Ashiq Awara urdu romantic novel episode 17 عاشق آوارہ




میں اور اکرم رانا صاحب کی باتیں سن رھے تھے، اور ھمیں ایسے لگ رھا تھا، جیسے دلشاد کو چوھدری کے چنگل سے اور تھانے والوں کی قید سے چھڑانا ھمارے لئے نا ممکن ھے ، کیونکہ جو پوانٹس رانا صاحب نے بیان کئے تھے، وہ ھمارے بس سے تو باھر نظر آ رھے تھے ۔

میں نے رانا صاحب سے کہا، کہ ان کی سب باتیں واقعی انتہائی نکتے والی ھیں، لیکن ان سے ان باتوں کے شئر کرنے کا مقصد یہی تھا، کہ وہ اس معاملے میں ھماری خصوصی مدد کریں ۔

رانا صاحب نے یہ سنا، تو انہوں نے نفی میں سر ھلا دیا۔ " نہیں فیروز نہیں ۔ میں اس معاملے میں کچھ نہیں کر سکتا ، کیونکہ میں نے آج شام واپس پہنچنا ھے ، اور کل ایک انتہائی اھم میٹنگ میں شریک ھونا ھے ۔ اور بھی کئی کام ھیں مجھے ۔ تم بھی جانتے ھو، کہ میں کتنا مصروف رھتا ھوں ۔ ویسے بھی یہ تمھارے گاؤں کا معاملہ ھے ، تم اس کیس میں مجھے ملوّث نہ ھی کرو، تو بہتر ھو گا۔ بلکہ تم لوگ ایسا کرو، کہ چوھدری کے پاس جا کر صلح کی کوشش کرو۔ ھو سکتا ھے ، کہ وہ کسی طرح سے تمھارے دوست کی جان بخشی کروا دے ۔ "

رانا صاحب کی بات سن کر ، میں اور اکرم ھکّا بکّا رہ گئے ۔

تو گویا، رانا صاحب اس معاملے میں ھماری مدد کرنے سے انکار کر رھے تھے ۔ لیکن دکھ کی بات تو یہ تھی، کہ انھوں نے جو مشورہ دیا تھا، وہ بے حد تکلیف دہ تھا ۔ اکرم نے میری طرف دیکھا، اور میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔ میری آنکھوں میں بے بسی اور شرمندگی کے آنسو تھے، جنھیں میں اکرم سے چھپا لینا چاھتا تھا ۔

میرا مان رانا صاحب نے توڑ دیا تھا، اور مان سے بھی بڑھ کر یہ تھا، کہ ان کے انکار سے ھمارے دوست دلشاد کی زندگی کی مشکلات ایک دم سے بہت زیادہ بڑھی ھوئی نظر آنے لگی تھیں ۔


تو گویا ھم دلشاد کو چھڑا نہیں سکیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟؟؟؟؟ ایک سوال پھانس بن کر میرے دماغ سے اٹھّا، اور نشتر بن کر میرے دل میں پیوست ھو گیا ۔



لیکن نہیں ، ھم کو اتنی جلدی ھمّت نہیں ھارنی چاھئے ۔ رانا صاحب کو قائل کرنا چاھئے ۔

یہ سوچ کر میں نے رانا صاحب کو پھر سے اس بات کے لئے منانا شروع کر دیا ۔ میں مسلسل منّت کر رھا تھا، لیکن وہ بڑے ھی ڈپلو میٹک انداز میں مجھے انکار کر رھے تھے ۔ آخر میں میرا لہجہ ذرا تلخ ھو گیا، اور میں نے ان سے کہا ۔

" ٹھیک ھے رانا صاحب ۔ آپ نے ھمارے دوست کی مدد نہیں کرنی ، نہ کریں۔ لیکن آپ کو جانے سے پہلے میرے دوست کے بوڑھے باپ کا حال ضرور دیکھنا ھو گا، جو اس وقت اپنے بیٹے کے جیل جانے کے غم میں چارپائی سے لگ کر رہ گیا ھے ۔


" رانا صاحب نہ نہ کرتے ھی رہ گئے ، لیکن میں ان کو لے کر دلشاد کے باپ سے ملوانے چل پڑا ۔ ھم اس وقت پیدل ھی جا رھے تھے، اس لئے کہ دلشاد کا گھر پاس ھی تھا ۔ میں اور رانا صاحب برابر چل رھے تھے، جبکہ اکرم ھمارے پیچھے پیچھے آ رھا تھا ۔

میں نے دلشاد کے گھر کے دروازے پر دستک دی، اور دروازے کے تختے کو دھکیل کر اندر داخل ھو گیا ۔ رانا صاحب بھی میرے ساتھ ھی تھے ۔

اندر پہنچے، تو میرے اور اکرم کے ساتھ رانا صاحب بھی دھل گئے ۔

دلشاد کے باپ کی حالت ھماری توقّعات سے بھی زیادہ خراب تھی ۔ گاؤں کے ایک دو آدمی اس وقت بھی ان کی دیکھ بھال میں مصروف تھے ۔ ان کو بہت تیز بخار تھا، اور وہ نیم بے ھوشی کی کیفیّت میں تھے ۔ کبھی کبھی ان کے منہ سے ایک آواز نکلتی، جو کبھی کسی کی سمجھ میں آ جاتی، تو کبھی نہ آتی ۔

رانا صاحب وہاں چند منٹ کھڑے رھے، پھر ان سے رھا نہ گیا، اور وہ دوسروں سے بولے ۔ " ڈاکٹر کو بلاؤ۔ جلدی سے کسی ڈاکٹر کو بلاؤ ۔ "

میں نے کہا۔ " آپ نے سنا نہیں ۔ چاچے کی زبان سے کیا لفظ نکل رھا ھے ؟ چاچا کسی ڈاکٹر سے نہیں، بلکہ اس انسان کی آمد سے ٹھیک ھو گا، جس کا نام اس وقت چاچے کی زبان پر ھے ۔ "

کس کا نام ھے ان کی زبان پر ؟ " رانا صاحب بے اختیار پوچھ بیٹھے تھے ۔

اس سوال پر میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا، اور کہا ۔ " دلشاد کا نام ۔ ان کے اکلوتے بیٹے کا نام ۔ ۔ ۔ اگر آپ چاھیں، تو آپ بھی سن سکتے ھیں ۔

 میری یہ بات سن کر رانا صاحب خجل سے ھو گئے ۔

کچھ ھی دیر میں ڈاکٹر آ گیا۔ اس نے ھم سب سے ایک طرف ھونے کو کہا، اور خود چاچے کے علاج میں جت گیا ۔

اگرچہ رانا صاحب کسی بھی لحاظ سے ھمارے سر پرست نہیں تھے، نہ ھی ھماری مدد کرنا ان کے فرائض میں شامل تھا، لیکن میں جانتا تھا، کہ جب وہ دلشاد کے باپ کی حالت دیکھیں گے، تو ان کے لئے شہر جانا مشکل ھو جائے گا ۔ پھر وہ اپنی فطرت کے ھاتھوں مجبور ھو کر ھماری مدد کرنے پر خود ھی راضی ھو جائیں گے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تھے ھی ایسے ۔ ۔ ۔ اور ان کی اس فطرت سے میں اچھّی طرح واقف تھا۔ اسی لئے میں نے ان کے مسلسل انکار کے بعد ان پر یہ داؤ چلانے کا فیصلہ کیا تھا، اور مجھے امّید تھی، کہ میں اس میں سو فیصد کامیاب رھوں گا ۔


۔ ۔ ۔ اور ایسا ھی ھوا ۔

رانا صاحب جب دلشاد کے باپ کے گھر سے میرے ساتھ باھر آئے، تو میری طرف دیکھ کر بولے ۔

" تمھارے گاؤں کا تھانہ کس طرف ھے ؟ "


ان کی یہ بات سن اکرم تو حیران ھوا، لیکن میں نے دل ھی دل میں شکر ادا کیا، کہ اب رانا صاحب کا ساتھ میسّر آنے کے بعد یہ معاملہ اتنا مشکل نہیں رھے گا ۔


اگر ھماری ٹکّر چوھدری سے تھی، تو ھمارے ساتھ بھی اب رانا صاحب جیسی مضبوط اسامی تھی ۔ رانا صاحب ، جو کئی منسٹرز کو جیب میں لے کر گھومتے تھے ۔ چوھدری کی پہنچ اگر ڈویژن کی سطح تک تھی، تو رانا صاحب کے ھاتھ اسمبلی تک پہنچے ھوئے تھے ۔

میں نے رانا صاحب سے کہا، کہ سب سے پہلے چوپال میں چل کر کچھ صلاح مشورہ کر لیا جائے ، کہ تھانے میں کس طرح بات کرنی ھے ۔ کیونکہ تھانے میں اس وقت چوھدری کا نمک خوار تھانیدار بیٹھا ھوا تھا ۔

میری یہ بات سن کر رانا صاحب مسکرا دئے ۔

" یار، اگر ایک گاؤں کے تھانے میں جانے کے لئے مجھے بیٹھ کر صلاح مشورہ کرنا پڑے، تو پھر لعنت ھے میری ھائی فائی اپروچ پر ۔ ۔ ۔ ۔ چلو یار ۔ دیکھتے ھیں، کیا بلاٴ بیٹھی ھے جس سے اتنے ڈر رھے ھو تم دونوں ۔ "

اکرم مجھ سے بھی زیادہ حیران تھا۔ آخر و بولا ۔ " جناب، مانا کہ صلاح مشورے کے لئے آپ چوپال تک جانا نہیں چاھتے، لیکن اپنی گاڑی کے لئے تو آپ کو بہر حال چوپال تک جانا ھی پڑے گا ۔

اور رانا صاحب کھل کر ھنس دئے ۔

چوپال پر پہنچ کر ھم گاڑی میں سوار ھوئے، اور تھانے میں پہنچ گئے ۔ اس وقت تک شام ھونے والی تھی ۔ آسمان پر بادل بدستور موجود تھے ۔ راستے میں رانا صاحب ھم سے ھمارے علاقے کے سیاستدانوں کے بارے میں سادہ سادہ سوالات کرتے رھے ۔ میں نے ان کو بتایا، کہ ھمارے علاقے کے موجودہ اور سابقہ ممبران قومی و صوبائی اسمبلی، دونوں چوٹی کے سیاستدان ھی چوھدری کے انتہائی قریبی مانے جاتے تھے ۔ میری یہ بات سن کر بھی رانا صاحب معنی خیز انداز میں مسکرائے تھے ، جبکہ ھم ان کی مسکراھٹ کو کوئی بھی معنی نہ پہنا سکے ۔

تھانے کے سامنے گاڑی کھڑی کر کے گاڑی سے اتر کر ھم مین عمارت کی طرف چل دئے ۔ سیکیورٹی پر معمور پولیس والا ھمارے علاقے کا ھی ایک آدمی تھا، چنانچہ ھمیں آسانی سے داخلے کی اجازت مل گئی ۔ رانا صاحب نے مجھے گاڑی میں ھی سمجھا دیا تھا، کہ تھانے میں ھمیں زیادہ بولنے کی ضرورت نہیں ھے ۔

کچھ ھی دیر بعد ھمیں تھانے کے ایس ایچ او کے کمرے تک رسائی مل گئی ۔


ایس ایچ او ملک مظہر اقبال نام کا ایک بھاری بھرکم آدمی تھا، جس کی عمر کم از کم چالیس سال تھی ۔ اس کی جسامت دیکھ کر ایک بار تو اچھّے خاصے آدمی کی ھنسی نکل جاتی تھی۔ اور اگر کوئی بندہ اسے اوپری دھڑ سے ننگا دیکھ لیتا، تو وہ تو ھنس ھنس کر لوٹ پوٹ ھو جاتا تھا ۔ خود میں بھی اسے ایک بار قمیض کے بغیر دیکھ چکا تھا، لیکن اس وقت چونکہ ھم ایک انتہائی سیرئس معاملے میں تھانے کے اندر موجود تھے، اور ھمارے ساتھ رانا صاحب بھی موجود تھے، لہٰذا میں اور اکرم ، دونوں نے ھی اپنی مسکراھٹ پر مکمّل قابو پائے رکھّا۔ ایس ایچ او کے لئے ھمارے دل سے نکلنے والی گالیاں بھی ھم اپنے دل میں ھی دفن کر رھے تھے ۔

میں نے ایس ایچ او سے رانا صاحب کا شہر کے ایک معزّز بزنس مین کے طور پر تعارف کروایا، تو اس نے ان کا جائزہ لینے کے انداز میں سرسری سا ان کی طرف دیکھا، اور اپنی نظروں کا زاویہ دوبارہ میری طرف گھماتے ھوئے سپاٹ لہجے میں بولا ۔

" بولیں ۔ میں آپ لوگوں کی کیا خدمت کر سکتا ھوں ؟ "

رانا صاحب نے گلہ کھنکار کر بات کا آغاز کیا ۔

" دیکھئے ، ملک صاحب ۔ گزارش صرف اتنی ھے ، کہ آپ نے میرے ایک عزیز کو تھانے میں بلا وجہ بند کر دیا ھے ۔ اسی وجہ سے مجھے خود آپ کے تھانے میں چل کر آنا پڑا ھے ۔ میرے عزیز کے بارے میں آپ لوگوں کو کوئی غلط فہمی ھوئی ھے ۔ اس لئے میں چاھتا ھوں ، کہ آپ میرے عزیز کو فوراْ رھا کر دیں ۔ "

ایس ایچ او، جو رانا صاحب کی بات سننے کے دوران باری باری ھم تینوں کو گھورتا رھا، ان کی بات پوری ھونے کے بعد بولا ۔ " آپ کے کس عزیز کو ھم نے بند کر دیا ھے جی ؟ آپ تو شہر میں رھتے ھیں، پھر آپ کے عزیز کو ھم اس تھانے میں کس طرح سے بند کر سکتے ھیں ؟ بات کچھ سمجھ میں نہیں آئی ۔ ذرا اپنے اس عزیز کا نام بتانا پسند فرمائیں گے ، جو بقول آپ کے ، اس وقت ھمارے تھانے میں بند ھے ؟ ۔ ۔ ۔ اور کس جرم کے الزام میں بند ھے ؟ "

رانا صاحب مسکرائے، اور بولے ۔

" انسپکٹر صاحب ۔ میرا عزیز آپ کے تھانے میں اس لئے بند ھے ، کہ وہ آپ کے پاس والے گاؤں میں ھی رھتا ھے ، اور وہ گاؤں آپ کے تھانے کی رینج میں آتا ھے ۔ ۔ ۔ ۔ اور جہاں تک میرے عزیز کے نام کا سوال ھے ، ، ، تو اس کا نام ھے دلشاد خان، جسے آپ لوگوں نے چوری کے جھوٹے الزام کے تحت اپنی حوالات میں دو تین روز سے بند کر رکھّا ھے ۔ 



دلشاد کا نام تھا، یا کہ ایٹم بم کا دھماکہ ، جو رانا صاحب نے ایک دم سے انسپکٹر کے کانوں میں کر دیا تھا ۔ ایس ایچ او یوں اچھلا، جیسے اس کی کرسی کے نیچے سے اسے چار سو چالیس کا کرنٹ لگ گیا ھو ۔ دوسرے ھی لمحے اس کے چہرے پر درشتی عود کر آئی، اور وہ از حد رعونت بھرے لہجے میں رانا صاحب سے مخاطب ھوا ۔ ساتھ ھی اس نے اپنے ھاتھ میں پکڑے محکمانہ ڈنڈے کا رخ بھی رانا صاحب کی طرف کر دیا ۔

" اے مسٹر رانا ۔ جو بھی نام ھے تمھارا ۔ اگر اس سے آگے ایک لفظ بھی بولا، تو تمھارے ساتھ بہت برا سلوک کروں گا ۔ اگر خیریّت چاھتے ھو، تو ایک منٹ کے اندر اندر یہاں سے دفع ھو جاؤ ۔ تم لوگوں کے لئے اتنا ھی کافی ھے ، کہ تم لوگ دلشاد کی وکالت کر کے میرے تھانے سے صحیح سلامت واپس چلے جاؤ گے ۔ "

انسپکٹر کی بات سن کر رانا صاحب کے چہرے کی کیفیّت ایک دم سے بدلی، لیکن دوسرے ھی لمحے انہوں نے کمال مہارت سے اپنے غصّے پر قابو پا لیا ۔ ان کی اس بدلتی کیفیّت کو میں اور اکرم دونوں ھی نوٹ کر رھے تھے ۔ میں ان کی اس خوبی سے واقف تھا، کہ ان کو جلدی غصّہ نہیں آتا تھا ۔ لیکن جب آتا تھا، تو پھر جلدی اترتا بھی نہیں تھا ۔

رانا صاحب ایک بار پھر سے مسکرائے، اور بولے ۔ " انسپکٹر صاحب ۔ ھم آپ کے تھانے میں مہمان بن کر آئے ھیں، اور مہمانوں سے اس لہجے میں بات نہیں کی جاتی ۔ آپ پلیز اپنا لہجہ درست ۔ ۔ ۔ ۔ "

ابھی رانا صاحب بات کر ھی رھے تھے، کہ انسپکٹر نے ان کی بات کاٹ دی، اور دھاڑتے ھوئے بولا ۔

" اے مسٹر بزنس مین ۔ اب تم مجھے تمیز سکھاؤ گے ۔ تمھاری اتنی جرّاٴت ۔ کہ میرے ھی تھانے میں بیٹھ کر مجھے تمیز سکھاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ اگر ایک منٹ کے اندر اندر تم یہاں سے اٹھ کر نہ گئے، تو پھر جو حشر تمھارا ھو گا، تم اس کا تصوّر بھی نہیں کر سکتے ۔ "

رانا صاحب ایک بار پھر سے برداشت کر گئے، لیکن انسپکٹر کی بد قسمتی، کہ اسی دوران اس سے ایک انتہائی سنگین غلطی ھو گئی ۔

وہ رانا صاحب کو ایک غلیظ گالی دے بیٹھا تھا ۔ 

اب تو رانا صاحب کی قوّت برداشت جواب دے گئی، اور وہ ایک دم سے کھڑے ھو گئے ۔ انہوں نے کرسی کو لات ماری، اور قریب تھا، کہ انسپکٹر پر پل پڑتے، لیکن میں نے انہیں روک لیا ۔ وہ کچھ دیر لمبی سانسیں لیتے رھے، اس دوران انسپکٹر بھی کھڑا ھو گیا تھا، اور اس نے دو سپاھیوں کو اشارہ بھی کر دیا تھا جو دروازے میں آ کر کھڑے ھو گئے تھے ۔ وہ لوگ شائد ھمیں گرفتار کرنا چاتے تھے ۔ وہ انسپکٹر کی طرف اجازت طلب نظروں سے دیکھ رھے تھے، اور انسپکٹر طنزیہ نظروں سے رانا صاحب کی طرف۔ پھر وہ بیٹھ گیا ۔ اس کے چہرے پر رعونت صاٍ نظر آ رھی تھی ۔ اسے شائد بالکل بھی پروا نہیں تھی، کہ رانا نام کا آدمی کسے فون کر رھا تھا ۔ اسے چوھدری کے پہنچ کا بہت زعم تھا، لیکن اسے معلوم نہیں تھا،کہ اس نے انجانے میں، اور چوھدری کی شہ پر شہد کے چھتّے میں ھاتھ دے دیا تھا ۔

رانا صاحب کچھ دیر اپنے اعصاب پر قابو پانے کی کوشش کرتے رھے ۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے موبائل سے ایک کال کی، اور دوسری طرف سے کال اٹینڈ ھونے کے بعد انہوں نے اپنے مخاطب کا جو نام لیا تھا، اسے سن کر ھم دونوں ھی ششدر رہ گئے ۔ لیکن ھماری یہ حیرانی خوشی سے بھر پور تھی، جبکہ ایس ایچ او اپنی کرسی پر بیٹھا ایک دم سے اچھل پڑا ۔ شائد اسے اپنے سامنے بیٹھا ایک عام سا نظر آنے والا آدمی بے ضرر محسوس ھو رھا تھا، اور دوسری طرف اسے اپنی پشت پر موجود چوھدری پر بھی بڑا مان تھا، اس لئے وہ اتنی سخت بات کہ گیا تھا ۔ اتنی سخت بات، کہ جس نے رانا صاحب جیسے ٹھنڈے مزاج کے انسان کو بھی تاؤ دلا دیا تھا ۔

رانا صاحب نے سیدھا آئی جی صاحب کو فون کیا تھا ۔ اور وہ آئی جی صاحب کو ایسے مخاطب کر رھے تھے، جیسے کوئی اپنے لنگوٹیئے کو مخاطب کرتا ھے ۔

سیانے کہتے ھیں، کہ انسان کو ھر سوراخ میں انگلی نہیں دینی چاھئے ۔ کیا پتہ، کس سوراخ میں کیا چیز چھپی بیٹھی ھو ۔

انسپکٹر نے بھی شائد ایک غلط سوراخ میں انگلی دے ڈالی تھی ۔ اب اس کے ساتھ انتہائی برا سلوک ھونے والا تھا ۔

رانا صاحب بات کرتے کرتے باھر کو نکل گئے ۔ انسپکٹر کی حالت ایسی ھو چکی تھی، کہ اس پر کپکپی کی سی کیفیّت طاری ھو گئی تھی ۔ وہ ایک دم سے شیر سے گیدڑ نظر آنے لگا تھا ۔

اچانک اس کے سامنے ٹیبل پر موجود فون سیٹ کی گھنٹی بج اٹھّی ۔ کافی دیر تک بیل ھوتی رھی، لیکن انسپکٹر فون اٹھانے کی ھمّت نہ کر سکا۔ آخر اس کے ایک ماتحت نے فون اٹینڈ کیا ۔ دوسری طرف کی آواز سن کر وہ ایک دم سے اٹینشن ھو کر سیلیوٹ کرنے لگا۔ دوسرے سپاھی بھی گھبرا گئے ۔ فون سننے والے نے کچھ لمحوں بعد " یس سر۔ " کہ کر ریسیور انسپکٹر کی طرف بڑھا دیا ۔ ساتھ ھی اس نے یہ بھی بتا دیا ۔

" اوپر سے کال ھے سر ۔ "

انسپکٹر نے مریل سے انداز میں فون سنا، اور ریسیور اس کے ھاتھ سے ڈھے گیا ۔ وہ بھی کرسی پر گرتا چلا گیا ۔ رانا صاحب بھی باھر سے آ گئے تھے ۔ انہوں نے جیسے ھی کمرے میں قدم رکھّا، انسپکٹر ان کے قدموں میں گر گیا ۔ رانا صاحب غصّے سے لال نظر آ رھے تھے ۔ انہوں نے انسپکٹر کو ٹھڈّوں پر رکھ لیا ۔ ھم سب یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ پولیس والے بھی انگشت بدنداں کھڑے تھے ۔

رانا صاحب کے منہ سے گالیوں کا ایک نہ رکنے والا سلسہ چل پڑا تھا ۔ "" ایک گالی تھی، جو انسپکٹر نے ان کو دی تھی، لیکن اب وھی انسپکٹر اس سے بھی زیادہ گندی گالیاں نہ صرف سن رھا تھا، بلکہ برداشت بھی کر رھا تھا، اور یہ سب اس انسپکٹر کے تھانے میں ھو رھا تھا۔ وہ تھانہ، جہاں وہ دوسرے غریب آدمیوں کے سامنے زمینی خدا بن جاتا تھا، آج خود رحم کی بھیک مانگتا ھوا کسی کے قدموں میں رینگ رھا تھا ۔ ، گشتی کا بچّہ ،۔ رنڈی کا بچّہ، حرامی، " اور نہ جانے کون کون سی گالی تھی، جو رانا صاحب کے منہ سے نکل رھی تھی ۔

رانا صاحب سراپا شعلہ بنے ھوئے تھے ۔ ان کی زبان اور ٹانگیں مسلسل چل رھے تھے ۔ میں نے آج اپنے باس کو پہلی بار اتنے غصّے میں دیکھا تھا ۔ اکرم نے مجھے رانا صاحب کو پکڑنے کا اشارہ کیا، لیکن میں نے آنکھوں ھی آنکھوں میں معذرت ظاھر کر دی ۔ میں جانتا تھا، کہ اب رانا صاحب کا غصّہ ٹھنڈا ھونے میں کچھ وقت لے گا ۔

انسپکٹر ٹھڈّے کھانے کے باوجود بھی ان کے پاؤں پکڑے زمین پر لوٹ پوٹ ھو رھا تھا ۔ آخر چند منٹ کی ٹھکائی کے بعد رانا صاحب رک گئے ۔ انہوں نے مجھے دیکھا ۔ پھر تھانیدار کو مخاطب کیا ۔ جب وہ بولے، تو ان کی آواز گرجدار تھی ۔

" حوالات کی چابی کدھر ھے ؟ "

انسپکٹر نے کھڑے ھو کر چابی خود پیش کی، لیکن رانا صاحب نے اس کے چہرے پر تھپّڑ لگاتے ھوئے اسے کہا ۔

" دفع ھو کر خود اسے نکال کر لاؤ۔ جاؤ ۔ ۔ حرامی انسان ۔ "

اور انسپکٹر "جی سر، جی سر ۔" کہتا ھوا بھاگ کھڑا ھوا ۔ کچھ ھی دیر میں دلشاد ھمارے سامنے کھڑا تھا ۔


لیکن اس کی حالت دیکھ کر میں اور اکرم ، دونوں ھی تڑپ اٹھّے ۔ ھماری زبانیں جیسے گنگ ھو گئیں ۔



رانا صاحب نے تھانیدار کو چند گالیاں اور دیں، ایک دو ُٹھڈّے بھی مارے اور اس کے بعد دلشاد کو سنبھالنے لگے۔ یقیناً انہیں بھی دلشاد کی‌حالت دیکھ کر تکلیف ھوئی تھی۔ ھمارے تھانے میں جانے والے غریب کے ساتھ کیا سلوک ھوتا ھے، دلشاد کی‌حالت دیکھ کر ھم کو اچھّی طرح سے سمجھ آ چکی تھی۔

میں نے فیضو کے بارے میں سوال کیا، تو تھانیدار نے اپنے ماتحت کو اشارہ کیا۔ وہ دوبارہ حوالات کی جانب گیا اور اب کی بار فیضو کو لے کر آ گیا۔ فیضو کی حالت بھی دلشاد کے مصداق ھی تھی۔ ھم لوگ اپنا دل مسوس کر رہ گئے ۔

چند لمحات مزید ھم وہاں رھے۔ اس دوران رانا صاحب نے تھانیدار کو دھمکی آمیز لہجے میں کچھ ھدایات دیں۔ اس کے بعد ھم عمارت سے باھر آ گئے۔

ھم لوگ اب تھانے سے باھر کھڑے تھے۔ تھانیدار بھی ھمارے پیچھے پیچھے ھی آ گیا تھا۔ وہ رانا صاحب کے پیچھے ایسے کھڑا تھا جیسے مزارع یا نوکر اپنے مالک کے سامنے کھڑا ھوتا ھے۔ رانا صاحب نے تھانیدار کو ایک بار پھر سے دھمکی لگائی اور تھانیدار بے چارہ پھر سے منتّیں کرنے لگا۔ ساتھ ھی اس نے ھر طرح سے تعاون کا یقین بھی دلا دیا تھا۔

اب میں نے رانا صاحب کو ایک طرف لے جا کر سمجھایا۔

" سر جی۔ اس تھانیدار کی بدلی وغیرہ نہ کروائیے گا۔ اس وقت جتنا فائدہ یہ بندہ دے سکتا ھے، نیا آنے والا شائد نہ دے سکے۔"

رانا صاحب میری اس بات سے متّفق ھو گئے۔ انہوں نے اس کے خلاف مزید کاروائی نہ کرنے کا وعدہ کر لیا۔

ھم لوگ وھاں سے نکل کر ڈاکٹر کے پاس پہنچ چکے تھے۔ تھانیدار اب بھی ھمارے ساتھ ھی تھا۔ فیضو اور دلشاد کو ڈاکٹر کے پاس چھوڑ کر میں اور رانا صاحب گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے۔ اکرم دلشاد وغیرہ کا خیال کرنے کے لئےان کے ساتھ موجود تھا۔

رانا صاحب اب واپسی کی اجازت مانگ رھے تھے۔ ان کے مطابق ُانہیں کل ھر ُصورت اسلام آباد میں دو میٹنگز اٹینڈ کرنا تھیں ورنہ کروڑوں کا ُنقصان ھو سکتا تھا۔ میں چاھتا تھا کہ رانا صاحب بس چند دن اور رک جائیں۔ اسی لئے میں نے ان کو منانے کی کوشش کی تھی، لیکن رانا صاحب ظاھر ھے اپنی بزنس میٹنگ ھمارے ذاتی مسائل کی خاطر چھوڑ نہیں سکتے تھے۔ انہیں نہ ماننا تھا سو وہ نہ مانے۔

یہی وہ وقت تھا جب ایک جیپ ھماری گاڑی کے بالکل آگے کی طرف آ کے کھڑی ھوگئی۔ ایک جھٹکے سے اس کا دروازہ کُھلا اور اس میں سے ڈانگر بر آمد ھوا۔ اس کے ھاتھ میں وھی مخصوص گن تھی جو ھمیشہ سے اس کی پہچان رھی تھی۔

جیپ دیکھ کر میرا حلق ُخشک ھو گیا ۔یقیناً تھانے اکے اندر سے کسی اھلکار نے چوھدری کے ساتھ وفاداری نبھائی تھی۔

یہ چوھدری کی جیپ تھی جو ھمیشہ اس کے زیر استعمال رھتی تھی۔ تو گویا چوھدری گاؤں میں آ چکا تھا، اور۔۔۔۔۔۔ اس وقت ھم لوگ چوھدری کا سامنا کرنے والے تھے۔

مجھے اپنی سانس رکتی ھوئی محسوس ھوئی۔

رانا صاحب غصّے سے گاڑی کی طرف دیکھ رھے تھے۔ کیونکہ آنے والے نے جس انداز سے اور جتنی رفتار سے گاڑی ھمارے برابر سے گزاری تھی، ھم ڈر گئے تھے۔ ایک دم ایسے لگا کہ شائد گاڑی ھماری گاڑی سے ٹکرا گئی ھو، لیکن ایسا ھوا نہیں تھا۔

"یہ کون بد تمیز ھے۔ اسے گاڑی چلانے کی بھی تمیز نہیں ھے ۔؟" یہ کہ کر وہ میری طرف استفہامیہ انداز میں دیکھنے لگے، گویا سوال کر رھے ھوں کہ آنے والا کون تھا۔ میں نے بمشکل تھوک نگلا، اور رانا صاحب کو بتایا کہ آنے والا چوھدری خادم تھا۔

ایک دفعہ تو رانا صاحب کی آنکھوں میں بھی حیرت نظر آئی، لیکن وہ خوفزدہ بالکل بھی نہیں ھوئے تھے۔

چوھدری خادم بھی اب گاڑی سے باھر آ چکا تھا۔

رانا صاحب بھی اپنی گاڑی سے نکلنا چاھتے تھے، لیکن میں نے انہیں روک دیا۔

"نہیں سر۔ آپ بیٹھئے پلیز۔ پہلے میں نکل کر بات کرتا ھوں سر۔ ھو سکتا ھے انہیں ھمارے ساتھ کوئی کام ھی نہ ھو بلکہ وہ ڈاکٹر سے ملنے آئے ھوں۔ "

رانا صاحب مان گئے اور گاڑی میں ھی رک گئے۔

میں نکلا اور ڈانگر کی طرف دیکھنے لگا۔

ڈانگربھی میری طرف ھی دیکھ ر ھا تھا اور اس کی شعلہ بار آنکھیں گواھی دے رھی تھیں، کہ وہ لوگ اس وقت صرف ھماری وجہ سے ھی وھاں موجود تھے۔ چوھدری خادم ابھی تک گاڑی سے باھر نہیں نکلا تھا۔ لیکن ھمیں پتہ چل چکا تھا کہ وہ بھی گاڑی کے اندر ھی موجود ھے۔

تھانیدار، اکرم اور ڈاکٹر بھی اس وقت تک چوپال سے نکل کر صحن میں آ چکے تھے۔ غالباً وہ بھی جیپ کی آواز سن کر ھی باھر آئے تھے۔

اچانک ڈانگر غصّے سے میری طرف بڑھا۔ میں دل ھی دل میں سوچ رھا تھا کہ کیا کروں۔ دفعتاً تھانیدار کی گونج دار آواز سنائی دی۔

"خبر دار ڈانگر، کوئی غلط حرکت مت کرنا۔"

اورڈانگر رک کر اس کو دیکھنے لگا۔ اس پر گویا حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ چوھدری خادم کا نمک خوار تھانیدار میرے جیسے ایک عام سے آدمی کی حمائت میں ڈانگر کو دھمکی لگا رھا تھا۔ ڈانگر نے اسے گالی نکالی تو تھانیدار بولا۔" میں تمھیں آخری بار وارننگ دیتا ھوں ڈانگر۔۔ ۔ اب تمھارے منہ سے کوئی گالی نہ نکلے۔ اور ھاں۔ اپنی گن بھی گاڑی میں رکھ دو۔ "

تھانیدار اتنی دیر میں اپنا سروس ریوالور بھی نکال چکا تھا۔ یقیناً اسے احساس ھو گیا تھا کہ صورت حال کسی بھی لمحے خراب ھو سکتی ھے۔


Post a Comment

0 Comments