2010 کی بات ہے جب ہم سردیوں کے چھٹیوں پہ گھر آگئے تو ابو نے میرے لئے سکینہ آنٹی کی بیٹی رخسانہ سے ٹیویشن کی بات کی میں ان دنوں ایف ایس سی کے امتحانات کی تیاری کر رہا تھا تو ابو نے کہا رخسانہ بیٹی بہت لائق اور ذہین بچی ہے وہ آپ کو ٹیویشن پڑھائے گی آپ اس سےاتنا سیکھو گے کہ کنکور ٹیسٹ بھی آسانی سے پاس کروگے  (کنکور ٹیسٹ آفغانستان میں پشتو زبان میں ایڈمشن ٹیسٹ لی جاتی تھی ننگرہار میڈیکل یونیورسٹی اور دوسری یونیورسٹیوں کی ایڈمیشن کیلئے ) خیر ہوا بھی ایسا میں نے ان سے بہت کچھ سیکھا اسے بیالوجی کیمیسٹری فزیکس ہر سبجیکٹ پر عبور حاصل تھی۔۔۔  خیر ایک دن جب میں ان کے گھر گیا  تو گیٹ کیپر سے پتہ چلا کہ رخسانہ اپنی بہن کو ریسیو کرنے اسلام آباد ائیر پورٹ چلی گئی ہے اور پتہ نہیں کب تک آئیگی اس کی امی،، میڈم بھی شاید گھر پہ نہیں ہے تو میں نے اس سے کہا کہ جی ٹھیک ہے میں کچھ دیر اندر بیٹھ کے ویٹ کروں گا اگر وہ جلدی نہ آئی تو پھر میں بھی چلا جاوں گا. اس نے گیٹ کھولا اور مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا جب میں اندر ڈراینگ میں چلا گیا اور بیٹھ کے اپنی بکس اوپن کی آج واقعی پڑھائی میں دل نہیں لگ رہا تھا میں نے کتابیں بند کی اور پانی پینے کیلئے اٹھا۔ کولر جو دروازے کے پاس ہی پڑا تھا میں جب وہاں گیا تو میرے کانوں سے کچھ آشنا آشنا سی آوازیں ٹکرانے لگی میں نے سوچا چچا نے تو گیٹ پہ مجھے بتایا تھا کہ گھر میں کوئی نہیں ہے پھر یہ آوازیں کیسی جب میں نے کھڑکی سے جھانکا تو سامنے والے کمرے میں غفور چچا جو ان کے مالی تھے انہوں نے رخسانہ کی امی کو اپنی گود میں بٹھایا تھا غفور چچا جسم سے بہت پتلے تھے اور آنٹی کا جسم گوشت سے بھرا ہوا تھا جسم کا ہر حصہ ابھرا ہوا تھا  پیٹ بھی ابھرا ہوا تھا لیکن یہ سب میں کیا دیکھ رہا تھا مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا خیر میں نے ان کی باتوں میں دلچسپی لینا شروع کی کہ آخر یہ سب کیا ماجرا ہے آنٹی چچا سے کہہ رہی تھی کہ میری جان آج جتنا رومینس کر سکتے ہو جی بھر کے کرو آج میری دوسری بیٹی ثمرین بھی اٹلی سے آرہی ہے ایک مہینے کی چھٹی ہے اسکی پھر شاید کوئی موقع نہ ملے کیونکہ اگر ایک بیٹی گھر پر نہیں ہوگی تو دوسری تو ضرور ہوگی پھر پورے ایک مہینے کیلئے ہم ایک دوسرے کیلئے ترستے رہینگے چچا ایک ہاتھ سے اس کی ممے سہلاتا رہا اور اسکی باتیں بڑی غور سے سن رہا تھا غفور چچا نے بھی کہا کہ ہاں نہ میں تو تمہارے بغیر پاگل ہوجاوں گا روز جب پھول پودوں کو پانی دینے آوں گا تو اپنے پھول کو اپنے پاس پاکر بھی کچھ نہیں کر سکوں گا اور میں آپ کے بغیر ایک مہینہ کیسے رہ لوں گا کیونکہ 25 سال سے میں آپکے جسم کی نشے سے روز مسرور ہوتا آیا ہوں ان 25 سالوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جس میں تم نے مجھے اپنے باہوں کی خوشبووں میں سلایا نہ ہو اور تمہیں تو پتہ بھی ہے کہ یہ دو لڑکیاں بھی میری ہی بیٹیاں ہیں تمہارے شوہر جب بزنس ٹرپ سے آرہے ہوتےتھے تو تم پریگنٹ ہوتی تھی یہ تو شکر ہے کہ اس وقت آپکا پیٹ زیادہ نہیں نکلا ہوتا تھا تو اسے شک بھی نہیں ہوتا تھا پھر جب وہ دوبارہ جاتے تو آپ ایک مہینے بعد پھر اسے بتاتی کہ آپ پریگننٹ ہوچکی ہے اور وہ میری اولاد پہ خوش ہوتا ۔یہ سب میں کیا سن رہا تھا ثمرین اور رخسانہ بزنس ٹایکون تنویر کے بیٹیاں نہیں بلکہ اس کے گھر میں کام کرنے والے مالی یعنی غفور چچا کی محبت کی جیتی جاگتی نشانیاں تھیں یہ سن کے تو مجھے ایسا لگا جیسے میرے پیروں کے نیچے زمین کھسک گئی ہو آنٹی نے اسے کہا کہ جی جان یہ آپکی ہی آمانت ہے لیکن اس راز کا کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہئے چچا اب  فل موڈ میں تھا  میں نہیں جانتا تھا کہ غفورچچا میں کیا خاص بات تھی لیکن اتنا تو جانتا تھا کہ اس  میں تو ایسی کوئی خاصیت ہے جس نے جوان لڑکیوں کی ایک امی کو اپنا دیوانہ بنایا تھا آنٹی نے کہا کہ میری جان اب یہ باتیں چھوڑ دو اور مجھے میرا فیورٹ مٹھو دکھاو جس  کیلئے کل سے میں تڑپ رہی ہوں پھر دونوں کپڑوں کی قید سے آزاد ہو گئے تھے آنٹی کی کالی بلی میرے سامنے آگئی مجھے اس وقت پکا یقین ہوگیا کہ کسی نے سچ کہا ہے کہ اگر کالی بلی راستہ کاٹ لیں تو پھر انسان کے ساتھ برا ہی ہوتا ہے آج میرے ساتھ بھی برا ہونے والا تھا خیر چھوڑے یہ سب ۔آنٹی کی بلی دیکھتے ہی میرے چودا طبق روشن ہوئے جتنا غفور چچا کا مٹھو بڑا تھا اس سے زیادہ  بڑی تو آنٹی کی بلی لگ رہی تھی جس کا منہ مسلسل اوپن کلوز ہورہا تھا  اس کے ارد گرد والے مونچھوں کے بال بھی بلی کے پانی سے تر ہوچکے تھے میں نے ذہن میں ایک شرارت سوجھی کہ آنٹی کا ملنا تو ویسے بھی میرے بس کی بات نہیں ہے کیوں نہ میں انکی ویڈیو بنا کر پھر اپنے گھر جاکے ویڈیو دیکھتے دیکھتے  خود کو تسکین پہنچا دوں میں نے جیسے ہی اپنے پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالا تو مجھے اندازہ ہوگیا کہ میرا اپنا بلا انگڑایئاں لے رہا تھا خیر میں آفسوس کے سوا کچھ نہ کرسکا اور موبایل نکال کر ویڈیو بنانے لگا اب میں انہیں موبایل کی سکرین سے دیکھ رہا تھا چچا نے اپنی انگلیوں کی مدد سے اس کی بلی کی منہ اوپن کیا اف کیا بلی تھی باہر سے کالی ڈراونی والی بلی اندر سے بلکل  پنک کلر کی تھی ایسا گوشت تھا اس کی بلی کا کہ تعریف کیے بنا مجھ سے بھی رہا نہ گیا  میں جیلسی سے پانی پانی ہورہا تھا اب انکی باتیں ختم ہوچکی تھی اور نیچے ٹورنمنٹ سٹارٹ ہوا تھا چچا مسلسل چھکے چوکے مار رہا تھا چچا اوٹ ہوگئے ساتھ ہی آنٹی نے بھی کھیل ختم کرنے کا اشارہ دے دیا ابھی پانچ منٹس ہوئے ہونگے اس کھیل کے ختم ہونے کے کہ اتنے میں  رخسانہ کی کال آئی امی سے کہہ رہی تھی کہ وہ ادھے گھنٹے میں پہنچ جاینگے اگر کچھ چاہئے تو بتادیں آنٹی نے شہد لانے کو کہا اور کال کاٹ دی اب آنٹی اور غفور چچا دونوں جلدی جلدی اٹھے اپنے اپنے  کھلاڑیوں کو صاف کرکے آگلے ٹورنامنٹ کا خواب اپنے آنکھوں میں لیکر بیڈ روم سے نکل گئے.

Post a Comment

0 Comments