کہیں دھڑکن رک نا جائے
حاشر جانتا تھا عائشہ بن موت ماری جائے گی اجمل جیسا درندہ اس شہزادی کو ہر سانس تڑپائے گا حاشر گھر آیا عائشہ کے بارے سوچ رہا تھا اتنے میں اجمل پاس آیا اوئے ڈاکٹر کیسی ہے میری ہونے والی بیوی اجمل نے شراب پی ہوئی تھی حاشر اجمل سے کہنے لگا یار وہ لڑکی بہت معصوم ہے توں یہ سب بُری عادتیں چھوڑ کیوں نہیں دیتا۔اس کو سگریٹ کے دھوئیں سے الرجی ہے اور تم تو شرابی ہو۔اس کو نماز ادا کرنے والا ہمسفر چاہئے اور تم۔
اجمل حاشر کی طرف دیکھ کر بولاکیا بکواس کر رہے ہو تم تمہاری نیت کیا ہے حاشر آہستہ سے بولا میری نیت میں بس اس شہزادی کواجمل چلا کر بولا ہاں کیا اس شہزادی کوحاشر خاموش ہو گیا اور چلا گیا وہاں سے۔تم سے بات کرنا ہی فضول ہے اجمل نے آواز دی بات مکمل کر کے جا۔حاشر گھر چلا گیا بہت پریشان تھا کیا کروں میں کیسے اس لڑکی کو بچاوں اس قیامت سے ۔ دو دن بعد منگنی ہےمجھے کیسے بھی کر کےیہ رشتہ ختم کروانا ہو گاحاشر نے اپنی امی سے بات کی امی وہ عائشہ بیچاری جانتی بھی نہیں اجمل کتنا گھٹیا انسان ہے۔وہ بیچاری مر جائے گی
امی نے کہا بیٹا ہم کیا کر سکتے ہیں تم کو پتہ تو ہے تمہارے تایا لوگوں کاتم چپ رہو ہم کو کیا لینا دینا ان کے گھر کے معاملات سے حاشر آہستہ سے بولا امی لیکن میں ایسا نہیں ہونے دوں گا امی نے سمجھایا ایسا کچھ نہ کرنا سمجھ آئی حاشر نے سوچا کیوں نا عائشہ سے بات کروں لیکن عائشہ میری بات کا یقین کرے گی ہی کیوں؟ حاشر کچھ نہ کر سکا دونوں کی منگنی ہو گئی عائشہ بہت خوش تھی عائشہ اجمل کے پاس کھڑی تھی
اجمل سے پوچھنے لگی آپ سے ایک بات پوچھوں اجمل نے ہاں میں سر ہلایا عائشہ مسکراتے ہوئے بولی آپ مسکراتے کیوں نہیں ہیں اجمل اکتا کر بولاکیا پاگلوں کی طرح ہنسنا شروع کر دوں ؟ عائشہ کو عجیب سا لگا یہ لہجہ اتنے میں اجمل کے دوست نے بات مذاق میں ڈال دی اجمل بھائی مذاق کر رہے ہیں عائشہ خاموش ہو گئی اجمل اپنے دوست سے کہنے لگا ۔یار بندی تو بڑی مست ہے لیکن سوال بہت کرتی ہے ۔حاشر بے بسی میں دیکھ رہا تھا عائشہ کی جانب ۔عائشہ چیخ چلا رہی تھی اجمل مجھے معاف کر دومیں نے جان بوجھ کر کپڑے نہیں جلائے وہ استری خراب ہے اسلیے شرٹ جل گئی
اجمل درندے کی طرح عائشہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹنے لگا تم کو پتہ ہے میں کل لے کر آیا تھا نئی شرٹ تم نے جلا دی تم ہر وقت کارٹون دیکھتی رہتی ہو۔آج تم کو سزا دوں گا گرم استری اجمل نے عائشہ کے ہاتھ پہ رکھ تھی۔۔عائشہ درد سے چیخ اٹھی اجمل میں مر جاوں گی میں نہیں دیکھوں گی کبھی کارٹون مجھے معاف کر دو۔عائشہ کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا عائشہ جہنم میں پھنس گئی تھی اتنے میں اذان کی آواز سن کر حاشر کہ آنکھ کھل گئی گھبراہٹ میں جلدی سے اٹھا یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے میں خواب دیکھ رہا تھا یہ سچ نہیں تھامیں کیا کروں ایسا۔عائشہ کو میں صرف اسلیئے نہیں برباد ہونے دے سکتا کے اجمل میرا تایا زاد بھائی ہے
اجمل کوئی بھی ہوکسی کو کوئی حق نہیں کوئی کسی کو برباد کرے حاشر عائشہ سے بات کرنا چاہتا تھا لیکن کیسے بات کرتا کوئی ثبوت کیسے دیتا عائشہ کیسے یقین کرتی ادھر اجمل کو شک ہو گیا تھا حاشر یہ شادی رکوانا چاہتا ہےحاشر ایک درندہ صفت انسان تھاحاشر کے کلینک پہ آیاحاشر کو الگ کمرے میں بلایا سنا ہے توں میری شادی رکوانا چاہتا ہے دیکھ اگر تم نے کوئی بھی ایسا کام کیا تو میں بھول جاوں گا کے تم میرے بھائی ہو اسلیے دھیان رکھنا حاشر خاموش ہو گیا عائشہ کا نمبر لیا کسی طریقے سے اسے کال کی عائشہ میں حاشر بات کر رہا ہوں
اجمل کا بھائی مجھے تم سے کوئی ضروری بات کرنی ہےعائشہ چونک کر بولی جی کیا کہنا ہے آپ کوحاشر نے اجمل کے بارے سب کچھ بتایا اجمل اچھا انسان نہیں ہےوہ تم کو فنا کر دے گا بہتری اسی میں ہےتم اس کو چھوڑ دوعائشہ ہنسنے لگی میں سب جانتی ہوں مجھے اجمل جی نے سب بتایا آپ کے بارے میں آپ اتنے گھٹیا انسان کیسے ہو سکتے ہیں اجمل جی آپ کے بہن کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتے تو کیا آپ یوں اجمل جی کے بارے میں غلط بولیں گےاجمل جی نے مجھے کال کر کے سب بتا دیا تھا کے تم یہ شادی روکنا چاہتے ہو گھٹیا انسان شرم آنی چاہئے تم کو حاشر سمجھ گیا تھا
اجمل کھیل کھیل چکا ہےعائشہ نے اجمل کو فون کیامیرے شہزادے جان آپ سچ کہہ رہے تھے آپ کے کزن نے کال کی تھی مجھے وہ گھٹیا انسان آپ کے بارے بہت غلط بول رہا تھامیں نے اس کو صیح بے عزت کیا ہے کمینہ انسان ہے وہ۔ اجمل مسکرایا میری شہزادی بہت اچھا کیا تم نے۔اجمل نے ہاتھ میں شراب پکڑی ہوئی تھی بس تم کسی پہ اعتبار نہ کرنا حاشر گھر میں تھا اجمل نشے میں گھر آیا ہنگامہ برپا کر دیااجمل نے حاشر کو گولی مار دی گولی حاشر کے کندھے میں پیوست ھو گئی اجمل گالیاں دینے لگا کہا تھا نا عائشہ سے دور رہنا ۔تم کو آج زندہ نہیں چھوڑوں گا
حاشر کے کندھے سے خون بہہ رہا تھا مسکرا کر بولادیکھ اجمل بھائی تیری رگوں میں جو خون ہے وہی خون میری بھی رگوں میں ہے تم ایک لڑکی کو پہلے برباد کر چکے ہو۔ اب حاشر کے جیتے جی تم اس معصوم کو فنا نہیں کر سکتےاجمل نے ایک اور گولی چلا دی وہ سر کو چھو کر چلی گئی حاشر زمین پہ گر گیا سارا محلہ اکھٹا ہو گیابہت بڑا تماشہ کیا تھا اجمل نے اجمل کے امی ابو نے فیصلہ کیااس کی جلد شادی کروا دیتے ہیں۔ہو سکتا ہے یہ سدھر جائے گا شادی کے بعد۔ لڑکی اچھی ہےسدھار لے گی اسے۔حاشر کیا کرتا اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ادھر ایک ہفتے بعد کی ڈیٹ رکھ دی تھی شادی کی
حاشر کی ماں نے ہاتھ جوڑے حاشر کے سامنے بیٹا ۔دور ہو جا اس کمینے سے وہ لڑکی ہماری لگتی ہی کیا ہے وہ اسے ماریں قتل کریں کچھ بھی کریں ہم کو اس سے کیاحاشر امی کی طرف دیکھ کر بولا امی اگر ایسا ہی کوئی رشتہ ہماری چھوٹی کے لیے آیا ہوتا تو وہ لوگ انجان ہیں اس کے کردار سےوہ لوگ بڑا گھر امیری دیکھ کر بیٹی کا سکھ تلاش کر رہے ہیں لیکن وہ حقیقت نہیں جانتے ہمارا فرض ہے ان کو سچ بتانا امی اگر وہ لڑکی خاک ہوئی تو اللہ ہم کو کبھی معاف نہیں کرے گا کیوں کے ہم جانتے ہوئے بھی برائی کا ساتھ دیں گے کسی ماں باپ کی بیٹی پہ قیامت گزر جائے گی
آپ نے نہیں دیکھا تھا اجمل نے کتنے ظلم ڈھائے تھے پہلی بیوی پہ ماں خاموش ہو گئی حاشر سوچ میں گم تھا کیا کرے کل شادی تھی بارات دروازے پہ تھی عائشہ بہت خوش تھی بہت خوش دلہن بنی ہوئی تھی بلکل شہزادی لگ رہی تھی کسی گڑیا کی مانندہاتھوں میں چوڑیاں مہندی لگائی ہوئی اجمل کے ساتھ جینے کے خواب دیکھ رہی تھی اجمل کو شراب کی طلب ہو رہی تھی دلہا بنا ہوا تھا اپنے دوست سے بولا یار جسم ٹوٹ رہا ہے شراب پلا دوست بولا یار نکاح کے بعد پی لینا اجمل غصے سے بولا شراب پلا یارنکاح کون سا کسی شہزادی سے ہو رہا ہے
رہنا تو اس نے میرے جوتے کے نیچے ہی ہے نا۔عائشہ کو حاشر نے کال کی عائشہ میری بات دھیان سے سنو فون بند نہ کرنا عائشہ غصے سے بولی گھٹیا انسان پھر فون کر دیا تم نے عائشہ نے فون بند کر دیاحاشر اجمل کی پہلی بیوی سے ملا تھا ۔۔اس کی پہلی بیوی کے پاس اجمل کے ظلم ڈھانے کی ایک دو ویڈیو موجود تھی حاشر نے وہ ویڈیو۔۔عائشہ کو بیجھی عائشہ بہت خوش بیٹھی ہوئی تھی ماں نے کہا بس مولوی صاحب آ رہے ہیں۔نکاح پڑھانے۔ادھر عائشہ نے ویڈیو اوپن کی اجمل جانور کی طرح ایک لڑکی کو مار رہا تھا اتنا تشدد کر رہا تھا کے وہ لڑکی بے ہوش ہو گئی مار کھاتے کھاتے۔ حاشر نے مسیج کیا عائشہ یہ اجمل۔کی پہلی بیوی ہےوقت بہت کم ہےفیصلہ تمہارا ہےفنا ہونا یا زندگی کی جانب بڑھنا عائشہ کانپنے لگی
کیا کروں سر چکرانے لگا۔ماں نے پوچھا کیا ہوا ہے عائشہ نے ویڈیو دکھائی ماں کا سانس رک گیا ماں بے جان سی ہو کر گر گئی مولوی صاحب آ گئے نکاح شروع کیا جائے عائشہ رو رہی تھی عائشہ کے ابو نے پوچھا تیری ماں کو کیا ہوا ہے عائشہ ابو کے سینے سے لگ گئی رونے لگی ابو ہم۔کو بچا لوابو ہم مر جائیں گے ابو نے سر پہ ہاتھ رکھا کیا ہوا میری بچی عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے ابو کو ویڈیو دکھائی ابو تڑپ گئے ۔اجمل کا باپ بھی پاس کھڑا تھا عائشہ کے بابا نے پوچھا بھائی صاحب یہ سب کیا ہے۔ اجمل کا ابو بولا۔وہ لڑکی ٹھیک نہیں تھی اب تو میرا بیٹا ویسے بھی ٹھیک ہو گیا ہے
عائشہ کے بابا نے کہاکل۔کو میری بیٹی ٹھیک نہ ہوئی تو یوں ظلم کرے گا ہم یہ شادی نہیں کرنا چاہتے وہاں ایک الگ ہنگامہ برپا ہو گیا اجمل کو پتا چلا ۔چلانے لگا اجمل نے دھمکی دی اگر شادی نہ کی تو عائشہ کو گولی مار دوں گا ۔اجمل بہت چیخا چلایا پولیس کو بلوا لیا گیااجمل غصے سے کار میں بیٹھا اس حاشر کو قتل کر دوں گا اس کو منع کیا تھا میں نے۔ تیز رفتار سے گاڑی چلا رہا تھا۔ادھر بارات واپس چلی گئی حاشر عائشہ کے گھر پہنچا ۔عائشہ نے حاشر کو دیکھا دوڑتے ہوئے حاشر کےپاس آئی آپ نہ ہوتے تو میں مر جاتی رونے لگی۔۔حاشر نے پیار سے سمجھایا سب حاشر کا شکریہ ادا کرنے لگےاب سوچ رہے تھے عائشہ کی شادی اس کے کزن سے کروا دیتے ہیں لیکن عائشہ آگے بڑھی حاشر میں چاہتی ہوں
آپ میرا ہاتھ تھام لیں میں آپ کے ساتھ جینا چاہتی ہوں حاشر نے سب کی طرف دیکھا پھر ہاتھ آگے بڑھایا سب کی رضا مندی سے عائشہ اور حاشر کا نکاح ہو گیاعائشہ بہت خوش تھی ادھر غصے سے گاڑی چلاتے ہوئے اجمل۔کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ دونوں ٹانگوں سے معذور ہو گیا اس کی ریڑھ کہ ہڈی ٹوٹ گی وہ زندگی بھر کے لیئے اپاہج ہو گیا خدا نے اسے اس کے کرموں کی سزا دے دی تھی حاشر عائشہ کے ساتھ بہت خوش تھااب حاشر بھی ساتھ بیٹھ کر ڈورے مون۔ موٹو پتلو اور بلی چوہے والے کارٹون دیکھتا ہے حاشر سب سے مخاطب ہوااپنے آس پاس ۔اپنے ارد گرد یا اپنے خاندان میں اگر کوئی اجمل سا درندہ ہے آپ سمجھتے ہیں وہ درندہ کسی شہزادی کو برباد کر دے گا تو بہتر ہےاللہ کی رضا کی خاطر اس لڑکی کو یا اس کے گھر والوں کو سچائی بتانے کی کوشش کریں آپ کی وجہ سے کوئی بے گناہ شہزادی فنا ہونے سے بچ جائے گی
یا پھر کوئی اگر اجمل جیسا درندہ ہےجو اپنی ہمسفر پہ ظلم ڈھاتا ہے قیامت برپا کرتا ہے وہ خود کو بدل لے ورنہ اللہ کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے آخر ایک دن اس کی پکڑ میں آ ہی جاو گے ۔ہم تو اتنا کہتے ہیں ۔وہ مرد۔ مرد کہلانے کے لائق نہیں جس کی وجہ سے اس کی ہمسفر کی آنکھ میں کبھی دکھ کا آنسو آیا ہو یا کبھی بیوی کو تھپڑ مارا ہومردتو وہ خوبصورت آئینہ ہے جو حاشر بن کر کسی ڈوبتی ہوئی عائشہ کو بچا کرخوشیوں کی سلطنت عطا کرتا ہے مرد تو وہ سایہ ہے جو حاشر بن کر کسی شہزادی کی زندگی کو راحت بخشتا ہےکسی کو فنا ہونے سے پہلے بچا لیا کرو کیوں کےظلم دیکھ کر خاموش رہنا بھی ظلم ہےفیصلہ آپ کا ہے حاشر سا فرشتہ یا اجمل سا درندہ

0 Comments