ایک مسئلہ اور بھی ھے ، کہ اس لڑکی کا بیان شروع سے لے کر آخر تک، تمھارے دوست کے حق میں ھونا چاھئے ، جو کہ کافی سے بھی زیادہ مشکل بات نظر آ رھی ھے ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ جب بات اتنی زیادہ اچھلے گی ، تو اس سے اس چوھدری کی عزّت کا جنازہ نکل جائے گا، ، ، ، اور ۔ ۔ ۔ میرا نہیں خیال ، کہ وہ لڑکی اپنے باپ کی عزّت یوں سر۔ عام اچھلتی دیکھ کر اپنے باپ کے خلاف بیان دینے پر قائم رہ سکے ۔ "

یہاں رانا صاحب نے ذرا سانس لینے کے لئے توقّف کیا، اور دوبارہ سے گویا ھوئے ۔

" ایک اور بات ، کہ جس لڑکی کا تم نے ذکر کیا ھے ، جو ایک دو دنوں سے غائب ھے ۔ اس لڑکی کا بھی اس کیس میں سامنے آ کر گواھی دینا بہت لازمی ھو گا ۔ وہ چونکہ اس کیس میں تمھارے دوست اور اس کی گرل فرینڈ کی ھمراز رھی ھے ،۔ اور ان سب واقعات کی چشم دید گواہ ھے ، اس لئے تمھارے دوست ، اور اس کی گرل فرینڈ ، ان دونوں کے حق میں، یا ان دونوں کے خلاف ، جیسی بھی ھو لیکن اس کی گواھی سب سے زیادہ موٴثّر ثابت ھو گی ۔ یعنی ، اس کا ھونا انتہائی اھم ھو گا ۔ ، ، اس کو بھی سامنے لانا ھو گا ۔ "


Post a Comment

0 Comments