QADIYANI

 کادیانی مذہب دور حاضر کا ایک فتنہ ہے جس کی شروعات انیسویں صدی کے آخر میں ہندوستان کے علاقے کادیان میں ہوئی جس نے پہلے تو لوگوں کے سامنے حضرت امام مہدی اور پھر اس کے بعد عیسیٰ ابن مریم ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر دیا

اور اسی اعلان کے بعد سے برے صغیر پاکو ہند میں اس باطل فرقے کی بنیاد رکھی گئی یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے اردگرد سیکڑوں ایسے لوگ ہیں جو کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنا مسیحہ مانتے
اور اس جھوٹے قادیانی مذہب کو فولو کرتے ہیں اور ایسے ہی چند مشہور ترین لوگوں کا ذکر ہم آج کی اس ویڈیو کے اندر کریں گے انفویو کی نئی ویڈیو میں ایک پار پھر سے خوش آمدید
نمبر ایک ڈاکٹر عبدالسلام ڈاکٹر عبدالسلام سال انیس سو چھبیس کو پنجاب کے زلہ جھنگ میں پیدا ہوئے اور وہ ایسے سائنسدان تھے جنہوں نے اپنی اجادات
اور کامالات کا لوحہ پوری دنیا کے اندر منوا رکھا ہے وہ کئی عرصہ تک پاکستان میں مشیر سائنس کے عہدے پر بھی فائز تھے مگر سال انیس سو چھے اتر میں جب کادیانیوں کو کافر
قرار دینے کا قانون منظور ہوا تو ڈاکٹر عبدالسلام نے احتجاجن استیفہ دے دیا اور پھر بیرون ملک چلے گئے تاہم آج کچھ لوگ ان کو غدار وطن سمجھتے ہیں
تو کچھ لوگ محسن پاکستان نمبر دو مبشر لکمان مبشر لکمان ایک پاکستانی فلم ڈائریکٹر کولم نگار رائٹر اور پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ بھی رہ چکے ہیں
مباشر لکمان اکثر نیوز چینل پر کڑوے سچ بولنے پر مشکلات میں گرے رہتے ہیں لیکن ساتھ اساتھ یہ بھی ایک کادیانی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر نیوز چینل پر اپنے ساتھی غیر مسلموں کے ساتھ مل کر
اس بات پر تجزیہ کرتے ہیں کہ کس طرح پاکستان غیر مسلموں کے لیے ایک غیر محفوظ ملک ہے نمبر تین نجم سیٹھی نجم سیٹھی ایک پاکستانی صحافی، رائٹر، تجزیہ نگار
اور پاکستان کریکٹ بوٹ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں انہوں نے وفاقی نگران وزیر اور وزیرعالہ پنجاب کے طور پر بھی کام کیا اور بحیثیت صحافی وہ ایک آزاد خیال آدمی ہیں
وہ اکثر اپنے اخباروں کے اندر کادیانیوں کے حق میں آوازیں بلند کرتے ہیں انہوں نے شادی بھی ایک کادیانی خاتون یعنی جگنو محسن کے ساتھ کی اور اب ان دونوں کی بیٹی میرا سیٹھی ایک کامیاب اداکارہ ہیں
جبکہ ان کا واحد بیٹا علی سیٹھی ایک ہم جنس پرست ہے جو کہ آج نجم سیٹھی کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے نمبر چار آسمہ جہانگیر
آسمہ جہانگیر ایک پاکستانی انسانی حقوق کی وکیل اور سماجی کارکن تھی جنہوں نے ہیومن رائٹس کمیشن کی بنیاد رکھی اور اس کی سربراہی بھی کی وہ بھی ایک قادیانی تھی اور عورتوں اور غیر مسلموں کے لیے آوازیں بلند کرتی تھی
جس کی وجہ سے مذہبی علماء ان کے خلاف اکثر فتوے بھی جاری کرتے ہی رہتے تھے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بارے میں
بہت سارے لوگوں کا یہی کہنا ہے کہ وہ بھی ایک چھپے ہوئے کادیانی تھے کیونکہ ان کا اور ان کی فیملی کا کادیانیوں کے ساتھ اکثر ملنا جلنا رہتا تھا سلمان تاثیر اکثر اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بکواس کرتا ہی رہتا تھا
اور پھر آہستہ آہستہ اس نے ملک کے توہین رسالت پر مبنی قوانین کو کالے قوانین کہنا شروع کر دیا جس کے بعد سلمان تاثیر کے اپنے ہی ایک گارڈ یعنی ممتاز قادری نے اس کو ستائیس گولیاں مار کر جہنم واصل کر دیا
نمبر چھے منصور اجاز منصور اجاز سال 1961 میں امریکہ کے اندر پیدا ہوئے جو کہ ایک عرب پتی بزنس مین ہے وہ پچھلے بیس سالوں سے امریکی خفیہ ادارے
سی آئی اے کے لیے کام کر رہے ہیں اور سی این این فوکس نیوز اور دیگر بڑے بڑے نیوز چینل پر بھی ایک تجزیہ نکار کے طور پر کام کرتے ہیں منصور اجاز کا تعلق بھی کادیانیت کے ساتھ ہی منسلک ہے
نمبر ساتھ سائرہ وسیم سائرہ وسیم لاہور سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی نزاد امریکی پینٹر اور آرٹسٹ ہیں جنہوں نے اپنا بچپن اور تعلیم لاہور کے
نیشنل کولیج آف آرٹ سے حاصل کی اور پھر اس کے بعد امریکہ چلی گئیں وہ آج کل امریکہ کے اندر ہی اپنا پینٹنگ کا کام کرتی ہیں تاہم ان کی زیادہ تر پینٹنگ
آزاد خیال اور ایسی ہیں جنہیں پاکستانی معاشرے کے اندر قبول نہیں کیا جا سکتا نمبر آٹھ ڈاکٹر مجدد احمد اجاز ڈاکٹر مجدد احمد ڈاکٹر
عبدالسلام کے کزن ہیں اور انہی کی طرح ایک سائنس دان اور قادیانی مذہب کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ وہ ایک سائنس دان کی حیثیت سے پاکستان کی جہوری تاوانائی کمیشن کے اندر کئی خدمات دے چکے ہیں۔
لیکن سال انیس سو چھیتر میں جب کادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تو انہوں نے بھی ملک چھوڑ کر امریکہ شفٹ ہونے کا فیصلہ کیا نمبر نو عاطف رحمان میاں عاطف رحمان دنیا کے پچیس
بہترین معیشت دانوں میں سے ایک ہیں ان کو عمران خان نے سال دوہزار اٹھارہ میں وزیراعظم بننے کے بعد اپنی ایکونومک ایڈوائزری ٹیم میں شامل کیا لیکن بعد میں جب پاکستانیوں کی طرف سے ان کے کادیانی ہونے کی وجہ سے
رد عمل دیکھنے کو ملا تو عاطف رحمان میاں کو مجبوراً ان کے عہدے سے ہٹانا پڑا سر زفر اللہ خان مشہور ڈپلومیٹ کانوندان اور پاکستانی سیاستدان تھے
وہ 1947 تک فیڈرل بورڈ آف انڈیا کے جج بھی رہے اور ان کو انگریزوں کی طرف سے سر کا خطاب بھی دیا گیا پاکستان بننے کے بعد انہیں پاکستان کے اندر بھی بڑے بڑے عہدوں سے نوازا گیا
تاہم ان کا تعلق بھی کادیانی مذہب کے ساتھ ہے نمبر گیارہ سابر زفر تمگہ امتیاز حاصل کرنے والے رائٹر سابر زفر نے ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار
اور میری ذات ذرہ بے نشان جیسے گانے لکھ کر تہلکہ مچا رکھا ہے اور اس کے علاوہ ان کی شائری بھی دنیا بر میں کافی پسند کی جاتی ہے مشہور شائر سابر زفر کا تعلق
بھی کادیانیت کے ساتھ ہی ہے نمبر بارہ سکندر مرزا سابق صدر پاکستان سکندر مرزا کے بارے میں بھی بعض لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ ان کا تعلق بھی کادیانی مذہب کے ساتھ تھا
تاہم اس بارے میں کوئی بھی خاص تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی نمبر تیرہ میجر جنرل افتخار احمد جنجوہ ہلار پاکستان اور ستارہ امتیاز حاصل کرنے والے افتخار احمد جنجوہ بھی ایک کادیانی تھے
انہوں نے انیس سو پینسٹھ اور انیس سو اکتر کی جنگ میں پاکستان کے لیے خدمات دیں اور انیس سو اکتر کی جنگ میں کشمیر کے مقام پر ہیلیکوپٹر تباہ ہونے پر ان کی موت واقعہ ہو گئی
نمبر چودہ مرزا مظفر احمد مرزا مظفر احمد کادیان چہر میں پیدا ہوئے جو کہ ایک ماہر سفارتکار تھے انہوں نے انیس سو سنتالیس کے بعد پاکستان آنے کا فیصلہ کیا لیکن ان پر بعد میں پاکستان کے اندر حملہ ہو گیا اور وہ امریکہ جا کر آئی ایم ایف کے ایک میمبر بن گئے بعد میں ان کو ورلڈ بیک کا ایگزیکیٹیو ڈائریکٹر بنا دیا گیا لیکن ان کا تعلق بھی قادیانی مذہب کے ساتھ ہی منسلک تھا
نمبر پندرہ لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین ملک افتخار حسین ملک انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے ہیرو سمجھے جاتے ہیں جنہوں نے اس جنگ میں دشمن کی
ہر چال کا مہ توڑ جواب دیا ان کو حلال جراج سے بھی نوازا جا چکا ہے اور پہلے پہل قومی نساب کے اندر انیس سو پینسٹھ کی جنگ کے حوالے سے ان کے نام سے پورا ایک مضمون تھا کی وجہ سے اس کو ہٹا دیا گیا

Post a Comment

0 Comments