امجد صاحب ہمارے محلے کے ایک شریف آدمی تھے ان کی عمر 50 سال تھی مگر دکھنے
میں 60 سال کے لگتے تھے کیونکہ وہ شوگر کے مریض تھے پچھلے 18 برس سے وہ
سعودی عرب مقیم تھے 3 یا 4 سال بعد گھر چکر لگاتے اور 1 یا 2 ماہ رہ کر چلے جاتے امجد
صاحب کی فیملی میں ان کی بیوی اور 4 بچے تھے ان کی شادی اپنی خالہ زاد سے ہوئی تھی
جس کا نام راحیلہ تھا وہ ایک باوقار عورت تھی پیسوں کی فراوانی نے اسے 4 بچوں کی
پیدائش کے بعد بھی بوڑھا نہیں ہونے دیا تھا ۔
حالانکہ بچے اب جوان ہو چکے تھے لیکن راحیلہ دکھنے میں ان کی ماں نہیں بڑی بہن لگتی
تھی خاوند کی تمام جمع پونجی اسی کی ہاتھ میں تھی خاوند کے ساتھ ساتھ پوری فیملی کا
راحیلہ پر اندھا اعتماد بھی تھا راحیلہ کے پاس خاوند کے علاوہ دنیا کی ہر چیز موجود تھی
وہ اکثر امجد صاحب سے اس بات پر لڑتی کی وہ اب واپس آجائیں ساری زندگی تنہا
نہیں گزار سکتی مجھے آپ کی توجہ مطلوب ہے۔امجد صاحب چونکہ کاروباری آدمی تھے
اور بڑی محنت سے سعودی عرب کاروبار سیٹل کیا تھا اس لیئے ان کا گھر آنا اتنا آسان
نہیں تھا راحیلہ جب بھی واپس آنے کی بات کرتی امجدصاحب کوئی نہ کوئی بہانا بنا کر
اسے ٹال دیتے
اس دفعہ تو انھیں آئے ہوئے ہوئے 5 سال گزر چکے تھے راحیلہ کی شادی کو 18 سال
گزر چکے تھے لیکن امجد صاحب اس دوران صرف 4 یا 5 بار ہی گھر آئے تھے وہ بھی
صرف ایک یا2 ماہ کیلئے راحیلہ ایک کھاتی پیتی جوان عورت تھی
اور ظاہر ہے جزبات تو ہر انسان کے ہوتے ہیں راحیلہ جتنا برداشت کر سکتی تھی اس نے
کیا اور خود پر قابو رکھا لیکن شائد اب اس کی برداشت ختم ہو چکی تھی اسے اب ایک
سہارے کی ضرورت تھی جو اس پر توجہ دیتا اس کا خیال رکھتا اس کی ضرورت پوری
کرتا۔
گھر کے سارے معملات راحیلہ ہے سنبھالتی تھی اب اسے چھٹے بیٹے کیلئے ٹیوشن ٹیچر کی
ضرورت تھی سر نوید راحیلہ کی دوست کے خاوند تھے اورگھر میں بچوں ٹیوشن بھی
پڑھاتے تھے نوید صاحب میں اپنے بچے کو آپ کے گھر پڑھنے نہیں بھیجوں گی بلکہ آپ
نے میرے بیٹے عمر کو پڑھانے ہمارے گھر آنا ہے ۔
میں آپ کو ڈبل فیس دوں گی نہیں بھابھی اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں کل سے
ادے پڑھانے آجاوں گا اگلے دن سر نوید عمر کو پڑھانے ان کے گھر چلے گئے آیئے
آیئے نوید صاحب میں آپ کا ہی انتظار کر رہی تھی عمر کے نہانے تک میں آپ کے
لیئے چاہے بناتی ہوں آپ تشریف رکھیں سر نوید ایک پڑھے لکھے اور پرسنیلٹی والے
انسان تھے
راحیلہ ان کی پرسنلٹی سے بہت متاثر ہو چکی تھی اور دوسری طرف نوید سر کی بھی یہ ہی
حالت تھی ان کی اپنی بیوی پڑھی لکھی تو تھی مگر تھوڑی سادی تھی عمر کو پڑھانے کے
بعد کافی دیر راحیلہ کے پاس بیٹھے رہتے وہ ان کیلئے چاہے بناتی اور پھر ایک ساتھ لطف
اندوز ہوتے راحیلہ اب امجد صاحب سے ہت دور ہو چکی تھی
جو ہر وقت امجد صاحب کی کال کی منتظر رہتی تھی اب اگر امجد صاحب کی کال آجاتی تو
موبائل نہ اٹھاتی اور ان کے پوچھنے پر کوئی نہ کوئی بہانہ بنا دیتی مہینے میں ایک 2 دفعہ
بات کرتی پھر مہینے کے آخر میں ان سے بات کرتی امجد صاحب کی محبت اب اس کے
دل میں پیسوں کی حد تک رہ گئی تھی
راحیلہ اب سر نوید سے اپنے دکھ سکھ بانٹنے لگی راحیلہ کو جو پیار اور وقت امجد صاحب
سے نہ مل سکا وہ اب سر نوید سے ملنے لگا شائد اسے وہ سہارا مل چکا تھا جس کی ادے
ضرورت تھی ایک دن وہ یہ ہوا جس کا ڈر تھا ہماری گلی میں ایک شور سابرپا تھا میں گھر
سے باہر نکلا تو کچھ لوگوں نے سر نوید کو گریبان سے پکڑا ہوا تھا
یہ کہانی بھی لازمی پڑھیں ماں کی غفلت اور جوان بیٹی
دراصل راحیلہ کے دیور نے ا دونوں کو قابل اعتراض حالت میں پکڑ لیا تھا سب لوگ
راحیلہ کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے تھے کہ نوجوان بیٹوں کی ماں ہو کر
شرم نہیں آئی منہ کالا کرتے ہوئے یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ سر نوید اور راحیلہ نے
بہت غلط کام کیا لیکن میرے خیال میں راحیلہ پر یہ نوبت امجد صاحب کی وجہ سے آئی
تھی
امجد صاحب بھی اتنے کی گناہگار تھے جتنی کہ راحیلہ جو کاروبار کی وجہ سےاپنی بیوی
کے حقوق ہی بھلا بیٹھے تھے

0 Comments